“صبر” پہلا قرینہ ہے “غم” کے قرینوں میں – ڈاکٹر خولہ علوی




“صدیقی صاحب آج صبح تہجد کے وقت فوت ہو گئے ہیں۔” ارمغان صاحب نے نومبر کی ایک صبح فجر کی نماز کے بعد گھر واپس آکر اپنی بیوی ناعمہ کو بتایا۔
“انا للّٰہ وانا الیہ راجعون” ناعمہ نے بےساختہ کہا۔

“بابا جی پہلے تو کئی دنوں سے ہسپتال میں داخل تھے۔ پھر تین چار دن پہلے انہیں گھر واپس لے آئے تھے۔ اب کیا گھر میں فوت ہوئے ہیں؟ یا انہیں دوبارہ ہسپتال لے گئے تھے؟” ناعمہ نے استفار کیا۔
“وہ ہسپتال میں فوت ہوئے ہیں۔ ان کے اہل خانہ ایمبولینس میں ان کی میت لے کر گھر واپس آرہے ہیں۔ آدھ پون گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔” انہوں نے جواب دیا
“تدفین کا وقت کب ہے؟” ناعمہ نے پوچھا۔
“عصر کے بعد” ارمغان صاحب نے بتایا۔
“جنازے کا وقت اتنی تاخیر سے کیوں رکھا ہے؟ ابھی تھوڑی دیر میں تو وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے۔” ناعمہ نے پوچھا

“ان کی ایک بیٹی سندھ میں رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے جنازہ کے وقت میں تاخیر کی ہے۔” اس کے شوہر بولے۔
“اچھا! اس کا تو مجھے خیال نہیں آیا تھا۔ ہم لوگ کس وقت تعزیت اور جنازے کے لیے جائیں گے؟” ناعمہ نے پوچھا
“جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہم روانہ ہوں گے۔ ان شاءاللہ۔” انہوں نے جواب دیا۔
“ان شاءاللہ۔” ناعمہ نے بھی کہا۔

فوت ہونے والے بزرگ کا تعلق پڑھے لکھے دینی گھرانے اور علماء کے خاندان سے تھا۔ لیکن جب ناعمہ وغیرہ انکے گھر پہنچے تو توقع کے برعکس وہاں عام دنیا دار گھرانوں جیسا ماحول تھا۔  خواتین کا آنا جانا جاری تھا۔ میت کو نہلا دھلا کر ،کفن پہنا کر جنازے کے لیے تیار کیا جا چکا تھا۔

میت کے پلنگ کے گرداگرد خواتین جمع تھیں۔بیٹیاں، بہوویں، پوتیاں، نواسیاں وغیرہ تقریباً سبھی قریبی لوگ میت کے پلنگ کے قریب موجود تھے۔ بیٹیاں باپ کی پلنگ کی پٹی کے ساتھ لگی بیٹھی تھیں۔ اور اپنے مرحوم والد کی بیماری، ان کے آخری دنوں کی باتیں اور نزع کے وقت کی کیفیت یاد کرکے رو رہی تھیں۔ قریب بیٹھی خواتین بھی مرحوم کی زندگی کی مختلف باتیں و یادیں،حالات و واقعات وغیرہ وقتاً فوقتاً بیان کر رہی تھیں۔ چاروں بیٹیاں اونچی آواز میں رو رہی تھیں اور کبھی کبھی شکوہ شکایت والی کوئی نامعقول باتیں بھی کر جاتی تھیں، جن کا خواتین پر غیر مناسب اثر پڑ رہا تھا۔ اس طرح کا ماحول، باتیں اور رویہ ناعمہ کی توقع کے خلاف تھے۔ وہاں ان کے کئی رشتہ داروں کے علاوہ جان پہچان والے بہت سے لوگ بھی موجود تھے۔

“ہمیں امید تھی کہ یہ لوگ پوری طرح صبر کریں گے،اللہ کی رضا پر راضی رہیں گے، اور دیگر لوگوں کے لیے نمونہ ثابت ہوں گے لیکن یہاں معاملہ مختلف ثابت ہو رہا ہے۔” ناعمہ کی دیورانی نے اس سے سرگوشی کی۔ وہ بھی وہاں تعزیت کے لیے آئی ہوئی تھی۔

علماء کا گھرانہ ہونے کے ناطے عام خواتین کی توجہ میت کی رشتہ دار خواتین کی طرف خصوصاً مبذول تھی، تو اس لحاظ سے ان کا یہ رویہ غیر مناسب تھا۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ کا حکم سب لوگوں کے لیے ہی غم اور تکلیف کو صبر سے برداشت کرنے کا ہے، لیکن علماء اور دین داروں کے لیے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ رونا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا فطری چیز ہے لیکن اسلام نے رونے پیٹنے اور ماتم کرنے سے منع کرکے اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حکم دیا ہے۔ بہرحال جب جنازہ اٹھا تو رونے دھونے کا روایتی ماحول پیدا ہو گیا۔ ماحول میں افسردگی اور اداسی پوری طرح رچی ہوئی تھی۔ چھوٹی بیٹی (جو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی) نے کھڑی ہو کر باپ کے پلنگ کو تھام لیا۔ چند خواتین اس کو زبردستی پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ اونچی آواز میں روتی کرلاتی تھی

“ابو جی، ابو جی”  وہ یہ کہتے ہوئے جنازے کے ساتھ ساتھ جانے لگی۔

اسی اثنا میں اس کے سر سے دوپٹہ اتر کر گلے میں آگیا اور پھر نیچے گر گیا لیکن اسے اس کا احساس نہ تھا۔ جنازہ اٹھانے والے مرد میت کو آگے لے گئے اور پیچھے خواتین نے اسے زبردستی پکڑ لیا، دوپٹہ اس کے سر پر ڈالا، اس کا حلیہ قدرے درست کیا اور واپس لا کر اسے نیچے دری پر بٹھا دیا۔ جنازہ جانے کے بعد ماحول میں مزید افسردگی چھا گئی اور نئے سرے سے رونا پیٹنا شروع ہو گیا۔

“ہائے اللہ! ابو جی چلے گئے۔” ایک بیٹی نے بری طرح روتے ہوئے کہا۔
“اب ہم ان کے بغیر کیا کریں گے؟” دوسری بیٹی نے اونچی آواز میں روتے ہوئے کہا۔ اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگیں۔

دیگر قریبی رشتہ دار خواتین بھی روایتا ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے، بین کرنے لگیں اور ساتھ ساتھ ماتمی قسم کی باتیں کرنا شروع ہو گئیں۔ دیگر خواتین ان بہنوں کو چپ کروارہی تھیں۔ ناعمہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے اپنے ننھے منے بیٹے ابراہیم کی وفات پرارشاد فرمائے تھے۔
إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا۔” (صحیح بخارى: 1303)
ترجمہ: “بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمزدہ ہوتا ہے، مگر ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہوگا۔”
۔۔۔۔۔۔۔
ناعمہ کو بےاختیا
ر تقریباً تین دہائیاں قبل کا ایک چشم دید واقعہ یاد آگیا بلکہ اسے یہ یاد رہتا ہے کیونکہ اس نے اسے زندگی میں رنج و الم اور تکلیف کو ہمیشہ صبر و تحمل سے برداشت کرنے کا لازوال اور انمٹ سبق دیا ہے۔ یہ دسمبرکی ایک تاریک اور ٹھنڈی رات تھی جس میں سردی اپنے عروج پر تھی۔ امتحانات کا زمانہ تھا اور چھوٹے بڑے سب بچے اپنے پیپروں کی تیاری میں مصروف تھے۔ ناعمہ کا بھی فزکس کا پیپر تھا اور وہ تندہی سے اس کی تیاری میں مشغول تھی۔
عشاء کی نماز باجماعت ادائیگی کے بعد اس کے والد بھائیوں کے ساتھ گھر واپس آچکے تھے۔ اتنے میں پی ٹی سی ایل فون کی بیل بجنے لگی۔ ان دنوں معاشرے میں ابھی موبائل کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔

اس کے ابو جان نے آگے بڑھ کر فون کا ریسیور اٹھا لیا۔ دوسری طرف سے موصول ہونے والی خبر نے ابو جان کو انتہائی پریشان کر دیا تھا۔ ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔” انہوں نے اونچی آواز میں کہا۔
گھر کے سب افراد پریشان ہو کر ابو جان کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ ابو جان نے فون بند کر کے ریسیور نیچے رکھ دیا۔
“کس کی وفات کی خبر وصول ہوئی ہے؟” اس کی امی جان نے پوچھا۔
“آپ کے ابا جان ابھی عشاء کی نماز میں اچانک فوت ہو گئے ہیں۔” ابو جان اس کی والدہ کو مخاطب کرکے رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگے۔

یہ خبر سب کے لیے انتہائی اچانک، اور غم و پریشانی کا باعث تھی کیونکہ امی جان کی معلومات کے مطابق کچھ دیر قبل تک وہ بالکل صحت مند اور تندرست و توانا تھے۔ ابھی عشاء کی اذان سے چند منٹ پہلے تو امی جان نے ان سے فون پر ان کا حال احوال دریافت کیا تھا۔
“انا للّٰہ وانا الیہ راجعون” امی جان سمیت سب نے اونچی آواز میں پڑھا۔
بچے بھی حیران و پریشاں ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ لیکن حیرت و پریشانی کے ساتھ اطمینان نے بھی دلوں میں جگہ بنائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نماز کی حالت میں اپنے پاس بلایا ہے۔

“اللہ تعالیٰ نے آپ کے نانا جان کو حالت عبادت میں نماز کی ادائیگی کے دوران اپنے پاس بلایا ہے۔ سبحان اللہ۔” ابو جان نے بچوں کو مخاطب کرکے کہا۔
“سبحان اللہ! ایسی اچھی موت تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔” بڑے بھائی جان بولے۔
“ایسا “حسن خاتمہ” نصیب والوں کا مقدر بنتا ہے۔” امی جان نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
ناعمہ کے نانا جان بہت نیک اور صالح انسان تھے۔

وہ سدا رزق حلال کے خوگر رہے تھے۔ اور اکثر و بیشتر ضرورت مند رشتہ داروں، طلبہ، اور غریبوں وغیرہ کی مدد کرتے رہتے تھے۔ صلہ رحمی کا بہت خیال رکھتے تھے۔مدارس و مساجد کے ساتھ خصوصی تعلق رکھنے والے اور ان کے معاون و مددگار ہوتےتھے۔ انہوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کروائی تھی جس کے وہ منتظم تھے اور بوقت ضرورت امام کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے۔ ان کی حسنات وصدقات بہت زیادہ تھے۔ نیک اور صالح اولاد بھی انہوں نے صدقہ جاریہ میں چھوڑی تھی جو ان کے راستے پر گامزن تھی۔ ناعمہ اور اس کے اہل خانہ نے اس موقع پر امی جان کامثالی صبر دیکھا کہ انہوں نے تب رونے دھونے کے بجائے فوراً وضو کر کے جائے نماز بچھالی۔ “اللہ اکبر” امی جان نے نماز پڑھنے کے لیے نیت باندھ کر ابتدا کردی۔ ناعمہ اور اس کی تینوں بہنوں نے بھی جلدی سے وضو کرکے نماز شروع کر لی۔

امی جان نماز کی ادائیگی کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بہتے آنسوؤں کے ساتھ دعائیں مانگنے لگیں۔ اس کے بعد سب نے جلدی جلدی نانا جان کے گھر جانے کی تیاری کی اور کچھ دیر بعد وہاں پہنچ گئے۔ وہاں لاہور میں مقیم تقریباً سب بیٹے، بیٹیاں، بہوئیں، داماد، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں وغیرہ پہنچ چکے تھے۔ دور والے رشتہ داروں کو یہ اطلاع دی جا چکی تھی۔ فوتگی والے گھر میں تقریباً سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اگرچہ یہ انتہائی غیر متوقع اور اچانک موت تھی مگر اونچی آواز سے رونا پیٹنا، نوحہ و بین کرنا، غلط قسم کے غیر مناسب الفاظ منہ سے نکال کر اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کرنا وغیرہ اس قسم کے مناظر  قطعاً دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سب “صبر جمیل” کی مثال دکھائی دے رہے تھے۔ اور

اس اچانک موت کے صدمے کو قبول کرکے اس پر راضی برضا تھے۔ الحمد للّٰہ۔ 
“جنازہ کل ظہر کی نماز کے بعد ادا کیا جائے گا۔” بڑے ماموں جان نے بلند آواز میں کہا۔جنازہ کا وقت ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے طے کیا جا چکا تھا۔
“ناناجان تو بالکل صحت مند تھے۔ مجھے جب معلوم ہوا تو ان کی اچانک موت کا یقین نہیں آرہا تھا۔” ناعمہ کی ایک کزن کہہ رہی تھی۔
“مولانا صاحب تو بالکل چست اور چاک وچوبند تھے ۔ آج وہ نماز عصر کی ادائیگی کے بعد میرے سسر کا حال پوچھنے کے لیے ہمارے گھر آئے تھے۔انہیں اچانک کیا ہوا ہے؟” اندر آنے والی ایک خاتون نے استفسار کیا۔

“ابا جان عشاء کی نماز باجماعت کی ادائیگی کے لیے مسجد گئے ہوئے تھے، جہاں تکبیر ہو چکی تھی مگر پھر بھی انہیں پہلی صف میں پہلی جگہ یعنی (انتہائی دائیں طرف) کھڑے ہونے کا موقع مل گیا۔ امام صاحب نے رکوع کیا، رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے۔ تمام نمازیوں نے ان کی تقلید کی اور اپنے سر سجدوں میں رکھ دیے۔” ناعمہ کے بڑے ماموں جان نے بتایا۔
“اللہ اکبر” امام صاحب نے سجدہ سے سر اٹھایا۔ اور قعدہ میں بیٹھ گئے، پھر دوسرا سجدہ کیا اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے لیکن ابا جان کا سجدہ طویل تر ہو گیا اور انہوں نے اپنا سفر پہلے سجدے سے ہی نہ اٹھایا۔ جب ان کی مستقل یہی کیفیت رہی تو ساتھ والے نمازی کو تشویش ہوئی۔

“میں نے نماز توڑ کر انہیں ہلایا جلایا لیکن وہ فوت ہو چکے تھے۔” نمازی نے بعد میں بتایا۔
“وہ پہلے رکعت کے پہلے سجدے میں پہلی صف میں پہلی جگہ موجود ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ انہوں نے موت کے خاموش قدموں اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا تھا۔” ماموں جان نے رندھی ہوئی آواز میں مزید بتایا۔ سب نمازی ان کے حسن خاتمہ پر رشک کر رہے تھے
“سبحان اللہ! کتنی فضیلت والی موت ہے!” ایک نمازی کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔
یہ “حسن خاتمہ” ہے کہ اللہ رب العزت نے مولانا کو نماز کی پہلی رکعت میں پہلے سجدے میں اپنے بلانے کے لیے منتخب فرما لیا۔” دوسرے نمازی نے رشک کرتے ہوئے کہا تھا۔

“ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ۔” سب نمازی نماز کے بعد رشک کر رہے تھے۔
“اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی موت عطا فرمائے۔” امام صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہاتھا۔
“آمین ثم آمین۔” بہت سی آوازیں بلند ہوئیں۔

ماموں جان بتا رہے تھے اور ان کی باتیں سن کر گھر میں بھی سننے والے ایسی موت پر رشک کر رہے تھے۔اور اپنے لیے بھی “حسنِ خاتمہ” کی تمنّا کر رہے تھے۔آج جب کوئی فوتگی ہوتی ہے، یا ناعمہ کوئی پریشان کن خبر سنتی ہے یا کسی کے بارے میں اس کے کسی پریشانی یا آزمائش میں مبتلا ہونے کا معلوم ہوتا ہے تو اسے اپنی امی جان کا والد محترم کے انتقال پر کیا گیا “صبر جمیل” یاد آ جاتا ہے۔ ان کا فورا نماز ادا کرنا اور “رجوع الی اللہ” کا رویہ اس کی  نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔

“ٹھک ٹھک۔ٹھک ٹھک۔ ٹھک ٹھک” رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے کمرے کے دروازے پر زوردار دستک ہوئی اور ہوتی چلی گئی تو ناعمہ اور ارمغان صاحب دونوں کی آنکھ کھل گئی۔ دونوں کسی خدشہ کے پیش نظر ہڑبڑا کر جلدی سے اٹھ بیٹھے۔ ارمغان صاحب نے جلدی سے دروازہ کھولا۔ بچے بے خبر سورہے تھے۔
“بھائی! جلدی سے آکر اباجان کو دیکھیں۔ ان کی طبیعت ایک دم بہت خراب ہو گئی ہے۔ سانس بالکل اکھڑ چکا ہے۔” ناعمہ کے دیور نے جلدی سے کہا۔
ناعمہ اور ارمغان صاحب بھاگم بھاگ ساتھ والے پورشن میں پہنچے جہاں امی جان اور ابا جان کے ساتھ ناعمہ کے دیور کا خاندان مقیم تھا۔ ایمرجنسی میں بلایا گیا فیملی ڈاکٹر بھی  پہنچ چکا تھا۔

“باباجی کا انتقال ہو چکا ہے۔” ڈاکٹر صاحب نے بلند آواز میں بتایا۔ جنھوں نے اچھی طرح چیک اپ کرکے ناعمہ کے سسر کی وفات کی تصدیق کر دی تھی۔ طویل علالت کے بعد اس کے سسر کی وفات ہوچکی تھی۔ رات کے تقریباً دو بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ گھر کے مردوں نے وفات کے بعد ابتدائی طور پر کرنے والے کام شروع کر دیے۔ اس کی ساس بھی بڑی ہمت و حوصلے کے ساتھ مستقل میت کے پاس موجود تھیں اور مغفرت کی دعائیں پڑھ رہی تھیں۔ اس کے سسر کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ رات کے باوجود خبر ملتے ساتھ جب مردوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی تو اس کی ساس نے دوسرے کمرے میں جا کر وضو کر کے نیت باندھ لی اور نماز تہجد کی ادائیگی کرنا شروع کردی۔

یہ بھی اس کے سامنے اس کے گھر کی روشن مثال موجود تھی۔حقیقت یہ ہے کہ جب انسان حقیقی شعور اور دل و دماغ کی آمادگی کے ساتھ اللہ کے دین کے احکامات پر عمل پیرا ہو تو پھر اس کے لیے مشکلات اور آزمائشوں پر صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں