مجھے ڈر لگتا ہے! – سماویہ وحید




ماما آپکو پتہ ہے مجھے ڈر لگتا ہے.
(ننھی آٹھ سالہ سعدیہ آپنی نم آنکھوں کے ساتھ ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولی) میری پھول جیسی گڑیا آپ کو ڈر کیوں لگتا ہے؟؟ میں آپ کے پاس ہوں ناں…..پھر بھی آپ ڈرتی ہیں. آپ تو بہت بہادر ہیں یاشہ نے سعدیہ کی نمی میں ڈوبی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا

ماما مجھے بابا کی بہت یاد آتی ہے. اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ کافروں سے ہمیں بچا کر پاکستان لے جاتے. ماما یہ بھارتی کب ہماری وادی کو چھوڑیں گے؟؟؟ مجھے اتنا ڈر لگتا ہے جب فائرنگ ہوتی ہے. ماما! مجھے باہر گرے خون سے ڈر لگتا ہے.(ننھی سعدیہ اپنی دُھن میں بولے جارہی تھی)
ہاں میری گڑیا ہم بہت جلد پاکستان کے ہوجائیں گے لیکن ننھی پری آپ نے ڈرنا نہیں ہے کیونکہ آپ کی ماما آپ کے پاس ہے.(یاشہ سعدیہ کا دل بہلانے کی کوشش کر رہی تھی. لیکن سعدیہ آج کچھ زیادہ ہی خوف زدہ تھی)
ماما پہلے ہم اخبار,موبائل اور ٹی وی کے ذریعے فلسطین, عراق, شام, برما اور بوسنیا کے مسلمانوں کے بارے میں سنتے تھے کہ ان پر بہت ظلم کیا جارہا ہے, ان کے گھروں کو آگ لگائی جارہی ہے, ان پر بم باری کی جارہی. اُدھر ہر جگہ خون ہوتا ہے. کیا وہ ہمارے بارے میں بھی سنتے ہیں؟؟؟(سعدیہ روہانستے ہوئے بولی)

کیوں نہیں…..!!! میری بچے وہ آپ کے بارے میں بھی سنتے ہیں. آپ خوش رہیں. آپ زیادہ نہ سوچیں……انشاءاللہ ہم بہت جلد آزاد ہوجائیں گے. (یاشہ نے سعدیہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا)
ماما کب آزاد ہونگے؟؟؟ آپ روز ہی مجھے ایسا کہتی ہیں کہ ہم آزاد ہوجائیں گے….ابھی تک تو ہم آزاد ہوئے نہیں….آپ کو معلوم ہے جب پاکستانی ہمارے بارے میں نہیں سوچتے تو مجھے ان سے بہت نفرت ہوتی ہے. انھیں ہماری کوئی پرواہ نہیں. پھر بھی ہم کیوں ان ست امیدیں لگائے بیٹھے ہیں….؟؟( سعدیہ نے خفگی سے بولا)
میری گڑیا!!! ایسے نہیں بولتے وہ ہمارے لیے لڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن آپ کو معلوم ہے نا بہت بڑی جنگ ہوسکتی ہے. لیکن میری پری وہ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں. آپ نے دیکھا ہے نا مجاہد کس طرح ہمارے لیے لڑ رہے ہیں…..

(یاشہ سعدیہ کو دلاسہ دیتے ہوئے بولی…..لیکن اندر سے اُس کا کلیجہ بھی جل بھن رہا تھا. کیونکہ وہ یہ جانتی تھی کہ پاکستان ہمارے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں. وہ صرف اپنی عیاش بھری زندگی میں مگن ہے) ماما پھر ہم کب آزاد ہونگے؟؟؟ (سعدیہ سوالیہ نظروں سے ماں کو متوجہ کرتے ہوئے بولی)
میری گڑیا آزاد ہونے کے دن بہت قریب ہے. بس آپ روزانہ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں کافروں کے شر سے بچالیں.(یاشہ آنسو ضبط کرتے ہوئے بولی)
جی ماما !!! میں اللہ تعالیٰ سے بہت ساری دعائیں کرتی ہوں کہ پیارے اللہ آپ ہماری مدد کریں. آپ کو پتہ ہے اللہ تعالیٰ مجھے بہت ڈر لگتا ہے. یہ جو بھارتی ہے نا وہ بہت فائرنگ کرتے ہیں انھوں نے میرے بابا کو بھی شہید کردیا ہے. اس لیے اللّٰہ تعالیٰ آپ ہمیں ان سے بچا لیجئے ورنہ یہ ہماری پوری وادی کو جلا کر راکھ کر دیں گے.(سعدیہ نے نمی میں ڈوبی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا)

انشاءاللہ میری جان(یاشہ نے سعدیہ کی ہاں میں ہاں ملائی) ماما جان ………. !! جب میں بڑی ہوجاونگی تو میں بھی ان گندے کافروں سے لڑوں گی تاکہ وہ کبھی دوبارہ ہماری وادی میں قدم نہ رکھ سکے (سعدیہ نے خوشی سے کہا)
“جی جی بلکل میری ننھی پری انشاءاللہ آپ بھی ان کے خلاف لڑنا” (یاشہ نے سعدیہ سے مسکراتے ہوئے کہا)

اپنا تبصرہ بھیجیں