اس محبت کا کیا فائدہ؟ – طلعت نفیس




میں کو چنگ میں کلاس لے رہاتھا ۔کہ پرنسپل ایک شخص کو لیکر داخل ہو ۓ ۔ بولے یہ سر بصیر اب ہم نے جرمن زبان سکھانے کے لۓ بھی کلاسز کا آغاز کیا تو یہ جرمن لینگویج سکھائیں گے۔ چہرے مہرے سے جرمن دیکھائی دینے والے بصیر سر سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو تھوڑے اندازہ ہوا کہ وہ بظاہر جرمن ریکھائی دینے والا ختمٍ نبوت اور حضرت محمد صلى الله عليہ والہ وسلم سے محبت رکھنے والااور ختم نبوت کے لئے اپنی جان وارنے والا ہے ۔

میں اسکی جرمن بولنے پر حیران تھا ۔ میں نے پو چھا اتنی صاف زبان بولنے پر میں نے پوچھا کہ تم وہاں سے کیوں واپس آگۓ ۔ وہ بات کو گھما گیا . ربیع الاول کے ماہ کا آغاز تھا ۔ سارا شہربتیوں اور جھنڈوں سے سجا تھا۔فل آواز میں چلتی نعتوں کے ذریعے عشق رسول کا اظہار کر رہے تھے۔ بصیر کوچنگ میں داخل ہوا ۔اور مجھ سے جرمن لہجے میں گویا ہوا ۔یہ سب کیا ہے؟؟ میں نے سر سے پاوں تک میں نے اسکے سیکولر حلیے کو عجیب سی نظروں سے دیکھا جس میں کچھ کچھ طنز بھی شامل تھا ۔میں نے کہا یار ربیع الاول ہے ۔ میرا لجہ جتادینے والا تھا۔ یہ حضور محمد صلى اللہ عليہ والہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ میرے لہجے کی سختی کو جان چکا تھا۔وہ بولا تم اکثر پوچھتے ہونا کہ تم وہاں سے کیوں واپس آۓ ؟؟؟

سر احمد نے بصیر کے چہرے کو دیکھا تو وہ کہیں اور ہی کھویا ہوا تھا۔ میں اس بد نام زمانہ تنظیم کا حلف یافتہ کارکن تھا پڑھائی میں اچھا تھا والدین نے تنگ آکر جرمن سکھا کر جرمن روانہ کردیا۔ ذہین تو تھا جرمنوں سے بھی اچھی جرمن بولنا سیکھ لی۔ وہاں جاکر ملک اور مذہب سے زیادہ محبت ہو گئی۔ اسلامک سینٹر باقاٸدگی سے جانے لگا ۔ وہیں پر دین کے بارے میں جانا نبیمحمد صلى اللہ عليہ والہ وسلم کو پہچانا ۔ اکثر ایک کو لیگ جو چہرے سے نام سے مسلمان کہلاتا تھا ۔
نماز وغیرہ پڑھتا تھا ۔ہم اسکے گھر جاتے محل نما اسکا گھر جسمیں سامان تعیشات بھرا تھا … ختم نبوت پر بحث ہو گئی ۔اس نے آپ محمد صلى اللہ عليہ والہ وسلم کو مغلضات کا نشانہ بنا یا ۔ میں نے کچھ نہ دیکھا نہ سوچا میں اس پر پل پڑا ۔

پتہ نہیں کسنے میرے اوپر شراب کی کلیاں کر دیں ۔اتنے میں پولیس آئی ۔ اور ہم دونوں کو گرفتار کرکے لے گٸ ۔کورٹ میں مقدمہ پیش ہوا وہ تو قادیانی تھا ۔ چھوٹ گیا۔ میں کئی دن جیل میں رہا ۔پھر شراب کی اس کلی کی وجہ سے مجھے نشے کی حالت میں قرار دے کر رہا کردیا گیا ۔ پتہ نہیں وہ کلی کرنے والا اس رش میں کون تھا ؟جسکی وجہ سے مجھے رہائی ملی ۔اور یوں میں پاکستان آگیا اسنے داستان سنا کر لمبی سانس کھینچی ۔

وہاں فرانس میں آپ محمد صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے بے ہودہ خاکے بناۓ جا رہے ہیں۔ اور یہاں پر یہ مسلمان اور مسلم حکمران آپ سے کونسی محبت کا اظہار کر رہے ہیں ۔؟ اس محبت کا کیا فائدہ؟؟؟ وہ بڑبڑاتا ہوا ۔ باہرنکل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں