Home » ذرا نم ہو تو یہ مٹی… – عیشہ شہزاد
افسانے بلاگز

ذرا نم ہو تو یہ مٹی… – عیشہ شہزاد

صارم! میں یہاں تمہیں نا امید دیکھنے نہیں آیا بلکہ تمہارے جذبات و تاثرات دیکھنے آیا ہوں۔ جاوید نے صارم کے کندھوں پر تھپتھپاتے ہوئے اسے تسلی دی اور اس کے ٹوٹے جذبات کو بحال کرنے کی کوشش کرنے میں لگا رہا۔ صارم نم آنکھوں کے ساتھ خاموش لیٹا اپنے دوست کو تکتا رہا۔ جاوید اس خیال میں مبتلا تھا کہ صارم اس حادثہ کے بعد اپنے آپ سے نا امید ہو جائے گا۔

دراصل صارم اور جاوید بچپن سے بہترین دوست تھے۔ جاوید صارم سے کئ سال بڑا تھا اس کے باوجود صارم کو جاوید کے ساتھ وقت گزارنا،باتیں کرنا ،گھومنا پھڑنا بہت پسند تھا اور یہی وجہ تھی کہ دونوں کو ہی آرمی میں دلچسپی تھی۔جاوید بہت بہادر ،دلیر اور بے خوف نوجوان لڑکا تھا اور وہ جلد ہی اپنے خوابوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہا جو اس کے لیے زیادہ مشکل نہ تھا۔
جاوید عباس اب ایک کرنل بن گیا تھا کچھ سالوں پہلے ہی جاوید نے اپنے دوست صارم کا آرمی میں داخلہ کروا دیا تھا۔ صارم جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نا امید ہو جانے والا لڑکا تھا مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ اس کی سوچ میں پختگی آگئی تھی۔ گزشتہ رات ہونے والے چھوٹے سے حملے میں صارم اپنا بازو ضائع کر بیٹھا تھا دو دن بے ہوشی میں رہنے کے بعد جب صارم کو ہوش آیا تو اس نے جاوید عباس کو اپنے سرہانے بیٹھا پایا۔

“صارم تم نے ایک بہت بڑا کام سر انجام دیا ہے تم نے ثابت کر دیا کہ تم ایک بہترین فوجی ہو اور جہاں تک اس بازو کی بات ہے تو اللہ نے تمہیں دوسرا ہاتھ بھی دیا ہے جس سے ایک طاقتور فوجی اپنے دشمنوں کا شکار آسانی سے کر سکتا ہے۔”جاوید عباس نے ایک بار پھر صارم کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی مگر جواب سن کر وہ حیران رہے گیا۔
“کرنل جاوید عباس صاحب! میں واپس ٹریننگ میں کب جاؤں گا۔”صارم نے اپنی خاموشی توڑ کر پہلا جملہ اپنے منہ سے نکالا جس نے جاوید کو حیران کردیا۔
“صارم انشاللہ تم جلد اپنی ٹریننگ میں واپس جاؤ گے مگر ابھی کچھ مہینوں تک تمہیں آرام کی ضرورت ہے مگر میرے بھائی یہ زخم تمہیں کمزور نہ کردیں۔”

“نہیں میرے بھائی تم مجھے نہیں جانتے !میں بدل گیا ہوں۔ ہم اس وقت نہیں سیکھتے جب چیزیں آسان ہوتی ہے ہم تب سیکھتے ہیں جب ہم مشکلات کا سامنا کرتے ہیں”صارم کی چہرے کے تصورات ایک دم بدل گئے تھے۔اس کا بلند حوصلہ دیکھ کر جاوید عباس اپنے دوست سے بہت متاثر ہوا اور فرطِ جذبات سے اسے گلے لگا لیا اور اس سے الگ ہوتے ہوئے جاوید عباس نے صارم سے کہا” کیا خوب کہہ گئے اقبال۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。