خزاں کے پتے – جویریہ سعید




ذہن تھکا ہوا اور دل پژمردہ تھا . تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے .. اور دور کے سفر میں تھکن اور مایوسی تو بار بار راستہ روکتی ہی ہے. تیزی سے کاموں کو سمیٹ کر ایک اور تھکے ہوے دن کی تکمیل پر بوجھل دل سے شکر ادا کرتے باہر آگئے. پت جھڑ کی بھیگی شوخ ہوا نے شرارت سے چھوا تو طبعیت سرشار ہو گئی.

ہلکی ہلکی بارش میں شوخ ہوا زرد پتوں سے ڈھکے پیڑوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی تھی، خزاں رسیدہ درختوں کے یہ پتے بھی اس قدر نازک مزاج واقع ہوئے ہیں کہ ذرا شرارت پر جیسے کوئی منہ پھلا لیتا ہے، یہ اپنے پیڑوں کا ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں. سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے گھاس کے قطعہ پر ایسے ہی سوکھے زرد خفا پتوں کے ڈھیر لگے تھے. اداس طبیعت پر خوشی کی ہوا کا ایک جھونکا سا گذرتا ۔۔۔ “خداۓ مہربان نے ہمارے بہلانے کو سارے شہر کو پت جھڑ کی حسین رت سے سجا دیا ہے”. ہم مسکرا دیے. کل خزاں منانے کا دن قرار پایا. ایک الگ طرز سے اور ایک الگ جذبے سے “سبحان اللہ ” کہنے کی آرزو مچل رہی تھی.

بچوں کو پت جھڑ رت کے رنگ پہناۓ. فرمان جاری کیا .. “خیال رکھئے آپ کی قمیص کا رنگ یا سرخ ہو، یا زرد یا نارنجی! اس کے سوا کچھ پہننے کی اجازت نہیں ہے! ” کمپیوٹر پر گیم کھلتے ہوے اٹھائے جانے پر صاحبزادے کا منہ بنا ہوا تھا. ہم نے کچھ پروا نہ کی. سب کو گاڑی میں لاد کر شہر بھر میں چکراتے پھرے. جنگل میں چہل قدمی، جھیل کنارے پارک میں بھاگنا، شہر کے پرانے علاقوں میں جہاں گلیوں میں بڑی عمر کے درختوں کی بہتات تھی، دریا کے ساتھ ساتھ۔ خزاں کی بہاریں ڈھونڈتے آنکھوں کہ تراوٹ کا سامان کرتے رہے۔ کیلگری کنیڈین راکیز کا داخلی دروازہ ہے، Bow River (شاید دریاۓ کمان کہہ سکتے ہوں!! ) شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے. اس کے ساتھ دونوں طرف درختوں کی قطاریں ہیں .شہر میں کچھ تالاب، جھیلیں اور ندیاں بھی ہیں. اور ان کے ساتھ ساتھ درختوں کے جھنڈ میں چہل قدمی کے لئے پگڈنڈیاں ہیں. ان راستوں پر پڑے خشک پتوں پر بھاگتے ہیں۔ بچوں کو اللہ کریم کی حسین کائنات کی رنگارنگی پر شکر گذار ہونے کا کہتے ہیں۔

انہی راستوں پر کہیں خشک پتوں پر چلتی ایک پیاری سی سیاہ بلی آ نکلتی ہے اور ابراہیم کے پیروں پر سر رگڑنے لگتی ہے۔ ہوا خنک ہے …….. سورج غروب ہونے کو ہے اور وہی سرشاری اور خوشی کی کیفیت جس میں بے نام سے درد کا بھیگا بھیگا سا احساس گھلا ہوتا ہے سارے وجود کو ہلکا پھلکا کردیتی ہے ۔ جب میں نے ٹانگیں سیدھی کر کے سر نشست کی پشت سے لگایا تو اپنے ساتھی سے مسکرا کر کہا رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہ افسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں