میرے خواب ادھورے خواب -ایمن طارق




کچھ خواب ہوتے ہیں، دھندلے سے سوتے جاگتے نظر آتے ہیں۔ چلتے پھرتے اُن میں جینا اچھا لگتا ہے۔ حقیقت کی دنیا پر غور کریں تو اُن کی تعبیر مشکل لیکن دل کی دنیا اُن کو نہ دیکھنے کی کوئی پابندی قبول نہیں کرتی۔ان خوابوں کا بوجھ اُٹھاۓ چلتے چلتے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی بلکہ ان کے بغیر چلنے کا تصور تھکا دیتا ہے۔

جب بھی کسی دوسرے کی زندگی میں اُس کو خوابوں کی تعبیر پاتے دیکھیں تو بغیر اجازت لیے ہمارے خواب بھی آنکھوں میں اتر کے روشنی سی بھر دیتے ہیں اور کب ہونٹ مسکرا اٹھتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا۔“خواب ادھورے تو ہیں خواب ہمارے تو ہیں” ایک ایسی کیفیت ہے جس میں افسوس نہیں امید ہے۔بچپن میں کہیں ایک خوبصورت سا گھر دیکھا تھا اور اس کے کچھ دن بعد اسی گھر کو خواب میں دیکھا پھر عادت بن گئی کہ جب بھی کوئی خوبصورت سا گھر یا خوبصورت سا منظر نظر آتا اس میں خود کو رکھ کر تصور کرتی اور رات کو آنکھیں موند کر وہیں پہنچ جاتی۔ بچپن کا یہ کھیل بہت مزے کا تھا کچھ دیر کے ہی لیے سہی اردگرد سے سارے ناپسندیدہ مناظر غائب ہوجاتے۔ اس کے بعد پتا ہی نہیں چلا کہ حقیقت کی دنیا میں کب ایسے کتنے مناظر اور خوبصورت گھر تھے جن کا حصہ تھی لیکن ہمیشہ ایک مانوس سا احساس ہوا کہ جیسے ان سب مناظر کو پہلے کہیں دیکھا ہوا تھا۔

آج ُاسے کسی جگہ بیٹھے دیکھ کر کچھ سوچتے ہوے خود ہی خود مسکراتے دیکھا تو یہی لگا کہ جاگتی آنکھوں میں کسی دلفریب منظر کو سجاے بچپن کا وہی کھیل کھیل رہی ہے۔خواب دیکھنے کے لیے کسی سے اجازت نہیں لینی پڑتی اور کسی کی مرضی کے خواب دیکھے نہیں جاتے۔ جب یہ تصورات جذبہ بن کر تڑپاتے ہیں تو کچھ لوگ ان دیکھے سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور تعبیر ڈھونڈ ہی لیتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں