شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات! – ایمن طارق




اتنے برسوں بعد ملاقات کی خوشی ہر چیز پر بھاری تھی ۔ وہ ایسی خوش نظر آرہی تھی کہ ایسا خوش بہت برسوں میں شاز و نادر ہی دیکھا تھا ۔ پڑوس میں رہنے کی وجہ سے صبح شام آتے جاتے ملاقات ہوجاتی ۔ بچے ایک ہی اسکول میں تھے اسی لئے اچھا تبادلہ خیال اور تبادلہ تجربات رہتا ۔

انہی دنوں پتا چلا کہ بہت برسوں بعد اُس کی کوئی اسکول کی دوست حسن اتفاق سے اسی شہر میں نکل آئیں اور ملنے آنا چاہ رہی ہیں ۔ پچھلے پورے ہفتے سے روز ہی وہ صبح شاپنگ پر نکل جاتی اور واپسی میں تھکی ہاری ہماری بیل بجاتی تو مجھے آئیڈیا ہوجاتا کہ آج کوئی نئی کہانی یا تیاری بتائے گی ۔ اللہ اللہ کرکے وہ دن آ پہنچا ۔ اندر باہر سے گھر سج چکا تھا ۔ خود بھی بڑے سال بعد اُس کو خود پر توجہ دیتے دیکھا ورنہ بچوں کے ساتھ عموماً الجھے الجھے ہی رہتی ۔ مہمان کی آمد سے کچھ دیر قبل میں نے اُسے وہ کیک ڈراپ کرنا تھا جو اُس نے وقت کی کمی کے باعث مجھے بنانے کو دے دیا ۔ دروازہ کھلا تو سامنے سجی سنوری مسکراتی اور کاسنی سے لباس میں چمکتے چہرے کے ساتھ میرا دل اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔

کوالیفیکیشن میں میکینکل انجئینر یہ لڑکی گزرتے ماہ و سال میں گھر کو سنبھالتے اور زندگی کے مدوجزر میں ڈولتے یہ فراموش کر چکی تھی کہ چند لوگوں کے سامنے بات بھی کرسکتی ہے ۔ اکثر میں اُسے توجہ دلاتی کی چلو واک پر چلتے ہیں یا کہیں کسی لائبریری میں چلتے ہیں کچھ تم اپنی کتابیں ایشو کروا لینا ۔ لیکن یہی جواب دیتی کہ بہن یہ سب کرکے مجھے لگتا ہے میرے گھر کے کام متاثر ہوں گے ۔ آج بہت اچھا لگا اُسے یوں زرا مختلف انداز میں دیکھ کر ۔ اچھا اب میں چلی ۔ جب تمہاری مہمان چلی جائیں تو بات ہوگی ۔ نہیں تو کیا تم نہیں ملو گی ؟ اب پچھلے سالوں میں تو تم ہی پڑوسن سے زیادہ دوست بن چکی ہو ۔اُس نے مجھے آنے کی ترغیب دی تو میں بس ٹال کر آگئی کیونکہ کچھ مصروفیت تھی ۔ شام میں مصروفیت کے دوران اُس کئی کال آئی کی “آجاو بس میری مہمان رخصت ہونے لگی ہیں ۔ “آواز میں کچھ عجیب سی بیزاری تھی ۔ حیرت ہوئی کہ کہاں تو اتنا انتظار تھا ۔

میں اُٹھ کر اسکارف باندھتے ہوۓ باہر نکل آئی اور اُس کے دروازے پر دستک دیتے ہوۓ سوچا کہ بس چند لمحے گزار کر واپس آجاتی ہوں ۔ سامنے ہی مہمان خاتون تھیں ۔ اسمارٹ سی مسکراتی ہوئی چشمے سے پہنچے جھانکتی ہوئی بغور ملاحظہ کرتی آنکھیں ۔ سلام کے بعد میں بھی تکلف سے بیٹھ گئی ۔ “اچھا آپ ثمینہ کی پڑوسن ہیں ؟ بہت تزکرہ رہتا ہے آپ کا ۔ ثمینہ اور میں تو بچپن کے دوست ہیں ۔ بس یہ بہت بدل گئی ہے ۔ بالکل ہی بڑھاپا طاری کر بیٹھی ۔ وزن بھی اتنا چڑھا لیا کہ میں تو بڑی مشکل سے پہچانی ۔”یہ کہہ کر اُنہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور پھر بہت لگاوٹ سے ثمینہ کو مخاطب کرکے کہنے لگیں “ کیوں بھئی تمہاری پڑوسن تو بہت اچھی دوست ہے اسی لئے اب اسے تمہارے پیچھے لگا کر جاوڻ گی ۔ “

میں نے بڑی مشکل سے گردن گھما کر پیچھے ٹیبل پر سے برتن سمیٹتے ثمینہ کو دیکھا ۔ چاہنے کے باوجود میں اُن کی بات کے جواب میں ہاں یا نا کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی ۔ ثمینہ کے تاثرات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اُس کی کمر ہی نظر آرہی تھی ۔ کچھ لمحے بیٹھ کر میں واپس آگئی ۔ اُن چند کمحوں میں بمشکل صرف یہ کوشش کرسکی کہ اُن خاتون کی توجہ موسم ، کھانے اور بچوں کے بارے میں ڈسکشن کی طرف کروائی جاۓ ۔ بار بار گھوم کر اُن کی تان “ثمینہ کتنا بدل گئی ہے “پر اٹک جاتی ۔وہ دن گزرا اور آج تک ان مہمان خاتون کے بارے میں نہ ثمینہ نے کوئ تزکرہ کیا اور نہ میں نے پوچھا ۔ کسی کی ایکسائٹمنٹ ، محبت ، گرم جوشی اور وارفتگی کو دل گرفتگی ، شرمندگی ، افسوس اور ندامت میں تبدیل کرنے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔ یہ چند لمحے کبھی کبھی کسی کو آگے بڑھانے کے بجاۓ پیچھے لے جاتے ہیں ۔

تعریف یا حوصلہ افزائی ایک جادو ہے جو دوسرے کو انرجی ڈوز کی طرح اُٹھا کھڑا کرتا ہے اسی طرح کسی کی شخصیت کے کسی پہلو کو اُس کی کمزوری کے طور پر ہائی لائیٹ کرنا بھی ایک ایسا جادو ہے کہ وہی منجمد کر دیتا ہے ۔
(سچی کہانی لیکن نام ، واقعات کی ترتیب بدلی گئی ہے ۔ )

اپنا تبصرہ بھیجیں