آستین کے بُت – آیت الاخراص




موسمِ سرما ابھی ابھی شروع ہوا، شام کی ہلکی ہلکی دل لبھا دینے والی ٹھنڈ اور سورج کی معمولی تپش وجود کو تازگی بخش رہی تھی۔صحن کے جھولے میں بیٹھی ، چائے کا گرم کپ ہاتھ میں تھامے وہ یک ٹکی باندھے پرندوں کو گھور رہی تھی جو اب دن کا آخری دانا اپنی اپنی چونچ میں لیے آہستہ سے اڑے جا رہے تھے۔

“ایمان۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
پاس بیٹھے ارسل کی آواز اسے کسی غار سے آتی محسوس ہوئی جس نے اس کے خیالوں کا رُخ موڑ دیا۔
“ہمممممممممم بولیں۔۔۔؟” ایمان کچھ بے دھیانی سے گویا ہوئی۔
“کیا نمازوں اور باقی عبادات کے باوجود بھی دل کھوکھلے اور بے سکون رہتے ہیں؟”وہ جو کچھ دیر پہلے لاپرواہ سی بیٹھی تھی اب ٹھٹک کر رہ گئی۔لیکن اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے بظاھر عام سے لہجے میں مخاطب ہوئی،” نہیں تو یہ کس نے کہہ دیا آپ سے؟”اگر ایسا نہیں ہے تو پھر میرے اندر کا ادھورا پن اور ویرانیاں کیوں دور نہیں ہوتیں؟ ہر خوشی کے باوجود بھی دل اُداس رہتا ہے۔سب پاس ہوتے ہوئے بھی کسی نامعلوم چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ایمان کی ساری حیرت اب ختم ہو چکی تھی، وہ بات کو پوری طرح سمجھ چکی تھی۔ارسل کبھی تمام بتوں کو چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کی ہے آپ نے؟ اس کی بات سنتے ہی اسے ایک زوردار دھچکا لگا، وہ غصے اور نہ سمجھی کے ملے جلے تاثرات سے اُسے گھورنے لگا۔اس کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی اسے اس قسم کے جواب کی ہرگز توقع نہ تھی۔بببببتتتت؟؟؟؟کیا میں مشرک ہوں کہ تم مجھے بتوں کو چھوڑنے کا کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟؟ میں تو مسلمان ہوں اور میرے تو دین کی بنیادی شرط ہی توحید ہے۔
وہ اب ادب سے متوجہ ہوئی، لیکن ارسل بت فقط پتھر اور چونے کی مورتیوں کا نام تو نہیں ہے۔ارسل کی حیرت میں مزید اضافہ ہو رہا تھا، اچھا تو پھر کسے کہتے ہیں بت؟ بالآخر اس نے وہ بات پوچھ ہی لی جو وہ اُسے کافی عرصے سے بتانا چاہ رہی تھی۔وہ جانتی تھی جو بات وہ کہنے جا رہی تھی وہ کسی بھی صاحب عقل کے جذبات کو مشتعل کر سکتی تھی۔

لیکن اس نے اپنے ہاتھ سے حکمت کا دامن نہ چھوٹنے دیا۔وہ نہایت احترام اور عقیدت سے ارسل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے سہلاتے ہوئے گویا ہوئی، ارسل کتنی چیزیں اور کتنے انسان ایسے ہیں جو ہمارے لیے محبوب تر ہوتے ہیں اور جن کی خاطر ہم ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔جن سے محبت میں ہم انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ارسل نا سمجھی سے اُسے تکنے لگا۔یہی سوچ رہے ہیں نہ کہ اس سب کا آپ کے سوال سے کیا تعلق؟ اس نے اثبات میں اپنے سر کو جنبش دی۔ان سب کا آپ کے سوال سے تعلق ہے اور انتہائی گہرا اور براہ راست تعلق ہے۔وہ اب مزید مضبوطی سے اپنے رفیقِ سفر کے ہاتھوں کواپنے ہاتھوں کے حصار میں لیے معصومیت سے گویا ہوئی، آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں نہ؟ ارسل جو مسلسل محوِ حیرت تھا فرط جذبات سے بولا ہاں بہت زیاد۔۔۔۔

