افسانے بلاگز

وضو کی برکت – ڈاکٹر فائزہ امجد

منظر۔۔۔دادی جان،امی جان،احمد اور زینب لاؤنج میں بیٹھے ہیں۔عصر کی اڈان سنائی دیتی ہے۔ سب نماز کی تیاری کے لیئے فورا وضو کے لیئے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔احمد بھی مسجد کے لیئے باہر کی طرف جاتا ہے۔۔۔ امی جان:احمد بیٹے وضو کیے بنا ہی جارہے ہو۔

احمد: جی امی وضو مسجد جا کر ہی کروں گا۔ امی جان:بیٹا گھر سے وضو کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔
احمد:امی جان لوگ تو وہاں ہی وضو کر رہے ہوتے ہیں تو میں بھی وضو ادھر ہی کر لوں گا۔
امی جان:آپ تو نماز کے لیئے گھر ہی سے روانہ ہو رہے ہو ضروری تو نہیں وہ سب بھی گھر سے آرہے ہوں۔کوئی اپنے دفتر سے اٹھ کر کوئ دکان سے اٹھ کر تو کوئ سفر کرتے ہوئے نماز کے لیئے مسجد آرہا ہوتا ہے تو انکے لیئے ایک تو آسانی پیدا کرنا اور دوسرا میرے پیارے بیٹے! آپ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! جو شخص گھر سے وضو کرکے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیئے جاتا ہے۔تو اسکے مسجد پہنچنے پر خدا ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کسی مسافر کی سفر سے واپسی پر گھر والے اس سے مل کر خوش ہوتے ہیں۔کیا میرا بیٹا نہیں چاھے گا رب اس سے خوش ہو۔ احمد:اچھا امی جان میں آئندہ ہمیشہ کوشش کرتا رہوں گا کہ وضو کے ساتھ ہی مسجد جایا کروں ۔تاکہ میرا رب مجھ سے خوش ہو انشااللہ۔۔ اتنے میں زینب وضو کر کے لاؤنج میں داخل ہوئی۔
امی جان:زینب آپ وضو کر کے بھی آ گئ۔ زینب:جی امی جان آپ بھائ سے باتوں میں مصروف تھی تو میں وضو کے لیئے چلی گئ۔
امی جان: لیکن زینب آپ کے کہنیاں تو سوکھی ہیں اور پاوں کا کچھ حصہ بھی سوکھا پڑا ہے۔
زینب:نہیں نہیں۔امی جان میں نے تو وضو اچھے سے ہی کیا ہے۔

امی جان: ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے وضو کی فضیلت و برکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:”وضو کی وجہ سے میری امت کےوضو کے اعضا(چہرے ہاتھ اور پاؤں) جگمگا رہے ہوں گے” کیا آپ چاھو گی کہ قیامت کے دن آپ کے وضو والے اعضا جگمگا رہے ہوں؟
زینب:امی کے گلے میں بانہیں ڈال کر۔جی امی جان میں اب سے ہمیشہ وضو کا مکمل اہتمام کیا کروں گی۔انشااللہ۔۔تاکہ قیامت کے دن میں اپنے اعضا کے چمک سے آپ محمد صلی علیہ والہ وسلم کی امتی ہونے کے ناطے پہچانی جاوں۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment