Home » اے پی ایس سانحہِ – عیشۃ راضیہ شہزاد
افسانے

اے پی ایس سانحہِ – عیشۃ راضیہ شہزاد

آہ۔ہ۔ہ دسمبر پھر لوٹ آیا پھر وہی دن، وہی یادیں وہی چیخ و پکار آہ۔دسمبر میرے زخموں کو جلانے میرے اپنوں کو رولانے پھر آگیا۔

میں نہیں بھولہ وہ ظلم و شہادتیں
وہ معصوم فرشتوں کی عبادتیں
بارودکےشعلےاورتڑپتےہوئےبچے
میں آج تک نہیں بھولہ وہ قیامتیں

ارے! ماں دیکھ میرے ننھے سفید ہاتھوں کو اس نے کالا کر دیا اس نے میرے ہاتھوں پر سیاہی پھیک دی۔ میں نے اپنے ننھے ہاتھوں کو ماں کے سامنے بڑی معصومیت سے پھیلایا۔ عمر یہ کس نے کیا؟ تیرے ہاتھ تو کالے سیاہ ہورہے ہیں۔ ماں پریشان ہو کر میری طرف ایسے لپکی جیسے مجھے کسی نے کوئی زخم دیا ہو۔ ہاں ماں ؟اس ظالم نے میرے ہاتھوں کو گندا کردیا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ تیرا تو باپ رکشہ چلاتا ہے نا۔ دن بھر سڑکوں پر خواری کرتا ہے ۔ہم لوگ غریب اور فلاں فلاں ایسی بہت سی باتیں کر رہا تھا۔ماں مجھے غصہ آگیا اور میں نے اس کے منہ پر الٹے ہاتھ کا چماٹ رسید کردیا بدلے میں اس نے میرے ہاتھوں پر سیاہی پھینک دی اچانک حملے سے میں نے اپنے آپ کو تو بچا لیا مگر دیکھ میرے ہاتھ گندے ہوگئے۔ میں نم آنکھوں سے اپنی پریشان ماں کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پھر کبھی دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہو۔ ہہ۔ہ۔ہ میرے بچے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ جو کہہ رہا تھا اسے کہنے دیتے دیکھ نتیجے میں تو ہی گندا ہوگیا۔ اس کا سفید چہرہ گلابی ہو گیا تھا میرے سوال پر تو اس کی آنکھیں ایسے بھر آئی جیسے وہ اپنے اندر ایک بھاری طوفان سنبھالے بیٹھی ہو وہ طوفان جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہو کم ہونے کا نام ہی نہ لیتا ہو۔
ماں ! باپ جو کام کرتا ہے وہ شرمندگی کا باعث ہے کیا؟ کیا ہم غریب ہیں؟

بس میرا یہ سوال پوچھنا تھا کہ ماں نے مجھے اپنے سینے سے چمٹا لیا اس کے ڈھیروں آنسو پلکوں پر ہی ٹھہر گئے تھے اور پلکوں سے گرنے والے کچھ آنسوؤں کو میں نے اپنے سیاہ ہاتھوں سے تھام لیا۔ ماں میں بڑے ہو کر اپنی باپ کا سہارا بنوں گا اور بڑا کام کروں گا تاکہ دوبارہ کوئی ہمیں غریب نہ کہے۔ میں تجھے کبھی رونے نہیں دوں گا ۔میں تم دونوں کی خوشی کی وجہ بنوں گا اس کے بعد جب میں بہادر فوجی بنوں گا تو کوئی ہم پر سیاہی نہیں پھینک پائے گا۔ مجھ چھوٹے بچے کے چھوٹے دلاسے کچھ پرعزم تو نہ تھے مگر ماں کے آنسو یکدم ٹھہر گئے اور وہ میری طرف بے چارگی سے دیکھنے لگی ۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ پائیں شاید کسی وقت کا انتظار کر رہی ہو۔ میں نے اس وقت ماں کے جذباتوں کو سنبھال لیا تھا مگر اس دن کے بعد کبھی نہ دوبارہ سنبھال سکا۔اگلی بار ماں کے جذباتوں کو سنبھالنے کے لیے میں موجود نہ تھا بلکہ میں تو سفید چادر میں لپٹا بے جان پڑا تھا ۔