ایمان اب ضدی بچے کی طرح پوچھ رہی تھی، پھر بھی کتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے؟ اتنی کہ جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔اچھا بالفرض اگر میری محبت آپ کو اللہ کے احکامات توڑنے پر آمادہ کرے تو آپ کیا کریں گے؟ایمان ایسی باتیں کیوں کرتی ہو؟ اگر ایسا ہوا تو میرے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ تم جانتی ہو نہ کہ تمہاری ناراضگی مجھ سے نہیں سہی جاتی۔ اور اللہ کی ناراضگی۔۔۔۔؟؟؟؟ایمان کے سوال نے اس کے دل و دماغ کو ایک زوردار دھچکا دیا اور اس کا ذہن بہت سی زنجیروں میں جکڑ کر رہ گیا۔وہ انتہائی نرم اور درد بھرے لہجے میں بول رہی تھی۔کیا مخلوق کی رضا نے آپ کو خالق کی ناراضگی سے غافل کر دیا ارسل؟ کیا مخلوق کو راضی کرنا وہ بت نہیں ہے جس کی خاطر احکامِ ربی کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے؟

یہ بت پرستی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ، رسم و رواج، ہماری اپنی ذات، ہماری انا، غرور، گھمنڈ نفسانی خواہشات اور ان جیسی ہی لاتعداد چیزوں کو ہم اللہ کی ذات سے بڑھ کر محبوب رکھیں۔ارسل ہر وہ چیز جو ہمیں اللہ کے حکموں کو توڑنے پر آمادہ کرے وہ ہی ہمارا بت ہے۔آپ کو کیا لگتا ہے کفارِ قریش نے بتوں سے محبت کی بنا پر رسول اللہ ﷺ کو جھٹلایا تھا؟ نہیں! بلکہ اُن کے جھٹلانے کی یہی وجہ تھی کہ ہم کیوں وہ کام کریں جو ہمارے باپ دادا نے نہیں کیا؟ وہ پتھروں کے نہیں اپنے آبا واجداد کی جاری کردہ رسم و رواج اور اپنی انا کے پجاری تھے اور یہی چیز اُنہیں لے ڈوبی۔وہ یک ٹکی باندھے سن وجود کے ساتھ اسے گھورے جا رہا تھا۔ اور وہ بھیگے لہجے میں بولے جا رہی تھی، جانتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں

“اے نبی ﷺ کہہ دو کہ تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑنے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں۔ تم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔ اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
(سورہ توبہ آیت ۲۴)

سورہ توبہ کی آیت سنتے ہی ارسل کا پورا وجود لرز اٹھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے برسوں سے تاریکی میں بھٹکتے وجود کو اچانک نور میں لا کر کھڑا کر دیا گیا تھا۔قرآن کے نور کی شعائیں اس کے اندر سے اندھیرے کو کھینچ کر نکال رہی تھیں اور اس کی رگ رگ اپنے رب کے خوف سے دُکھنے لگی تھی۔وہ اب بھی تسلسل سے بولے جا رہی تھی، ارسل پتہ ہے آستین کے اِن ان دیکھے بتوں کو توڑے بغیر عبادتوں میں لذت پیدا نہیں ہوا کرتی۔عشقِ حقیقی کو پانے کے لیے اپنی “میں” کو پیروں تلے روندنا پڑتا ہے۔ ایمان کی حلاوت کو پانے کے لیے سارے ظاہری اور باطنی بتوں پر توحید کی ضرب لگانی پڑتی ہےتب جا کر کہیں لا الٰہ الا اللہ کا حق ادا ہوتا ہے۔ یہ سب کہتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ چکی تھی، جو بات برسوں سے اس کے دل میں تھی آج اس نے ادا کر دی تھی۔اس سے مزید بولا نا گیا، نظر اٹھا کر اپنے شریک حیات کو دیکھا تو وہ فلک کی جانب نظریں کیے ہوئے تھا۔

ندامت اور تشکر کے آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے بہہ کر داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔اس نے پہلی بار اپنے رفیقِ سفر کو اتنی بے بسی کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا تھا، کچھ بولنا چاہا مگر روتے لبوں کے ساتھ فقط اتنا بول پائی “ارسل مبارک ہو آپ چن لیے گئے ہیں اپنے رب کی طرف سے” یہ سننا تھا کہ ارسل کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ جھلکنے لگی، وہ بھی بے اختیار مسکرانے لگی اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے نہ تھک رہی تھی کہ اس کے رب نے اسے اپنے بندے کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں