اول و آخر فنا … منزل آخر فنا – تیمیہ صبیحہ




اب سے عشرہ قبل جب ابا خاک کی چادر اوڑھے ماڈل ٹاؤن کی اسی مٹی میں جا سوئے جس کی آبادی اور ہریالی میں بڑا حصہ انکی سوسائٹی، مالی اور سینٹری سٹاف کا تھا، وہ یہی مہینہ تھا اور ایسا ہی موسم تھاـ ماڈل ٹاؤن ایک قصبہ تھا ( جیسا کہ چھیالیس سینتالیس کی رودادوں میں ذکر تھا) یا محلہ تھا ( جیسا کہ ایل ڈی اے کے کاغذ دیکھ کے محسوس ہوتا تھا ) یا لاہور کی ایک پاش آبادی تھی ( جیسا کہ ارد گرد لوگ سمجھا کرتے تھے) ـ

جو بھی تھا ہم حسب موقع کچھ بھی کہ لیا کرتے تھے ـ البتہ ابا کا دل اُدھر جالندھر کی حویلی اور اِدھر ماڈل ٹاؤن میں پنڈت کے بناے بنگلے کے در و دیوار سے برابر ملا ہوا تھا ـ انہیں اپنے ماضی سے عشق تھا یا حال سے محبت تھی ہمیں نہیں معلوم تھا ـ لیکن مختلف بلاکوں میں واقع بڑی بڑی زرد رنگی کوٹھیاں، بڑے بڑے لانوں کے بیچ کھڑے بنگلے اور ان میں آباد مکیں سب ہمیں کچھ اپنا ہی خاندان محسوس ہوتے کہ وہ سب ابا کے روزمرہ محبت بھرے تعلق کا حصہ تھے ـ ان گھروں کے باشندوں کی اکثریت بٹوارے کے بعد کلیم میں حاصل کیے گیے، ہندووں اور سکھوں کے متروکہ بنگلوں میں بیسویں صدی کے اوائل کی تہذیب سنبھالے، ایک منہ زور جدید کلچر میں ابھرتے نو دولتیے سماجی ڈھانچے کے بیچ ڈولتے تھے ـ کہیں کوئی نواب صاحب، انکے ڈیوڑھی، برآمدے اور کھلے لان لوازمات سمیت چاے سجاے دھیرے دھیرے شام کا استقبال کرتے، کہیں ہندوستان میں چھوڑی میراث کا ذکر، کہیں کسی تجارت اور کارخانے کی بات ، کوئی سیاست کی گتھیان سلجھاتے ہوے، کہیں سوتی ساڑھی باندھے بوا صولت ابا کی بہن بنی راز نیاز کرتیں.

کہیں پان چباتے علی گڑھ میں اپنے میکے کی داستاں سناتی کوئی منی بی، کسی آنگن میں تخت پر گاؤ تکیہ سے سہارا لگاے بڑی دادی جنکے پاندان سے کچھ پانے کی امید پر ہم گرداگرد منڈلاے جاتے ، وہیں وہ بیگم قریشی جنہوں نے گھر تو نیا بنا لیا مگر آڑے غرارے نہ چھوٹ سکے، ارے! کیا بتاؤں جس روز شلوار پہن لوں پائنچہ بھیگتا ہی رہتا ہے، ادھر ہی وہ بڑے بڑے آنگنوں میں ہونے والے میلاد اور بیان ـ بیبیوں کا اک دوجے پر چڑھ کے بچوں کی ریں ریں اور کان پڑے شور میں وعظ سننا، ہندوستان کے علما کا آنا اور ہمیں زیارت اور دعا کے لیے لے جایا جانا، ادھر صحن میں دریاں، پیڈسٹل فین، مفتی و مولانا صاحبان ، بسم اللہ اور آمین کی تقریبات، عربی اور فارسی کی تعلیم ـ کیسا گنگا جمنی محلہ تھا اور کیسا بوقلموں بچپن تھا ـ اسی کاسموپولیٹن محلے میں مشرقی پنجاب کے مہاجر اور انکے جالندھری، امرتسری لہجے رنگارنگ رواج ـ سیاست اور تجارت دونوں کوٹھوں نہ چڑھی تھیں، اسی سادہ تہذیب سے سجے میاں محمد شریف مرحوم اور میاں عامر محمود کے گھروں میں صحن میں بچھی چارپائیوں پر یا چاندنی بچھی فرشی نشستوں پر بیٹھ کے امیوں کی گفتگو میں بھرپور طفلانہ مداخلت ہمارا سر چڑھا شوق رہا ـ

