Home » حد – سمرا ملک
افسانے بلاگز

حد – سمرا ملک

“ابا جی! کل عائشہ نے بہت بد تمیزی کی ہے تیمور سے۔” صدیق صاحب اخبار چھوڑ کر انیقہ کو دیکھنے لگے۔ انیقہ ان کی واحد اولاد تھیں جو شادی کے بعد ساتھ رہ رہی تھی۔
“اچھا۔۔۔ اور آپ نے کچھ کہا عائشہ کو؟”
“جی ابا جی ڈانٹا تھا بہت۔” صدیق صاحب گویا ہوئے۔
“تیمور نے جو حرکت پرسوں کی تھی اس پر تو آپ نے اور آپ کی والدہ نے یہ کہا تھا کہ وہ بچہ ہے اور غلطیاں معاف کرکے آگے بڑھ جانا چاہیے, لڑائی جھگڑے, مار پیٹ کا کیا فائدہ جو غلط ہے اسے سمجھاؤ اور آئندہ کے لیے سدھار دو۔ تو پھر آپ نے عائشہ پر آواز کیوں اٹھائی؟ اس نے جو کیا وہ غلطی نہیں تھی یا پھر اس نے کیا اس لیے معافی کے قابل نہیں تھی؟ یہ آپ نے اور دنیا والوں نے اپنی باتوں کے اتنے ڈبل سٹینڈرڈز کیوں رکھے ہوئے ہیں بیٹا؟ کوئی چاہنے والا, من چاہا, غلط کرے تو وہ غلطی ہے اور یہی غلطی کسی دوسرے سے ہوجائے تو اسے گناہ کیوں سمجھ لیا جاتا ہے؟ مجھے بہت افسوس ہے کہ میری اتنی پرورش اور محنت کے بعد بھی آپ دنیا والی بن گئی ہیں۔”

انیقہ کے شوہر کو بیٹیاں پسند نہیں تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انیقہ خود بھی عائشہ سے کھچی کھچی رہنے لگی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ انیقہ کے کزن تیمور پر زیادہ توجہ دیتیں اور عائشہ کو نظر انداز کرنے لگی تھیں۔

“عائشہ نو سال کی بچی ہے۔ اور جب بچوں کو اپنی جگہ اور اہمیت جاتی نظر آئے تو ان کا ردِ عمل ایسا ہی ہوتا ہے۔ طبیعت میں چڑچڑا پن اور لہجے میں غصہ اور ناراضگی محسوس ہوتی ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ سب اس کو توجہ دیں, سمجھائیں, مل جل کر رہنا سکھائیں، اس پر غصہ کرکے اسے اور باغی بنا رہے ہیں۔ تیمور ابھی کل کا بچہ ہے چند دن پہلے اس گھر میں آیا ہے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ایک بڑے حادثے سے گزرا ہے اپنے ماں باپ کھو دیے اس نے, اس کو پیار اور توجہ کی ضرورت ہے۔ لیکن اب وہ اسی گھر میں رہے گا تو آپ کو چاہیے آپ دونوں بچوں میں برابری رکھیں اور ان میں اتفاق کو فروغ دیں نہ کہ ڈانٹ اور مار سے کام لیں۔”
“لیکن ابا جی! عائشہ بھی غلط ہے۔ آپ اس کو بھی سمجھائیں۔” انیقہ خائف انداز میں گویا ہوئی تھیں۔
“جی بیٹا! اس کو بھی سمجھاؤں گا مگر پیار سے۔ اس کے بڑوں کو بھی سمجھنے کی بہت ضرورت ہے کہ دنیا میں ایک اصول ہے جو زندگیاں اور رشتے کامیاب بناتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیار دوگے تو پیار ملے گا, عزت کے بدلے عزت غرض ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوگا۔ اگر ایکشن اچھا ہے تو سمجھو ری ایکشن اچھا ہے۔ ایکشن اچھا نہیں ہے تو آج نہیں تو کل اس کا ری ایکشن اچھا نہیں ہوگا۔ بچوں کو بھولتا کچھ نہیں ہے۔ ابھی لحاظ کریں گے تو جوانی میں غصہ سامنے آئے گا یا اس کے بعد۔۔۔ مگر آئے گا ضرور۔ تمام باتیں ان کے دماغ میں گردش کرتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ لاوا بن کر پھٹ جاتے ہیں۔ پھر اس وقت کے پچھتاوے سے اچھا ہے آج محنت کی جائے , محبت دی جائے اور تم فکر نہ کرو۔ میں اسے سمجھا دوں گا احسن طریقے سے۔ وہ آئندہ بد تمیزی نہیں کرے گی اور اپنا دل وسیع رکھے گی۔ میری دعا ہے اللّٰہ سے اور وہ میری شہزادی ہے، ضرور عقل سے کام لے گی ۔ ان شاء اللّٰہ !”

کچھ دن بعد۔۔۔!
“اللّٰہ تعالی حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور تم اپنی حدود سے مت نکلو۔” (القرآن)

صدیق صاحب اپنی نو سال کی نواسی کو قرآن سکھا رہے تھے۔
“حد کیا ہوتی ہے نانا؟”
حد۔۔۔ ہر وہ باؤنڈری جس سے باہر نکل کر جو بھی کام کیا جائے وہ قابلِ قبول نہ ہو۔ جس کے بعد صرف تباہی اور خسارہ ہو۔ جیسے حرام اور حلال کا فرق۔ اللّٰہ نے حلال سے حاصل کرنے کے طریقے بتادیے اور ایک باؤنڈری سیٹ کردی اس سے باہر جو ہوگا وہ مکروہ یا حرام ہوگا۔ اور آسان الفاظ میں سمجھاؤں تو لمٹس۔ کسی بھی چیز کی اب چاہے وہ کسی سے محبت کا معاملہ ہو, دوستی کا ہو, رشتہ داری کا یا غرض کچھ بھی۔ لمٹس سے باہر جو کام ہوگا وہ تباہی اور دکھ کا باعث ہوگا۔”
“وہ کیسے نانا ابو؟”
“وہ ایسے بچے کہ جب ہم کسی کو بہت محبت دیتے ہیں تو ہماری امیدیں بڑھ جاتی ہیں جب وہ پوری نہیں ہوتی تو لڑائیاں ہوتی ہیں اور دکھ پہنچتا ہے۔ بہت زیادہ محبت یعنی لمٹس کراس کرکے جیسے ہر وقت کسی کے لیے موجود رہنا۔ دوستی کی لمٹس یہ ہیں کہ دوستی حد سے بڑھ جائے جیسے ہر وقت کا ساتھ, بے شمار باتیں, اور ہر چیز کی شئیرنگ۔ جب چیزیں حد سے بڑھ جائیں تو اپنی اہمیت, قدر اور خاصا کھو دیتی ہیں۔ اگر ہمیں کبھی کسی کی کوئی بات بہت بری لگے یا کسی کو ہماری۔۔ چلو دو دوستوں کا معاملہ لے لیتے ہیں۔ بہت اچھی دوستی کے بعد اگر کبھی ان میں لڑائی ہوجائے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کا بہت دل دکھا دے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے لمٹس کراس کردی تھیں۔۔۔ جب دوستی حد سے بڑھ گئی تو تباہی لائی, اور دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے کوئی باؤنڈری سیٹ نہیں کی۔ یہ جو حد ہے نا بیٹا زندگی کے ہر معاملے میں چیزوں کو ٹھیک رکھتی ہے۔”
“نانا ایک سوال ہے” عائشہ گویا ہوئی تھی۔
“یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ کسی ایک کا غصہ دوسرے کی کسی حرکت کا ری ایکشن ہو؟” نانا عائشہ کی بات کا مطلب سمجھ گئے تھے یقیناً اس کا اشارہ کچھ دن پہلے واقعے کی طرف تھا۔
“ہاں بالکل بیٹا! ہو سکتا ہے مگر اس کی بھی دو صورتحال ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہم کسی سے بہت بد گمان ہوئے ہوں کہ اس کا چھوٹا سا عمل ہمیں بہت بڑا معلوم ہو رہا ہو اور اس عمل کا ری ایکشن ہم اور بڑا دے دیں۔ اور جب وقت گزرے تو ہمیں احساس ہو کہ معاملہ صبر اور برداشت سے سنبھالا جا سکتا تھا ۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی واقعی ہمیں بہت زیادہ ہرٹ کر رہا ہو اور ہم اس کے بدلے میں اس سے مزید بدتمیزی کردیں۔ یہ نوبت آئی ہی کیوں؟ اسی لیے نا کہ انہوں نے پھر اپنی حدود کراس کردیں۔ حدود صرف محبت میں نہیں ہیں بیٹا۔ ہر چیز کی حد ہے اور اس حد کے بعد تباہی ہی ہے۔ ہم ہرٹ اس لیے ہوئے کہ انہوں نے وہ باؤنڈری کراس کردی یا ہم نے باونڈریز سیٹ ہی نہیں کی ہوتیں۔ پھر جب سامنے والے نے حد پار کی تو ہم نے بھی ایک غلطی کی وہ یہ کہ ہم نے فل ری ایکشن دیا یہاں ہم اپنی لمٹس کراس کر جاتے ہیں یعنی ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا تھا مگر ہم نے اپنی ذات روند کر غصہ میں آکر برابری کا مقابلہ کرنا چاہا۔ اس سے بات مزید بگڑ جاتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے جب ایک غصہ میں ہو تو دوسرا خاموشی کا مظاہرہ کرے اور جب وقت گزر جائے تھوڑا سا تو آرام سے بات کرلی جائے۔ اب اس دن امی نے مجھے بتایا آپ کی کہ آپ کی بھائی سے لڑائی ہوگئی تھی۔ کیوں ؟ اس لیے کہ آپ کو لگ رہا ہے وہ آپ کی جگہ لے رہا ہے۔ آپ کو اس کا آنا اچھا نہیں لگا۔ تو کیا آپ دونوں یونہی لڑیں گے؟ یہ وقت تو بہت خوبصورت ہے بچے اس وقت کو کھل کر جینے کی کوشش کریں۔ اب کل آپ بھائی سے بات کریں انہیں سب سمجھائیں ان کی بات سنیں اور سمجھیں پھر آپ دونوں اپنی باؤنڈریز سیٹ کریں کہ ان لمٹس کو ہم نے کراس نہیں کرنا چاہے وہ امید کی ہوں یا پھر غصے میں اٹھائے جانے والے اقدام اور کہے جانے والے الفاظ کی۔ میں بھی سب سے بات کروں گا اور سب کو سمجھاؤں گا۔ میرے بیٹے جب ہم کسی کو عزت اور محںت سے سمجھاتے ہیں تو وہ ہمیں سنتا بھی ہے اور سمجھتا بھی ہے۔ آپ تھوڑا سا صبر کریں۔ بھائی بھی تو اپنے پیرنٹس کو کھو چکا ہے۔ اب ہم نے ہی اس کا خیال کرنا ہے اور مل بانٹ کر رہنا ہے تاکہ اسے اپنے ماں باپ کی کمی زیادہ محسوس نہ ہو یا پھر وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوجائے۔ آپ اللّٰہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کے امی ابو اور میں ہم سب آپ کے پاس ہیں جو آپ سے باتیں کرتے ہیں۔ آپ کو سنتے ہیں اور سمجھاتے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ میرا پیارا بیٹا اب زندگی کے ہر معاملے میں حد میں رہ کر فیصلہ کرے گا۔”
“جی نانا ابو کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کو حدود سے نکلنے والے پسند نہیں ہیں اور میں اللّٰہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ تھینک یو نانا ابو۔ میری اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اب وہ مجھے, آپ کو اور ہم سب کو حدود میں رہ کر جینا سکھائے۔ آمین !”

Add Comment

Click here to post a comment