اگلے دن صبح ماں جلدی اٹھ گئی اور میرے سرہانے بیٹھ گئی میری آنکھ کھلی تو دیکھا کچھ ہلتے لب۔۔ کچھ پڑھتے لب۔۔ جب مجھے دیکھا تو دھیرے سے مسکرا دیا اور اپنے حصے کی سب دعائیں مجھ پر پھونک دی۔ میرے ہاتھوں کو دھولایا، کنگھی سے میرے بالوں کو سنوارا، مجھے ایک دم چمکتا یونیفارم پہنایا ،پھر مہکی خوشبو سے آراستہ کیا ،میرے منہ میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر بستہ تھمایا، بہت سی دعاؤں سے نوازا اپنے گلابی ہاتھوں سے میرے چہرے کو سہلایا بہت سا پیار دے کر اسکول کے لیے روانہ کر دیا۔اس امید سے کہ میرے واپس آنے کے بعد ماں کو مجھ سے بات کرنی ہے جو وہ کل رات نہ کر پائی۔ساتھ ہی ابا نے میرے ہاتھ کو تھام لیا گھر سے کچھ قدم بعد انہوں نے کہا : خوب دل لگا کے پڑھائی کرو میں نے تمہیں ایک دن فوجی افسر بنتے دیکھنا ہے۔ تم جب بڑے ہو جاؤ گے تو میرے کاندھوں پر جو بوجھ ہے وہ تم کو سنبھالنا ہے۔ میں نے باپ کے اچانک جملے پر نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کی کالی آنکھوں پر آنسوؤں کی قطار تھی ۔مجھے یقین آ گیا کہ رات ماں اور میرے درمیان ہونے والی گفتگو سے ابا واقف ہیں۔ ابا مجھے چھوڑ کر اپنے کام پر نکل گئے اور پھر میرے اوپر۔۔۔۔ بلکہ نہیں ہم سب کے اوپر کس ظالم نے حملہ کردیا

وہ کون تھے؟کہاں سے آئے تھے ؟ ان کا دین و مذہب کیا تھا ؟ وہ چاہتے کیا تھے؟ کیوں سب کو خون سے نہلا رہے تھے؟ انہوں نے اس دن خون کی ایسی ہولی کھیلی جس کی چھینٹے میری ماں سمیت سب ماؤں کی دامن میں جاگری۔میں اس کھیل سے بچنے کے لئے ٹیچر کے پاس بھاگا مگر وہ تو آگ میں لپٹی تھی وہ مجھ سے زیادہ خطرناک کھیل کا حصہ تھی۔ میرے عزیز دوستوں کو ایسی دردناک موت کی گھاٹ اتارا گیا کہ دنیا کی ہر شے تڑپ اٹھی۔میں بائیں طرف مدد کو بھاگا تو تو دروازے کے پیچھے اسد خاموش آواز میں سسکتا نظر آیا۔میں اس کی طرف مدد کو بڑھا ۔میں اپنے دوست کو ظالموں کے ہاتھوں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔مگر چند قدم سے زیادہ آگے نہیں بڑھ پایا۔کالے نقاب والے ظالموں نے اسے خون میں رنگ ڈالا تھا اور پھر ان گیڈروں کے میری طرف بڑھتے قدموں نے مجھے رات ماں سے کیے وعدے کی یاد دلا دی۔

“ماں میں تمہیں کبھی نہیں رونے دوں گا۔” میں اپنے ماں باپ سے کیے وعدے کو ادھورا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔یہ سوچ کر میں نے نیچے پڑے پتھر کو ہاتھ اٹھا لیا جو میری ڈھال بن جانے کے قابل بلکل نہ تھا۔
“اور مجھے باپ کا سہارا بھی تو بننا ہے ” یہ سوچ کر میں نے اپنے پاؤں میں پہنا جوتا اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔میری طرف ان کا بڑھتا تیسرا قدم نے مجھے یاد دلایا کہ:
“مجھے ماں باپ کی خوشی کا ذریعہ بھی تو بننا ہے؟ یہ سوچ کر میں نے جیب میں رکھا قلم اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ مگر پھر اس ظالم کے ہاتھوں چلنے والی گولی نے میرے سینے کو ایسے چیر دیا جسے میں نہ ہی اپنے قلم سے نہ کسی جوتے اور نہ کسی پتھر سے روک سکا اور چند ہی لمحوں میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ زمین ڈھیر ہوگیا۔

دروازے کے ایک کونے میں بیٹھی میری پیاری سسکتی ماں میرے سفید کفن میں لپٹی لاش کو ایسے تک رہی تھی کہ جیسے میں آج پھر ہاتھوں پر سیاہی گرنے کی شکایت کروں گا۔ہمیشہ کی طرح میری ماں بالکل درست تھی۔مگر اس بار میرا شکوہ پہلے سے کچھ منفرد تھا۔
“دیکھ …..مگر میرا وعدہ ادھورا نہیں رہا میں اپنی ماں اور باپ کی خوشی کا باعث بنا۔وہ ایک شہید بیٹے کی ماں اور باپ ہیں”