میری عیاش بھری زندگی کا صلہ – سماویہ وحید




آج اس گڑھے میں مجھے لیٹے شاید صدیاں گزر گئی ہیں . کبھی لیٹتا ہوں تو کبھی بیٹھتا ہوں . نہ چل سکتا ہوں …. نہ گھوم پھر سکتا ہوں…. ایسا لگتا ہے دماغی مریض بن چکا ہوں …. نفسیاتی ہو چکا ہو ں، ہر وقت گھبراہٹ کھائے جاتی ہے، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے، بظاہر میں اندھا بھی ہو چکا ہوں …. سب کچھ سنتا بھی اور محسوس بھی کرتا ہوں لیکن کوئی حال دیکھ نہیں سکتا. باہر کیا اندر کا بھی نہیں دیکھ سکتا…. کبھی کبھی اندر کوئی روشنی نظر آجاتی لیکن اُس میں بھی کچھ دیکھ نہیں پاتا.

میرے عزیز و اقارب بھی بہت مطلبی نکلے ہیں….. جن پر میں جان چھڑکتا تھا آج وہی بے وفا نکلے ہیں. ہاں کبھی کبھار کوئی بیٹا آجاتا ہے….تھوڑی بہت دعا کر لیتا ہے جس سے کچھ افاقہ ہوجاتا ہے……لیکن گرمی کی شدت پھر بھی اس دعا پر حاوی ہو جاتی ہے جو میری آنتون کو پکا دیتی ہے….میں اس تنگ قبر میں بہت اکتا چکا ہوں. پسینے نے مت مار دی ہے۔ کبھی کبھی قبر اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ دم گھٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ کے مارے موت کی طلب ہوتی ہے لیکن موت مانگتا ہوں تو قریب تک پھٹکتی نہیں ہے۔ بار بار کوئی کیڑا یا سانپ آکر ڈس لیتا ہے کس تکلیف مزید شدید ہوجاتی ہے۔ جو چیخیں نکلتی ہیں وہ سن کر بھی لوگ میری طرف متوجہ نہیں ہوتے …. کوئی مجھے ادھر آکر نہیں دیکھتا کہ مجھے یہاں سے باہر نکال دے اب اس نے بہت تکلیفیں سہہ لی ہیں۔۔۔اب بیچارے پر رحم ہی کھا لے۔ لیکن رحم ہوتا ہی کیا ہے شاید کسی کو معلوم نہیں….

مطلبی رشتے دار اتنا گہرا دفن کر کے گئے ہیں کہ الل ہ کی پناہ …. نکلنا چاہوں بھی تو نکل نہ سکوں۔ یہ کرب میں مبتلا ہونے کا مطلب شاید میری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے. بظاہر نامئہ اعمال بھی بائیں ہاتھ میں ملا ہے۔ جو میری حالت اس وقت چل رہی ہے وہ اچھے سے اچھے بندے کو بھی جیتے جی مار ڈالے …. لیکن یہاں موت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ….. آہ ….درد کی اتنی شدت ہے کہ الفاظ نہیں… لبوں پر موت کی صدا ہے. لیکن شاید لب سوکھ چکے ہیں اس لیے میری صدا سنی نہیں جا رہی ….ہائے دل کو حوصلہ تو دے رہا ہوں لیکن تکلیف اتنی ہے کہ …..آہ….. بس نہیں چلتا کہ سب کو اپنی جگہ دفن کر کے خود باہر نکل جاؤں ….آہ یہ تکلیف….آہ یہ عذابِ قبر …..!صدیوں بعد موقع ملا ہے آج اس تنگ قبر کی دنیا سے نکلنے کا…. ہر کوئی ایک سمت بھاگے جا رہا ہے . سو میرے قدم بھی خود بہ خود اس طرف بڑھنے لگے….ہر کوئی بے پردہ ہے لیکن کسی کو اپنے اوپر نگاہ ڈالنے کی بھی فرصت نہیں ….

منزل کا کوئی اتا پتہ معلوم نہیں….چلتے چلتے صدیاں گزر گئی ہے….پاؤں میں چھالے بن گئے ہیں…. چلتے چلتے چھالے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان چھالوں سے اب خون بہنے لگا ہے….لیکن منزل پھر بھی کوسوں دور ہے کہ پتہ نہیں مزید کتنی صدیاں گزر جائیں….شدتِ پیاس اتنی ہے کہ مرنے کو جی چاہ رہا ہے. لیکن موت کی صدیوں سے دعا کر رہا ہوں اُس وقت قریب پھٹکی نہیں تو اب کیا پھٹکے گی۔ آخر تھک ہار کر ایک منزل پر پہنچ گئے….میدان اندھیرے سے بھرا پڑا ہے….ہر طرف گہما گہمی کا عالم ہے…. گرمی کی شدت اتنی ہے کہ ایسا لگتا ہے آنتیں ابل کر باہر آجائیں گی۔ لوگ شدت پیاس کی وجہ سے جسم سے نکلنے والا پسینہ تک چاٹ رہے تھے. جب اس سے پیاس نہ بھجتی تو چھالوں سے نکلنے والا خون بھی چاٹنے لگے۔جگہ جگہ لوگ ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے۔ سب اپنی جان کی بھیک مانگ رہے تھے۔ کوئی کسی کے بال نوچ رہا تھا۔ کوئی کسی کو مار رہا تھا ۔۔۔۔

