اقبال بڑا اپدیشک ہے – سمیرا امام




باجی نفیسہ اپنے نام کی طرح نفیس اور طرح دار تھیں ـ اگر انکی زندگی کا خلاصہ پیش کرنے کو کہا جاتا تو فقط ایک لفظ ” نفیس ” انکی پوری شخصیت اور مکمل زندگی کو بیان کر ڈالتا تھا ـ انکے گھر میں قدم رکھیے تو جوتے اتنی مرتبہ جھاڑنے پڑتے کہ گرد کے ساتھ ساتھ جوتے پہ لگے پھول بوٹے پھندنے تک اترنے کا اندیشہ رہتا ـ

کلف لگی بیڈ شیٹس پہ بیٹھنے کا سوچ کر ہی روح کانپ اٹھا کرتی کہ اپنی بستر کی چادروں کا یہ عالم ہوتا کہ صبح نوکری پہ جانے کی افراتفری میں ایک کونہ سیدھا کرتے تو دوسرا لٹک جاتا دوسرے کو کھینچ تان کے برابر کرتے تو بستر پہ جا بجا سلوٹیں پڑ جاتیں ـ ہمیں تمام عمر حسرت ہی رہی کہ باجی نفیسہ کے گھر کی طرح ہمارا گھر بھی کسی گڑیا کا گھر بن جائے ـ لیکن گڑیا کے گھر میں باجی جیسی گڑیا ہی رہ سکتی تھیں جو دھیمے سروں میں بات کرتیں ـ ادب آداب کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا کرتیں ـ زبان سے نکلے الفاظ شائستگی اور نفاست سے مرصع ہوتے ـ الفاظ کا چناؤ انتہائی خوب ہوا کرتا بڑے تو بڑے بچوں سے بھی آپ جناب میں گفتگو فرماتیں ـ نہ صرف یہ کہ خود شائستگی کا مظہر تھیں بلکہ انکا رکھ رکھاؤ دیکھ کر سامنے والا بھی با ادب ہو جایا کرتا ـ

ایسی ہی نفاست والی باجی نفیسہ ایک دن ہمارے گھر تشریف لے آئیں ـ انکے آنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن گھر جو کسی میدان کارزار کا نقشہ پیش کر رہا تھا اسکی شرمندگی اپنی جگہ ـ بھئی اب ہم بستر کی چادروں کو کلف لگا کے چار گھنٹے استری کر کر کے نہیں ڈال سکتےـ کاٹن کی چادروں پہ باجی چپ کر کے آج کے دن بیٹھ جائیں گی تو انکی شان میں ہر گز کوئی کمی واقع ہونے کا امکان نہیں ـ ذرا سی ڈھٹائی سے دل کو تسلی دینے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی ـ صبح گھر سے نکلتے ہوئے جب ہم موزوں کی تلاش میں خوار ہوتے پھرتے یہ دراز اور وہ دراز کھولتے پائے گئے تو وہ ہماری کاروائی کو خاموشی سے دیکھتی جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھیں ـاسکا پتہ تب چلا جب ہماری واپسی پہ ہمیں دراز میں رکھی چیزیں قرینے اور سلیقے سے پڑی دکھائی دیں ـ

بالوں کی پنوں کو یکجا کر کے ربڑ بینڈ سے باندھ کر ماچس کی خالی ڈبیا میں رکھا گیا تھا جس پہ مارکر سے پنیں لکھا ہوا تھا ـ باڈی اسپرے کے گرد رنگ برنگ کی پونیاں سلیقے سے چڑھائی گئی تھیں ـ موزوں کے جوڑے باہم ملاکے انتہائی بہتر طریقے سے تہہ کیے ہوئے ملے ـ دراز کھولنے پہ ہر چیز سامنے اور اپنی جگہ پہ نظر آرہی تھی ـ ہم جان گئے کہ ہمیں تمیز سکھانے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ تمیز سیکھنا مشکل کام ہے ـ ہماری حد تک تو باجی برداشت کر گئیں لیکن جس دن ہم انھیں پیارے کے پی کی سیر کرانے لے گئے اور واپسی پہ شاپنگ سے مستفید کرنا چاہا تو دکانداروں کی زبان دانی نے جو رنگ کھلائے وہ بیان سے باہر ہے ـ”بھائی یہ سوٹ دکھا دیجیے” باجی اس والے گاہک کو فارغ کر کے تمھیں دکھاتا ہوں ـ باجی کی آنکھیں ابل کے باہر کو آگئیں ـ میرا ہاتھ تھام کے دکان سے نکل آئیں۔

“باجی کیا ہوا؟”
“اس قدر بدتمیز دکاندار .. کسی اور دکان پہ چلتے ہیں.”
“لیکن اس نے کہا کیا ہے؟”
“تم تم کر کے بات کیے جا رہا ہے اور پوچھتی ہیں کہا کیا ہے.”
دوسری دکان پہ بھائی صاحب نے باجی کہنے کا تکلف بھی نہیں کیا ـ
“دیکھو امارا فکس ریٹ ہے تم کو سوٹ لینا ہے تو میں نکالوں گا ورنہ اس دوسری عورت نے بھی یہ مانگا ہے اسکے لیے پیک کر دونگا۔”

