Home » سقوط ڈھاکہ کیا پھر ہوگا؟ – ڈاکٹر فرحت حبیب
افسانے

سقوط ڈھاکہ کیا پھر ہوگا؟ – ڈاکٹر فرحت حبیب

“میری بہن اتنے سالوں بعد بنگلہ دیش سے آرہی ہے”۔شائستہ بیگم نے خوشی سے شوہر کو مخاطب کیا:؛
“کیا دن تھے جب ہم پٹسن کے سنہرے کھیتوں میں بھاگتے پھرتے تھے۔”
“سقوط ڈھاکہ کے بعد تو گویا ان میں آگ لگ گئی تھی!!”شائستہ بیگم ائیرپورٹ جاتے ہوۓ پرانی یادوں میں کھوئ ہوئ تھیں۔

شہناز کا جہاز مغرب کے وقت کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کر چکاتھا۔جلد ہی دونوں بہنیں گھر کی طرف رواں دواں تھیں۔ خون کی محبت تو جوش مار رہی تھی،مگر دونوں ملکوں کی آپس کی تلخ یادوں نے دیواریں سی کھڑی کر دی تھیں۔ گھر پہنچتے ہی کھانے کا انتظام مکمل تھا۔ڈنر کے لیے شہناز کو ٹیبل پر بٹھایا۔بچے پہلی بار خالہ سے مل رہے تھے ،اسلیے جھجھک برقرار تھی ،مگر خوشی چہروں سے چھلک رہی تھی۔
“خالہ! آپ ہم سےپہلی بار ملی ہیں،ایسی کیا وجہ ہے، جو اجنبیت کی دیوار گرنے نہیں دیتی۔اور اتنے فاصلے پیدا کر دئیے”
جواں سال شایان نے شہناز خالہ کو مخاطب کیا:؛

شہناز نے مسکرا کے بھانجے کو دیکھا اور بولیں،”بیٹا ،جب زبان اور رنگ و نسل کی اہمیت انسان سے بڑھ جاتی ہے،تو ایسے سانحے رونما ہوتے ہیں،جن سے انسانیت بھی شرماتی ہے۔”
” ارے چھوڑیں خالہ!اب تو ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا بہت آگے نکل گئی ہے۔ اب تو انسان مریخ پر جانے کی باتیں کر رہا ہے،پلاٹ کی بکنگ کرا رہا ہے۔ دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر آنے والا ہے۔”شایان نے گویا انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
“مگر ہم آج بھی سندھی مہاجرجھگڑوں، بلوچستان لبریشن آرمی، صوبہ جنوبی پنجاب ،میں الجھے ہوۓ ہیں:؛”شائستہ بیگم بولیں .
اوہ!!!شہناز کو جھٹکا سا لگا۔
“یعنی پاکستانیوں نے سقوط ڈھاکہ سے کوئ سبق نہیں سیکھا۔
“آج بھی کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہیں۔جب تک مسلمان آپس میں بھائی بھائی نہیں بنیں گے ۔نفرت کو ہوا دیتے رہیں گے۔”شائستہ نے شعر پڑھا،

وقت کرتا ہےپرورش برسوں؛
حادثہ یونہی رونما نہیں ہوتا:

ہمارا ملک ادھورا ہے ،پنجاب کی ہریالی کے بغیر،سندھ کے سمندر کے بغیر،بلوچستان کے معدنی وسائل کے بغیر،کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے حسین مناظر کے بغیر:؛”شائستہ بیگم ایک جزب کے عالم میں بولے جا رہی تھیں۔
کاش!، سب اپنا اپنا مفاد دیکھنے کے بجاۓ حب الوطنی کا ثبوت دیتے۔” پھرشہناز بچوں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوۓ بولیں،
“آج 16 دسمبر ہے،سقوط ڈھاکہ کو نصف صدی مکمل ہوئ۔یہاں بہت سے شکر مناتے ہیں کہ چھوٹے قد والے کالے کالے بنگالیوں سے جان چھڑا لی۔

عصبیت کی نفرت نے اپنوں کو خون میں نہلایا۔اتنی نفرت کہ بیٹیوں کے سروں سے چادریں کھینچ لیں،گھر جلا ڈالے،کاروبار تباہ کر دیے۔مگر نفرت کی آگ کو بھارت ہوا دیتا رہا اور وہ بھڑکتی رہی۔ آج بھی بنگلہ دیش میں پھنسے مہاجر مسلمانوں پر زمین تنگ ہے انہیں پاکستان بھی قبول کرنے کو تیار نہیں،وہ بنگلہ دیش کے چھوٹے چھوٹے کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔انکے پاس شناخت نہیں ہے۔وہ تعلیم و روزگار کے اہل نہیں رہے۔”شہناز دکھ اور کرب کے عالم میں بولے جا رہی تھیں۔
“ہہمم!!!آج کراچی کا یہی حال کیا جا رہا ہے۔”
شائستہ بیگم نے یہاں کی حالت زار سے پردہ اٹھایا۔
“مگر اس بار یہ بیوقوف اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں،جس پر خود بیٹھے ہیں۔کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے دنیا بھر سے تجارت ہوتی ہے۔سب سے زیادہ آبادی والا شہر’کل 72% ٹیکس دیتا ہے۔مگر ان سے سوتیلوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔”

کہیں فرقہ بندی ہے اور کہیں ذاتیں ہیں،؛؛
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؛؛۔

واہ!!امی نے کیا برجستہ شعر پڑھا ہے،شایان نے تالیاں بجائیں۔

” آج اگر ہم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑا ،تو ہمیں دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اور تاریخ خود کو اسطرح دہراۓ گی کہ ہمیں اقوام عالم کے سامنے چلو’بھر پانی بھی ڈوبنے کے لئے نہیں ملے گا۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔” یہ کہتے ہوۓ شائستہ بیگم نے محفل برخاست ہونے کا اشارہ دیا،اور سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کے لئے اٹھ گیے۔