انہی امیوں سے بیگمات کا کلچر معلوم ہوا جن سے ماڈل ٹاؤن لیڈیز کلب میں ماہانہ انتہائی رسمی ملاقات کچھ خاص مرغوب نہ تھی ـ خیر نستعلیق بیگمات لڑکپن کی شوخ الہڑ یادوں کی مانند ذہن کے ناسٹیلجیا میں فٹ ہو رہیں ـ بیگم نجم منور علی، بیگم نواب مشتاق احمد خان ، آپا نثار فاطمہ اور .. اور جنکے نام بھول گئے، نقش باقی رہ گئے ـ وہ ہمارا بڑا سا لڑکیوں کا سکول جس میں عمارت پر میدان غالب تھے، اب خوابوں اور خیالوں کا ساتھی ہے ـ ہماری طرح دار استانیاں ـ مس افشیں اور انکے کرکٹر بھائی سرفراز نواز ـ مس عابدہ، مسز نسرین قریشی، مسز جعفری، مسز رفعت قریشی، مسز مدان، مسز بھٹی، مسز چوہدری اور اور طویل فہرست ہے رکھ رکھاؤ تہذیب سلیقہ سے گندھی وہ علامتیں ـ جو کلاس میں فزکس کے نیومیریکل ، میتھس کے تھیورم ، کیمسٹری کا پیریاڈک ٹیبل، غالب اقبال کے شعر، ورڈز ورتھ کی رومانویت ، بال کس کے باندھنے ، بدن کی صفائی، کباب گول بنانے، چاول دم دینے اور شمیز پہننے جیسے موضوعات پر یکساں لیکچر عنایت فرماتیں ـ خیال کا گھوڑا کس کس سے ملاقات کراتا ہے ـ

اک روز یونہی بھاگتے بھاگتے ہم جی بلاک کے باہر شہر خموشاں میں مقیم اپنے دادا دادی تایا پھپھو سے ملنے چل پڑے ـ ادھر گھنے پیڑوں تلے بھاگتی گلہریوں کے ہمراہ فاتحہ کہ کے ادھر ادھر دیکھا تو چند اور محلے داروں سے ملاقات ہوئی ـ کبھی عطا الحق قاسمی اس خاموش شہر کے مکینوں پر کالم لکھ چکے ہیں ـ ان کے والد صاحب کے پہلو سے ہوتے ہم آگے بڑھے تو فیض صاحب نے روک لیا ـ ہاتھ اٹھاے تو ایلس کی سوالیہ نظریں لپٹ گئیں ـ بھلا اس شہر میں فیض صاحب کو بیس فٹ طویل اور ایلس کو اسکا نصف حصہ کیوں ملا؟ اس معمے کی ہمیں سمجھ نہ آئی اور خدا سے حرف دعا مانگتے ہوے اگلے پڑاؤ جا اترے ـ یہاں ابا کے پیچھے ہمارے سکول کی معروف استانی مسز کوثر مدان آسودہ ہیں ـ کیا شاندار خاتون تھیں ـ انگریزی کی استاد، رعب دبدبہ نظم و ضبط اپنے پیشے سے محبت ـ پاکستانی پارسی خاندانوں اور انکی تعلیمی و سماجی خدمات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو اول وہی یاد آتی ہیں جو دین بدل کے اپنے مسلمان شوہر کے ہمراہ اسی محلے کی خاک اوڑھے سو رہی ہیں ـ چند قدم ادھر خادم قرآن جناب اسرار احمد صاحب گلاب کی پنکھڑیوں تلے محو خواب ہیں ـ

وہاں ہاتھ اٹھائیں تو کبھی قبرستان کے پاس کھڑی قرآن اکیڈمی میں انکی نشست مجسم ہو جاتی ہے کبھی پیس ٹی وی اور یو ٹیوب پر وہ علم دانش لٹاتے زندہ جاوید نظر آتے ہیں ـ اس سے چند قدم کے فاصلے پر ابا کا گھر ہے ـ یہاں زیادہ دیر کھڑے رہنا مشکل ہے ـ گلے میں گولے سے اٹک جاتے ہیں، آنکھیں بے دید ہو جاتی ہیں، دل پھڑپھڑاتا ہے کہ سینے کے پنجر سے نکل بھاگے گا ـ پھر نظر آتا ہے وہ ادھر انہی ساتھیوں کی مجلس میں بیٹھے ہیں، ایک ہاتھ میں سیپارہ دوسرے میں ننھی سی تسبیح ہے ـ ضرور ہرا بھرا باغ ہوگا ـ جانے قاری عبد الباسط اور قاری خوشی محمد کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوں گے یا اپنے ارد گرد کچھ ننھے بچوں کو بٹھاے کوئینز انگلش پڑھاتے ہوں گے ـ وکٹوریا اور الزبتھ کے انگلستان کا جنت میں کیا کام! ہے چھی .. مگر ابا قرآن کی تجوید اور برطانوی انگریزی لہجے پر کسی قسم کا کمپرومائز نہ کرتے تھے ـ ابا کی ذات میں شعوری یا لاشعوری متضاد کلونیل ردعمل کا اظہار بڑا بھرپور تھا ـ ولایت کبھی اکسلنس کا استعارہ بن جاتا اور کم بخت فرنگی “لُٹ کے کھا گئے “ایک نفرت آمیز گالی تھی ـ تقسیم ہو چکی ـ

جغرافیہ بدلا، تاریخ اور اسکا بیانیہ بدلا ـ مڑھیاں میں اب چتا نہیں جلائی جاتی، ڈی بلاک کا مندر آسیب زدہ ہو چکا ـ اب ادھر سب مکینوں کے دو گز خاکی گھروں کو بکائن کے درختوں نے ڈھانپ لیا ہے ـ اس کا تنا کچھ دیر کپکپاتے بدن کو سہارا دیتا ہے ـ میں ایک شاخ پکڑتی ہوں پھر مٹی پر ہاتھ رکھتی ہوں، یہ سوچنے کے لیے کہ جب اس کے اندر لیٹنا ہوگا تو کیسا بستر ہوگا ـ ٹھنڈا، گیلا، نرم، گرم، خشک !! اللہ! ایک بتی جلا دیجیے گا ادھر اندھیرا نہ ہو ـ اور یہ مکوڑے .. یہ چیونٹیاں .. دو تین ہتھیلی پر سے رینگ گئیں ـ آج خارش نہیں ہوئی ـ کچھ اپنا اپنا سا مکاں لگنے لگا ہے ـ ـ ادھر اگلی رو میں پھپھو لیٹی ہیں ـ پنجابی امریکی پھپھو! ” تیمی! مائی سویٹ لٹل ڈارلنگ! ڈونٹ کرائی، کم آن ” مائی رولی پولی! ” لٹل تیمی کو مایوں بٹھا کے سہاگ گیت گاتی ہنستی کھلکھلاتی زور سے قہقہے لگاتی، گھر داخلے پر فی البدیہہ شعر گا گا کے انگریزی اور پنجابی استقبال کرتی ہماری چھوٹی پھپھو جو گاتی انگریزی میں اور ڈانٹتی ہمیشہ جالندھری پنجابی میں تھیں ـ

” اویس! مائی بے بی! مائی بے بی برادر ! وئیر آر یو؟ آئی ایم کمنگ ”
کہتی چار ماہ بعد ہی ابا کے برابر جا سوئیں ـ دل کے ٹکڑے یہاں وہاں گرتے ہیں اور ادھر ہی رہ جاتے ہیں ـ ڈولتی چال سے چلتے جب واپس نکلنے لگیں تو بڑے تایا بلاتے ہیں ـ امریکی جنٹلمین، ایس ایم ظفر کے کلاس فیلو جگری دوست ماڈل ٹاؤن میں خاندان کا بوٹا لگا کے خود دور دیس سدھارے انہیں بھی یہ مٹی واپس کھینچ لائی ـ کیسی کشش تھی ـ پھر ادھر ایک سرے پر منیر نیازی ملے:

کل دیکھا اک آدمی ، اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں،جیسے خوشبو پھول میں

اسی آدمی کے پاس دونوں ہاتھوں سے کچھ پھول گرائے ، کچھ نالے بہائے ـ سفر تمام ہوا ـ دھول کا پیرہن کیا ـ ہم نے واپسی کا رخ کیا ـ رستے میں کچھ جھاڑیوں میں الجھتے اپنے استاد نانا جی کو بتایا کہ مجھے اکٹو پیسو ڈائرکٹ ان ڈائرک…

اپنا تبصرہ بھیجیں