اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار – آمنہ صدیقی




“آر یو آ مسلم….؟” اپنے مخصوص برطانوی لہجے میں وہ مجھ سے مخاطب تھا۔
“جی میں مسلم ہوں” میں نے بھی اسی کی زبان میں اسے جواب دیا۔شاید میرے چہرے پر سجی داڑھی نے اسے یہ بات سجھائی تھی۔ کچھ معمول کی باتوں کے بعد وہ چپ ہوگیا اور کچھ سوچ کے بولا،

“تمہیں عجیب نہیں لگتا کہ تم ایک ایسے دین کے پیروکار ہو کہ جس کا نام دہشت کی علامت ہے” وہ بھی وہی باتیں کررہا تھا جو یورپی دنیا کیا اب تو پوری دنیا میں ہر کوئی کررہا تھا۔
“میں تو فخر سے کہتا ہوں کہ میں مسلم ہوں، مجھے اس بات کو بتانے میں کوئی عار نہیں محسوس ہوتا”
“تم دہشت گردوں کے گروہ سے تعلق رکھنے پر فخر کرتے ہو؟؟” اس کے لہجے سے حیرانی عیاں تھیں۔
“دہشت گردوں کا گروہ؟؟”میں نے سوال کیا۔
“اسلام” اس نے جواب دیا۔
“تم نے اسلام کے متعلق یہ رائے کیسے بنائی؟؟” اس کی بات سن کر میں تو سناٹے میں آگیا تھا اور اس کی سوچ کو درست زاویے کی سمت موڑنا چاہتا تھا۔

آج فلک پر ابر کی محفل سجی تھی جس کے نتیجے میں موسم نہایت خوشگوار ہوگیا تھا اور میں اسی کا مزہ اٹھانے گھر کے قریب پارک میں آکر بیٹھ گیا تھا۔ ابھی مجھے بیٹھے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ لڑکا آگیا اور یوں ہماری بات چیت کا آغاز ہوا۔ بات میں نے ہی شروع کی اور پھر موضوع سخن اسلام کی جانب مڑ گیا۔ “ساری دنیا گواہ ہے، خود یہ تلوار کے زور پر یقین رکھتے ہیں، جہاد نامی دہشت گردی انکے لیے ثواب ہے۔ ان کے ہاں نظام انصاف پستی کا شکار، سزائیں نہایت سخت، ظلم کی انتہا ہے”وہ جواب دیتے دیتے جذباتی ہوگیا تھا اور میں بجائے غصے میں آنے کے ہنس دیا تھا۔ غلطی اس کی تھی بھی نہیں جو اس نے دنیا سے سنا اس نے وہ بول دیا۔ وہ اسلام دشمن نہیں تھا بلکہ لا علمی کے مرض کا شکار تھا۔

“آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟” وہ عجیب سے انداز میں مجھے دیکھ رہا تھا۔
” ایکسکیوز می پلیز” میں نے پھر ہنسی روکی اور سنجیدگی اختیار کی پھر بولا،
“تمہیں پتہ ہے جہاد کیا ہے؟؟ اسلام تلوار اگر اٹھانے کہتا بھی ہے تو کن حالات میں؟؟ اور اس کا استعمال کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے؟؟ نہیں، تم نہیں جانتے نہ! پھر تم نے کوئی بھی رائے کیسے بنا لی۔۔ جو لوگوں نے کہا صرف اسے سن کر اپنی رائے بنائی تو بہت معذرت مگر یاتو تم ذہنی غلامی کا شکار ہو یا تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم۔ اگر ہم کوئی بات سنتے ہیں یا دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کا فلاں بات پر فلاں خیال ہے تو اپنی رائے بنانے سے پہلے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں کیسے تحقیق کریں؟ کیسے جانیں کہ اسلام کیا کہتا ہے؟ قرآن اور اسوہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نہ کہ آج کے کسی مسلمان کے کردار کے ذریعے۔”

وہ میری باتیں سن رہا تھا خاموشی سے پھر پوچھنے لگا، ” تو لوگ کیا غلط کہیں گے، پوری دنیا کیا غلط بات کرے گی؟؟”
“اگر ساری دنیا کہہ دے سورج مشرق سے نہیں مغرب سے نکلتا ہے تو مان لو گے؟”
“ہاں اگر سب کہیں گے تو مان لوں گا!”
“یہی تو وہ زنجیریں ہیں جس نے ہماری ترقی کی راہیں مسدود کردیں ہیں، تحقیق نہ کرنا، جو سنا ہے اس کو سچ مان لینا، یہی باتیں ہماری کمزوری کی دلیل ہیں”میں یہ کہہ کر خاموش ہوگیا اور ہماری باتوں کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔۔ چڑیا کے الوداعی نغمے سنتے ہم دونوں الگ الگ سوچوں میں گم تھے۔

میری سوچ اسی بات کے کنارے رقص کررہی تھی کہ اسلام کے بارے میں رائے عامہ اس قسم کی ہونے میں قصور تو آج کے مسلمانوں کا ہی ہے کہ جو اخلاقی پستی کا شکار ہیں، جن کا نظام معیشت ہو یا نظام عدل دونوں ناقص اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ بجائے اسلام کے اصولوں کو زندگی کا حصہ بنائیں، مرعوبیت کی چکی میں پس کر انہوں نے یورپ کا سا طرز زندگی اپنا لیا ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی بیہوش ہی ہوگا جو اسلام کی سمت آئے اور اگر آج کے دور میں کوئی مسلم ہوتا بھی ہے تو خود اسلام کو پڑھ کر ہی اس کا حصہ بنتا ہے نہ کہ مسلمان کا کردار دیکھ کے!!

اپنا تبصرہ بھیجیں