“لیکن بھائی آپ سوٹ دکھائیں گے تو ہم پسند کریں گے نا.”
“تو تم کو یہاں سے نظر نہیں آرہا جو میں تھان کھولوں”
باجی کا چہرہ سرخ انگارہ ـ سوٹوں پہ دو حرف بھیج کے بیٹے کی واسکٹ خریدنے کا ارادہ کیا ـ “بھائی صاحب چھوٹے بچوں کی واسکٹ دکھا دیں ـ”
“او رفیق … دیکھو یہ زنانہ کیا مانگتا ہے ـ”
“ہمیں کچھ نہیں چاہیے جی شکریہ ..”
باہر نکلے تو باجی کی آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو …

“یہاں کے دکاندار کس قدر بد تمیز لوگ ہیں انھیں بات کرنے کی تمیز تک نہیں کہ خواتین سے بات کیسے کی جاتی ہے ـ”
“وہ باجی ……. وہ ‘ یہ … یہ اصل میں پڑھا لکھا طبقہ نہیں نا تو اسلیے …” دلائل جواب دینے لگے ـ آپ نے کہیں جانا ہو اور آپ کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہو تو یہ ایک اور عذاب ہے ـ
“جی یہ اسلام آباد جانے والی گاڑی ہے ؟؟”
“ہاں اسلام آباد جائے گا اکیلا زنانہ ہو؟ ؟ “اس بدتمیزی کو نظر انداز کر کے بتایا گیا ساتھ ایک خاتون اور بھی ہیں ـ
“ادھر جا کے کھڑا ہو جاؤ اور عورت آئے گا تو بٹھا لے گا ـ”

“اور اگر نہیں آئی تو .. ”
“تو اس گاڑی میں نہیں لے کے جائے گا ـ”
“کیوں بھائی؟”
“ہم دو عورتوں کو سیٹ پہ نئی بٹھاتا سواری خراب ہوتا ہے ـ”
“تو ہمیں فرنٹ سیٹ دے دیجیےـ”
“فرنٹ بند ہے تم ادھر کھڑا ہو جاؤ ـ ”
“ہم تین سیٹوں کا کرایہ دے دیں گے تینوں سیٹ دے دو …”
گاڑی کا معاملہ تو شاید حل ہو جائے لیکن زبان کا مسئلہ کسی طور حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا ـ

اس تمام طبقے کو ہم نے ان پڑھ کہہ کر باجی کے سامنے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تھی ـ لیکن اسکا کیا کیجیے بھائی کی فریاد پہ باجی اسکے کالج گئیں کہ حال احوال معلوم کریں ـ ہاسٹل کے مسائل کو پرنسپل کے گوش گزاریں ـ کالج کے سامنے کھڑے میں اور باجی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے جب چپڑاسی نے فرمایا ـ

“زنانہ آیا ہے پرنسپل سے ملنے” تو کسی کلرک ٹائپ مخلوق نے کہا
“باہر بٹھا دو”
“ہائیں …. بھائی ہمیں پرنسپل سے ملنا ہے تمھارے لڑکے کا باپ نہیں ہے؟؟”جی چاہا ایک بہترین تھپڑ کا تحفہ چپڑاسی کو دے کر جائیں لیکن وائے ری قسمت باجی نفاست سے گویا ہوئیں ـ
“جی انکے والد صاحب یہاں نہیں ہوتے مجھے ہی سب معاملات دیکھنے ہوتے ہیں ـ”

“ہاں تو لڑکوں کے کالج میں زنانہ کا آنا اچھی بات نئی ـ تم وہ ادھر اوپر درخت کے پاس بیٹھ کے انتظار ککنپٹیاں سلگنے لگیں تو ہم باجی کا ہاتھ پکڑ کے سیدھا پرنسپل کے آفس پہنچے باوجود اسکے کہ چپڑاسی ہائے وائے کرتا رہ گیاـ وہاں پرنسپل صاحب چائے کی چسکیاں نوش فرماتے کمپیوٹر پہ فیس بک دیکھنے میں مصروف تھے ـ یہ ایک پرائیویٹ کالج کا حال تھا ـ ہمیں دیکھ کے سٹپٹا گئے ـ
“تم بی بی اندر کیسے آئی؟”
“دروازے سے”
“کس کام سے آئی ہو؟ ؟”
“جی میرے بیٹے کو کالج چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ چاہیے ..”
“ہائیں ..”ہم حیرت سے باجی کا منہ تکنے لگے …ہم تو کسی اور کام سے آئے تھے ـ باجی فرمانے لگیں جس قوم کو بات کرنے اور خواتین سے بات کرنے کی تمیز نہیں وہ قوم بچوں کو کیا تعلیم سکھائے گی ـ مجھے اپنے بچے کو یہاں نہیں پڑھانا ۔

تب اس دن ہمیں خیال آیا کہ کیوں اس قوم کا تأثر اجڈ اور بد تمیز کے طور پہ ہوتا ہے کہ جنھیں بات کرنے کا ہی سلیقہ نہ ہو ان سے مزید کیا توقع کی جائے ـ باجی نفیسہ تو رخصت ہو گئیں اپنی تمام تر نفاست سمیت .. لیکن آپ ہی بتلائیے بات کرنے کا سلیقہ زندگی میں کیا معنی رکھتا ہے؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں