کوئی بھی کچھ بھی جانتا ہے تو معلم کے طفیل – حمنہ راشد




“فارعہ اس کلاس میں پڑھتی ہیں ؟” مس دعا  نے  کلاس میں جھانکتے ہوئے مس فرخندہ سے پوچھا.
 “جی یہ رہیں فارعہ .”  مس فرخندہ نے تختہ سیاہ پر لکھتے ہوئے رخ موڑا اور اشارے سے بتایا
” بس دو منٹ کے لئے بھیج دیں ..ایک کام ہے ..لے جاؤں ؟” مس دعا نے درخواست کرتے ہو ئے اجازت چاہی .

“جی جی لے جائیں بس جلدی واپس بھیج د ئیے گا !  بہت اہم ٹاپک پڑھا رہی ہوں میں ..”  مس فرخندہ  نے مصروف سے انداز میں کہا ـ
 “اوکے اوکےآپ فکر نہ کریں!  ” مس دعا نے جلدی سے کہا اور فارعہ کو باہر آنے کا اشارہ کیا ۔
مس نے فارعہ کو چند فائلیں پکڑائیں اور کہا “یہ میڈم  کے آفس میں دے آئیے  اور ہاں بتادیجئے گا کہ  مس دعا نے بھجوائیں  ہیں .” مس دعا  نے سمجھاتے ہوئے  کہا . “جی مس  صحیح ہے .”فارعہ نے سر ہلاتے ہو ئے کہا اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی .
میڈم تک فائلیں اور مس دعا کا پیغام پہنچا کر وہ فوراًاسٹاف روم پہنچی مس دعا کو اطلاع دے کر واپس اپنی کلاس میں آگئی .اس کام میں اسے بمشکل پانچ منٹ لگے .کلاس میں آ کر اس نے  جلدی جلدی بورڈ پر سے سوالات اتارے . مس نے بھی پڑھاتے پڑھاتے پچھلی باتیں دہرا دیں تاکہ فارعہ کو سمجھنے میں مشکل نہ ہو .
 
اگلا پیریڈ مس رمشا  کا تھا .انہوں نے کلاس میں آتے ہی کہا “سب اپنی  بکس لے کر ملٹی میڈیا روم میں آجائیں .فارعہ  آپ آخر میں کلاس کی فینز اور لائٹس آف کرکے آئیے گا.”  یہ کہ کر وہ  جس تیزی سے  آئیں تھیں اسی تیزی سے واپس پلٹ گئیں . فارعہ نے “جی مس ” کہ کر اپنی ہم جماعت سہیلیوں کو باہر بھیجا اور کلاس کے پنکھے اور بتیاں بند  کرکے ملٹی میڈیا روم کی طرف بڑھنے لگی . راہداری سے گزرتے ہوئے اس نے سامنے سے آتی مس کو سلام کیا .مس نے سلام کا جواب دے کر کہا ” اگر اپ نیچے والے فلور پر جا رہی ہیں تو کلاس فور میں شائستہ کو کہہ دیجئے گا کہ انکی ورک شیٹس تیار ہوگئیں .”فارعہ جلدی سے “یس مس” کہہ کر اگے  بڑھ گئی . اب وہ تقریباً دوڑ رہی تھی کیونکہ اب مس کا پیغام بھی پہچانا تھا .مس شائستہ تک اطلاع پہنچا کر وہ ملٹی میڈیا روم پہںچی تو مس رمشا کچھ ڈھونڈ رہیں تھیں .اسے دیکھ کر کھل اٹھیں اور فوراً کہا  ” فارعہ میری یو ایس بی (USB) نہیں  مل رہی ایسا کرو اوپر اسٹاف روم میں میرا بیگ رکھا ہوا ہے شاید اس میں رہ گئی ہو بھاگ کر لے آؤ ” گو کے پہلے ہی بھاگ دوڑ سے فارعہ کی سانس پھول گئی تھی لیکن وہ ” ابھی لیں مس ” کہہ کر پلٹی اور اور اوپر کی جانب دوڑلگا دی .

اسٹاف روم سے بیگ لا کر مس کو دیا اور پھر مس کی یو اس بی بھی بیگ سے برآمد ہوئی .مس رمشا جو کافی پریشان ہوگئیں تھیں فارعہ کو گلے لگا کر بولیں “جزاک اللہ بیٹی!! اللہ تمہیں خوش رکھے .”  فارعہ کو تو جیسے  اپنی ساری بھاگ دوڑ کا صلہ مل گیا . وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور اپنی دوست کے ساتھ جگہ  بنا کر بیٹھ گئی .
“یار تم عجیب ہو!”  فروا اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولی . “وہ کیسے ؟ ” فارعہ نے بھی جواباً اسے گھورتے ہوئے کہا .
“مطلب یہ کہ ساری ٹیچرز  تمہیں اپنے کاموں کے لئے ادھر سے ادھر بھاگتی  رہتی ہیں اور تم احمقوں  کی طرح  دوڑتی رہتی ہو .مجھے بھی ایک دفعہ مس تسمیہ نے کہا تھا ‘ یہ کتابیں میری ٹیبل پر رکھ آؤ ‘ میں نے تو صاف انکار کر دیا …تم بھی ایسا ہی کیا کرو ”  فروا نے غصّے سے کہا جیسے سارے کام  وہ  کر رہی ہو  .

“کیا تم نے واقعی مس سے ایسے  ہی کہا تھا ؟ “فارعہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے  کہا . “ہاں تو اور کیا ؟ “فروا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا .
فارعہ نے گہری سانس لی اور پھر کچھ کہنے  کا ارادہ ہی کیا کہ مس نے پڑھانا شروع کر دیا. ” اس کے بارے میں وقفے میں بات کریں گے . ”  اس نے جلدی سے کہا . ویسے بھی اسے معلوم تھا کے فروا کو سمجھانا آسان نہیں ہے . وقفے میں دونوں اپنے لنچ باکس لے کر گراؤنڈ میں پہنچ گئیں . فروا نے دیکھا کہ فارعہ راستے میں ملنے والی ہر ٹیچر سے سلام کر رہی ہے اور ٹیچرز اس کے سلام کا جواب دیتی اور اس کو دعائیں دیتی آگے بڑھ جاتیں .اس کی حیرانی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب اس نے دیکھا کےدوسری  کلاسز کی  ٹیچرز بھی نا صرف  فارعہ کے نام سے واقف ہیں بلکہ وہ بھی باقی ٹیچرز کی طرح اسے دعائیں دے رہی ہیں . گراؤنڈ کے کونے میں رکھے  بینچ پر بیٹھتے ہیں فروا  پھٹ پڑی،

 “یار یہ ساری ٹیچرز تمہیں کیسے جانتی ہیں ؟ اور یہ دعائیں کیوں دے رہیں تھیں ..اور میں بھی تو تمھارے ساتھ تھی مجھے تو دیکھا بھی نہیں بلکہ انھیں تونظر ہی نہیں آرہا تھا کہ میں بھی ساتھ ہی کھڑی ہوں انھیں تو  صرف تم ہی تم نظر آرہی تھی . ” فروا نے اسے رشک سے دیکھتے ہوئے پر شکوہ لہجے میں کہا  . فارعہ گہری سانس لے کر مسکرائی . اس نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی مشکل اتنی آسانی سے حل ہوجائیگی .
“تم جس بات پر مجھے بیوقوف قرار دے رہی تھی اسی کام کی وجہ سے مجھے اتنی دعائیں  ملتی ہیں اور یہ دعائیں  میرے لئے بہت قیمتی ہیں . میری امی  نے ایک دفعہ  مجھ سے کہا تھا

 ‘جو اپنے اساتذہ کی عزت نہیں  کرتا وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوتا ہے اور جو اپنے اساتذہ کا ادب و احترام کرتا ہے اور ان کو وہ عزت و تکریم دیتا ہے جو ان کا حق ہے وہ دنیا میں اعلی مقام پاتا ہے . ‘ ”  یہاں تک کہ کر فارعہ لمحے بھر کو رکی اور فروا کے تاثرات کا جائزہ لیا .وہ مکمل طور پر اسکی باتوں سے متاثر نظر آرہی تھی .فارعہ نے لوہا گرم دیکھ کر مزید چوٹ لگانے کا ارادہ کیا اور کہا  ” استاد کا ادب صرف یہ نہیں ہے کے وہ جو بولیں اس کے جواب میں’ جی مس ‘کہہ  دیں استاد کا تو یہ ہے کے اگر ان کا قلم بھی نیچے گر جائے تو ان کے جھکنے سے پہلے وہ قلم اٹھا کر ان کے ہاتھ میں دیدیں .استذہ کے ذرا ذرا سے کام کردینا کوئی بڑا کام نہیں . کبھی ایسا ہوا کہ تم وقفے یا چھٹی کے وقت  کسی ٹیچر سے کوئی ٹا پک سمجھنے گئی ہو اور وہ  یہ کہہ کر کہ  میں اس وقت پڑھانے کی پابند نہیں .ہوں ، انکار کردیں؟  نہیں ہوا نہ ایسا کبھی .”فارعہ نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا  .

تم ان کے پاس اپنا کوئی بھی مسلہ لے کر جاؤ وہ  اسے حل کرنے میں تمہاری مدد کرتیں ہیں ناں .پھر تمہارا فرض اور انکا حق بنتا ہے کہ تم ان کی تکریم کرو . ابھی تم جو کچھ ہو ان ہی کی بدولت ہو اور مستقبل میں جو کچھ بنو گی ان ہی کہ طفیل بنو گی . تمہیں صحیح اور غلط میں فرق کرنا انہوں نے سکھایا . تمہاری صلاحیتوں کو انہوں نے ہی  نکھارا . تم تو اس ہیرے کی مانند تھی جو کان سے نکلا ہو اور اس میں کوئی چمک نہ ہو بلکہ اس میں اور عام پتھروں میں کوئی فرق ہی نہ ہو.یہ تمھارے اساتذہ ہی ہیں جنہوں نے تمہیں وہ ہیرا  بنایا جس کی چکاچوند  نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے .

ممکن ہے کہ تمہیں اساتذہ کی نصیحتیں بری لگتی ہوں لیکن آگے جاکر انکی نصیحتیں تمھارے  سب سے زیادہ کام آینگی کیونکہ ہمارے اساتذہ کی  عمر ،علم اور تجربے  ہم سے  زیادہ ہیں اس لئے وہ جانتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا . فارعہ ابھی یہیں تک کہ پائی تھی کے فروا بول پڑی ،”فارعہ میں نے کتنی بری طرح سے جواب دیا تھا مس تسمیہ کو …ان کو کتنا برا لگا ہوگا …کیا سوچتی ہونگی وہ …میں واقعی بہت شرمندہ ہوں اپنی اس حرکت پر …” فروا کے چہرے سے عیاں شرمندگی بتا رہی تھی کے فارعہ کی اتنی لمبی تقریر رائیگاں نہیں گئی . “کوئی بات نہیں ..!!” فارعہ نے کہا . .” کیا کہا ؟ ‘کوئی بات نہیں ‘ میں سمجھی نہیں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو .”فروا نے اسے یوں گھورا جیسے اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں .
” ارے میرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم شرمندگی محسوس کر رہی ہو تو جاکر مس تسمیہ سے معافی مانگ لو . ” فارعہ نے مفت کا مشورہ دیتے ہوے کہا .

” اور اگر انہوں نے ڈانٹ  دیا تو ؟ ” فروا نے گھبراتے ہوئے پوچھا .
” اول تو وہ ڈانٹیں گیں  نہیں  اور اگر ڈانٹ بھی دیا تو تھوڑی سی ڈانٹ کھانے سے تمہاری صحت پر کوئی  اثر نہیں  پڑے گا ” فارعہ نے اسکی گھبراہٹ دور کرتے ہوئے ماحول کو خوشگوار کیا .
“اچھا  چلو ٹھیک ہے .” فروا نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسٹاف روم کی طرف قدم بڑھا دیے .اسٹاف روم کے دروازے پر پہنچ کر فروا کے چہرے سے گھبراہٹ پھر ظاہر ہونے لگی .اس کی حالت پر رحم کھا تے ہوئے فارعہ نے اسے وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود اجازت لے کر اندر داخل ہوگئی .
” مس آپ تھوڑی دیر کے لئے باہر آکر ہماری بات سن سکتیں  ہیں ؟ ” اس نے مس تسمیہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا جو کاپیوں کا ڈھیر سامنے رکھے انھیں چیک کرنے میں مصروف تھیں . جی کیوں نہیں ! بلکل ! ” مس تسمیہ نے سر اٹھا کر فارعہ کو دیکھا اور جواب دیا پھر اپنا قلم رکھ کر کھڑیں ہوگئیں . “جزاک الله ” فارعہ نے کہا اور ان کے ساتھ چلتی ہوئی باہر آگئیں .

باہر کھڑی فروا نے مس کو آتے دیکھ کر سلام کیا . مس نے جواب دیتے ہوئے اس کی چہرے کو بغور دیکھا اور پوچھا “کیا ہوا بیٹا اتنا پریشان کیوں لگ رہی ہو ؟ مجھے بتاؤ اگر کوئی مسلہ ہے تو ؟ ” مس کے ان جملوں نے فروا کی شرمندگی میں مزید اضافہ کردیا . پہلے پہل تو وہ کچھ کہہ  ہی نہ سکی .پھر رک رک کر بولنا شروع کیا  ” مس بات دراصل یہ ہے کہ ……….وہ آپ نے ایک دفعہ مجھے کچھ بکس دیں تھیں ناں …. اور ٹیبل پر رکھ کر آنے کو کہا تھا ….میں نے آپکو  بدتمیزی سے منع کر دیا تھا …..حالانکہ نہ تو میں جلدی میں تھی نہ میں مصروف تھی …..لیکن مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میں نے غلط کیا تھا …مس میں اپنی اس حرکت پر نادم ہوں …..میں…..میں …” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے.قریب تھا کہ وہ رو پڑتی کہ مس نے اس کے شانے پر ہاتھ  رکھ کر اس کی شرمندگی مٹانے کو کہا ، ” ارے بیٹا کوئی بات نہیں اس بات کو تو ویسے ہی کافی دن گزر گئے اور ویسے بھی صبح  کا بھولا شام کو گھر آجائے  تو اسے بھولا نہیں کہتے .” مس کے اس جملے پر پیچھے کھڑی فارعہ مسکرادی .

” اللہ تمہیں دنیا اور آخرت کی کامیابوں سے نوازے اور تمھارے لئے ہر منزل آسان کرے .” مس نے فروا کے گال تھپتپاتے ہوئے دعا دی تو اسے خوشی اپنے انگ انگ سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی .

اپنا تبصرہ بھیجیں