Home » روک ہے حجاب – طاہرہ فاروقی
افسانے

روک ہے حجاب – طاہرہ فاروقی

دروازے پر بیل ہوئی….. عافی اور ارمان نے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
ارمان نےدروازہ پر جا کر دیکھا  تھوڑی دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور ارمان بڑی سی پلیٹ میں کچھ لئے ہوئے گھر میں واپس آیا ،

“کون تھا؟” پلیٹ دیکھ کر عافی کی تیوری چڑھ گئی ۔
“سامنے والوں کا بیٹا تھا ۔ اف بریانی میری کمزوری۔۔۔!”
“اووفوووہ!! توبہ ہے ارمان ….. آپ تو اسطرح کرہے ہیں جیسے پہلی دفعہ بریانی دیکھی ہو. عافی انتہائی ناگواری سے بولی۔
“پہلی دفعہ دیکھنے سے پسندیدگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں بنتا……. “، ارمان اسکے غصے کو نظرانداز کرکے کچن سے چمچہ اٹھالایا اور بریانی کھانی شروع کردی، عافی کی تو بس ہی ہوگئی ،
جھلا کر اس نےارمان کے ہاتھ سے پلیٹ چھینی۔۔۔
” ہرالٹی سیدھی گندی سندی چیز کھانے کو کیسے تیار ہو جاتے ہیں” ،ارمان بغور عافی کے رویے کو دیکھ رہا تھا . بظاہر اس کا دھیان کھانے کی طرف تھا لیکن اصل میں اس کے دماغ میں کچھ اور چل رہا تھا. اس نے بے نیازی سے کہا ،
” کیوں بھئی ؟ کیا گندگی لگ گئی اس میں ؟؟ اپنے گھر سے لایا اور سیدھا میرے گھر دے دیا . اس نے تھوڑا سا راستہ تھا اتنے میں کیا گندگی لگی؟”

“پھر بھی یہ کوئی تمیزتہذیب نہیں ہے کہ کھانا بغیر ڈھکے باہر بھیج دیا جائے ….. ہر ایک کی نظر پڑے …. دھول مٹی مچھر مکھی …… ایک ذرا سا کوئی چیز اوڑھادینے میں کیا چلا جاتا ہے؟”
عافی کی نظر میں تو وہ کھانا کھانے کے لائق بچاہی نہیں تھا
“اتنا غصہ کیوں کیے چلی جارہی ہو؟” ارمان نے مصنوعی حیرانگی سے کہا
“اور یہ ڈھانکنے چھپانے کا مسئلہ تمہمارے نزدیک اتنا اہم کب سے ہو گیا؟” ،ارمان کا لہجہ طنز کی کڑواہٹ لئے ہوئے تھا۔
” کیا مطلب ؟؟” عافی کو بے طرح شاک لگا ۔۔۔۔
“کیا مجھے سینس نہیں ہے ڈھکے اورکھلے کا ؟اسطرح کیوں کہہ رہے ہیں آپ مجھ کو؟؟؟ ” وہ نروس ہو گئی،
“اگر سینس ہوتا تو کھانے کے بجائے خود کو ڈھانپنے کی فکرنا کرتیں؟؟”، ارمان تو باقاعدہ ناراض لگ رہا تھا۔۔۔
“کیا میں کھلی رہتی ہوں کیا میں پورے کپڑے نہیں پہنتی ؟؟؟ کیا ہوگیا ہے آپ کو کیسی باتیں کر رہے ہیں.”
عافی بے بسی سے روپڑی.

“ہمیشہ تو نہیں لیکن تقریبات میں آپ کی سجاوٹ و بناوٹ اس بریانی کی بوٹیوں سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب دھول مٹی سے زیادہ کثیف جذبات کےساتھ لوگ آپ پر قربان ہو رہے ہوتے ہیں اور مکھیوں سے زیادہ غلیظ نگاہیں آپ پر بھنبھنا رہی ہوتی ہیں۔اس وقت میں اس کھلی بریانی کو۔۔۔۔”
“بس کریں ارمان خدا کے لئے بس کریں عافی نے زچ ہوکر ہاتھ جوڑ دیے  “کبھی  آپ نے کبھی کہا توہوتا کبھی احساس بھی دلایا ہوتا تو میں کیئر فل ہو جاتی”،
“ڈھکے چھپے لفظوں میں تو کئی دفعہ کہا کھل کر اسی لیے نہ کہا کہ اگر مخالفت ہوگی تو نباہ مشکل ہو جائے گا اور اگر مجبورا  فرمابرداری ہوئی تو یہ بھی مجھے گوارا نہیں۔ میں بس مناسب موقع کی تلاش میں تھا” 
” تو یعنی کے آپ کو میرا سجنا سنورنا پسند نہیں؟”
“بلکل پسند ہے مگر بس اوپر کچھ ڈھانگ لے ورنہ اسی بریانی کی طرح ہر بھوکےکی نظر ، دھول ، مٹی ، مچھر ، مکھی سب کے لئے عام  دعوت لگتی ہے”۔

ارمان مسکرا کر کہہ رہا تھا تھا اور عافی شرمندگی سے گردن جھکائے بیٹھی تھی ،پشیمانی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔
ارمان نے بات آگے بڑھائی ،
“اگرچہ تمہاری آرٹی فیشل جیولری سامنے ہی پڑی رہتی ہے مگر تم اپنی سونے کی جیولری کبھی باہر نہیں چھوڑ تیں کہ ماسی کی نظر نہ پڑ جائے۔”
“حالانکہ گھر میں سی سی ٹی وی کیمرہ موجو د  ہے اور تم اسے رنگے ہاتھوں پکڑ بھی سکتی ہو لیکن تم تو احتیاطا اس کی نظر ہی نہیں پڑنے دینا چاہتیں۔ قیمتی چیز ہے نا۔دیکھو اللہ تعالی نے تمام پھل اور سبزی نازک چھلکوں لپیٹ دی ہے ….. مگر جو کہ قیمتی میوے ہیں ان کو لکڑی کی ڈبیوں میں بند کر دیا تاکہ حفاظت سے رہیں کوالٹی بھی خراب نہ ہو۔ عورت کی عزت کیا اس سے بھی ہلکی ہے ” ،ارمان کی نظریں بڑی تیکھی تھیں۔۔۔۔!عافی انکا سامنا نہ کر پا رہی تھی۔ وہ پلیٹ اٹھا کے دوسرے کمرے میں جانے لگی اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا کہ اب وہ ہمیشہ خود کو ڈھانپنے کا مناسب اہتمام کرے گی۔

“ارے بھائی بریانی کی پلیٹ تو ادھر دو تمہاری باتوں میں ٹھنڈی ہو گئی”
“پھر وہیں بریانی پہ پہنچ گئے ارمان خدا کے لئے”،عافی کھسیانی مسکراہٹ سے بولی
“ارے بھائی وہ بچہ اخبار ڈھانک کر لایا تھا میں نے اخبار لپیٹ کر باہر ہی رکھ دیا تھا۔”
ارمان اب کھل کر ہنس رہا تھا۔۔۔!!!!!!!

Add Comment

Click here to post a comment