ہر طرف گالیاں ہی گالیاں سننے کو مل رہی تھی۔ لوگوں کو جان کے اتنے کرکے پڑے تھے کہ پاس گزرے شخص کی طرف بھی کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہا تھا۔ جگہ جگہ خوفناک فرشتے ہاتھوں میں بڑی بری سلاخیں لیے گھوم رہے تھے۔ شدت پیاس کی وجہ سے میرے بس سے میری ہی زبان نکل گئی۔ میں بھی اپنا پسینہ چاٹنے لگا لیکن جب اس سے پیاس نہ بھجی تو میں چھالوں سے نکلنے والا خون چاٹنے لگا۔۔۔۔اسی اثناء میں تھا کہ دو شخص میرے قریب آگئے اور اتنی زور سے دھکا دیا کہ میں تپتی ہوئی زمین پر جا گرا، پھر ایک شخص نے میرے بالوں پکڑ کر مجھے جھنجوڑا۔۔۔۔ ان کا چہرہ اتنا بد صورت ہوگیا تھا کہ میں بڑی مشکل سے ان دو مریدوں کو پہچان پایا۔ ان کی حالت جانوروں سے بھی بدتر ہوگئی تھی۔۔۔۔۔پھر دوسرے شخص نے میرے منہ پر زور دار طمانچے مارنے شروع کردیا۔ میں اپنے حواس پہلے ہی کھو چکا تھا اس لیے مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آیا میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔

دونوں شخص مجھے بد دعائیں دینے لگے۔ اللّٰہ رکھیں غارت کرے۔۔۔۔اللّٰہ ہمارے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دے۔۔۔۔یہ ہمیں ورغلاتا تھا۔۔۔ یہ ہمیں جادو کرنا سیکھاتا تھا۔۔۔۔یا اللّٰہ ہماری مدد کر۔۔۔۔ اس پر میں چیخ اٹھا۔ میں بھی ان پر کود پڑا۔ میں نے کہا تھا کہ تم لوگ میرے پاس آؤ ۔۔۔۔ تم لوگ اپنی مرضی سے میرے پاس آتے تھے۔۔۔۔جب کہ تم لوگوں کو یہ پتہ تھا کہ جادو وغیرہ کرنا غلط ہے ۔ تم جانتے تھے کہ یہ دھوکہ ہے ،اس کی سزا بہت سخت ہے۔ ہم اسی طرح ایک دوسرے کو ملامت کر رہے تھے کہ ۔۔۔حساب کتاب شروع ہوگیا۔ ہر بندے کا صدیوں تک حساب کتاب ہوتا رہا۔ نجانے کتنی صدیاں گزر گئی کہ میری باری بھی آگئی ۔ دو فرشتے مجھے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئےلے کر جانے لگے۔ایک کے ہاتھ میں نامئہ اعمال تھا اور دوسرا میرے پیچھے چل رہا تھا۔

رب کے حضور پیش کیا گیا۔۔۔۔میں چاہوں تو بھی سر جھکا نہیں پا رہا تھا۔ رب کے آگے میں سینہ تان کر کھڑا تھا۔ رب نے پوچھا اے بندے! تو نے زندگی میں کیا کیا؟؟ جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن زبان خود بہ خود بے قابو ہوگئی۔ اے رب! میں تیرے دین کو پھیلاتا تھا، لوگوں کی رہنمائی کرتا تھا، تیرے لیے صدقہ خیرات کے تھا ،ُمجھے تیری عبادت کے سوا کچھ ہوش نہ تھا، دنیا کو تیری عبادت کی طرف مائل کرنا میرا نصب العین تھا ۔ ارشاد ہوا تو جھوٹ بولتا ہے۔ اے زبان! بند ہوجا۔ پھر وقفے بعد دوبارہ ارشاد ہوا نامئہ اعمال پڑھا جائے۔۔۔۔ چنانچہ فرشتے نامئہ اعمال پڑھنے لگے۔۔۔۔ سب سے خاص بد اعمالیاں جادو کرتا تھا، پھر لوگوں کو سیکھاتا تھا، شرک کرتا تھا، اپنے آپ کو خدا منواتا تھا، موسیقی کی دھن ہر وقت اس کے گھر میں چلتی تھی ، فحش کام کرتا تھا ، زنا، حرام خوری، عورتوں کے ساتھ بدکاریاں، دکھاوے کا پیر بنا بیٹھا تھا، قاتل وغیرہ ۔ میں دل ہی دل میں اپنی دنیا کی بد اعمالیوں پر پچھتا رہا تھا کہ میرا سب کچھ اس ایک دن میں، کچھ ہے لمحوں میں کھل گیا تھا ۔۔۔۔

ارشاد ہوا۔۔۔۔ کیا یہ تم کرتے تھے؟؟ اس پر میرے اعضاء بولنے لگے ۔ مالک یہ شخص ہم سے اس طرح کی بدکاریاں کرواتا تھا۔۔۔ دوبارہ ارشاد ہوا۔۔۔نامئہ اعمال تولا جائے۔۔۔چنانچہ نامئہ اعمال تولا جانے لگا۔ سب سے پہلے برائیاں رکھی گئی۔ بد اعمالیاں اتنی تھی کہ بدی کا پلڑا جھکتا ہی چلا جارہا تھا۔۔۔۔ اس کے بعد نیکیاں رکھنی شروع کی گئی۔۔۔۔۔ایک، دو، تین، چار، پانچ اور بس نیکی کا پلڑا زرا بھی نہیں ہلا تھا۔۔۔۔۔اسی کے ساتھ اپنا انجام معلوم ہوچکا تھا۔ دل میں سوچا کہ میں نے تو اتنی ساری نیکیاں کی تھی لیکن یہاں پر کم کیسے ہو گئی۔۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ بادشاہ ہے دل کےاحوال تک جان لیتا ہے۔۔۔۔رب نے کہا! اتنی کم اس لیے ہے کہ تو دکھاوے کی کرتا تھا ۔۔۔رب کا دل کی بات پڑھ لینا میرے دل کو کاٹ گیا۔۔پھر رب نے فرشتوں سے مخاطب ہوکر کہا۔۔۔کون ہے تمہارا رب ؟؟ چنانچہ سب نے یک زبان ہوکر کہا۔۔۔۔ آپ ہے ہمارے رب سب کی زبان شکر کے کلمات سے بھر گئی۔۔۔۔۔ ہر طرف لا الہ اللّٰہ کی صدائیں گونجنے لگی۔۔۔۔۔ سب سجدے میں گر گئے لیکن میں جھکنا بھی چاہوں تو بھی جھک نہیں پا رہا تھا۔۔۔

اسی اثناء میں تھا کہ ارشاد ہوا۔۔۔۔ دوزخ ہے اس کا انجام ۔۔۔۔ فرشتے میری طرف لپکے میرے ہاتھوں ک رسیوں سے باندھ دیا گیا۔۔۔ اور نامئہ اعمال بائیں ہاتھ میں دے دیا۔ بظاہر وہ رسیاں نظر آرہی تھی لیکن وہ اژدھوں کی مانند تھی۔ جو مجھے ڈس رہی تھی۔ فرشتے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ کے کنارے لے آئے۔ دوزخ کے شعلے پہاڑ سے بھی بلند اٹھ رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل پھٹ رہا تھا ۔۔۔ کلیجہ منہ کو آگیا تھا۔

آہ ۔۔۔۔انتہائی تکلیف ہورہی ہے۔ سانپ ڈس رہے ہیں۔ فرشتے سلاخیں گرم کر کر کے جسم پر مار رہے تھے۔ آہ چھلنی چھلنی ہوگیا ہوں میں۔۔۔ بچاؤ مجھے ۔۔۔خدا معاف کردے۔۔۔جواب میں اب کوئی معافی سنی نہیں جائے گی۔دنیا کی زندگی معافی مانگنے کے لیے تھی۔ اب صرف عیاش بھر زندگی کا صلہ بھگتو۔ مارے پیاس کے شدت سے منی سے پانی نکلتا ہی تھانہ فرشتے خون اور پیپ منہ میں ڈال دیتے۔۔۔۔ لیکن پھر وقفے بعد پیاس کی شدت ستانے لگتی۔ موت مانگو تو بھی نہیں آرہی تھی۔ آج لگتا تھا موت خود ہی مر گئی ہے۔ زقوم کی کانٹے دار جھاڑیاں جسم کو چھلنی کر کے باہر نکل جاتی تھی۔ آہ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔ افسوس میری بد اعمالیوں پر ۔۔۔۔ افسوس میری دنیا کی بادشاہی پر۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔ تکلیف ہے مجھے۔۔۔۔کاش دنیا میں کچھ نیک اعمال کر لیے ہوتے۔۔۔۔۔آہ یہ آگ میں ابلتی سلاخیں۔۔۔۔یہ بچھو۔۔۔۔۔ سانپ۔۔۔۔پیپ ۔۔۔۔خون۔۔۔۔زقوم۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔درد ہورہا ہے۔۔۔۔

انسان دنیا میں کتنے گناہ کرتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ آخرت میں اس کا کیا انجام ہوگا ، اسے کس طرح کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ تو انسان کی عقل کے مطابق عذاب ہے لیکن ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اپنے گناہوں کی پاداش میں ہمیں روزِ محشر کیا کیا عذاب بھگتنے پڑے گئے۔ اس لیے عزیزوں ! اس چند روزہ زندگی کا فائدہ اٹھاؤ۔ اور اپنی جنت کو اپنے ہاتھوں سے نکلنے سے بچاؤ کیونکہ جب جنت ہاتھ سے نکل جائے گئی تو صرف دوزخ ہی میسر ہوگئی۔ اللّٰہ سے ہر وقت جنت کی طلب کرتے رہو کیونکہ وہی ہمارا بادشاہ ہے جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں