Home » نو ویلنٹائن ڈے نو – فوزیہ اسرار
افسانے

نو ویلنٹائن ڈے نو – فوزیہ اسرار

“بھائی جان ….. آپ بھابھی کو کیا گفٹ بھیج رہے ہیں؟ فروری آگیا ہے ۔”
علینہ نے کمال بے تکلفی سے عامر کو مخاطب کیا۔ وہ ایک دم سے پلٹا جو آفس کے لئے نکل رہا تھا۔
“کیوں ؟”

“آپ کو نہیں پتہ؟” ،علینہ نے شوخی سے کہا۔
“کیا فروا کی سالگرہ ہے؟ ”
“نہیں……”
پھر کس چیز کا گفٹ؟”
“گیس کریں؟” اس نے سسپنس پیدا کیا ۔
“کر لوں گا گیس ابھی فیکٹری کے لیے دیر ہو رہی ہے مجھے۔” اس نے تیزی سے نکلتے ہوئے کہا۔
کالج گئی تو ہر طرف یہی موضوع تھا ، کوئی اپنے منگیتر کو گفٹ بھیجنا چاہ رہی تھی ، کوئی وصول کرنا چاہ رہی تھی ۔ کو ایجوکیشن میں تو ویسے ہی ہر کوئی کسی نہ کسی کو پھول گفٹ کرنا چاہ رہا ہوتا ہے۔

“میں نے تو بھیا سے کہ دیا ہے بھابھی کو گفٹ بھیجنا ہے۔
“ہونہہ ….. گفٹ بھیجنے کا کیا فائدہ۔ اس دن تو خود lover اپنی محبوبہ کو گفٹ دیتا ہے۔ ”
رامین نے علینہ کی معلومات میں اصافہ کیا۔
“اب کیا سرخ گلاب تم پکڑاؤ گی فروا ؟ ”
“ہاں کیا حرج ہے؟ ” علینہ نے کہا
“ارے اپنے بھائی سے کہو کہ اپنی منگیتر کو کسی ہوٹل میں لے جا کر اچھا سا کھانا کھلائے ساتھ میں اظہار محبت کردے یا کسی شاپنگ مال میں لے جا کر ریڈ ہرٹ گفٹ کرے اور ساتھ میں دو چار سیلفیاں لے۔ یادگار بنائے اس دن کو یار۔”
رامین نے تجربہ کاروں کی طرح مشورہ دیا۔ علینہ کے بھائی کی حال ہی میں منگنی ہوئی تھی اس لیے وہ بھی رامین کی باتوں میں آکر 14 فروری منانا چاہتی تھی۔ لیکن اسے خود تو نہ آزاد تھی اور نہ ہی اس کا کوئی منگیتر تھا.

اس لیے وہ بھائی ہی کو اس پر ابھار رہی تھی ……
“تم نے کبھی ویلنٹائن ڈے منایا ہے؟” علینہ نے پوچھا۔
“ہاں کی دفعہ”، رامین نے بڑے فخر سے کہا۔
“مگر تمہاری تو ابھی منگنی نہیں ہوئی ۔ رامین نے اس پر ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
“ارے۔ تمہیں کس نے کہا ہے کہ ویلنٹائن ڈے صرف منگنی شدہ ہی منا سکتے ہیں؟ ارے اپنے کسی کزن کے ساتھ یا فرینڈ کے ساتھ منا لو۔
“مجھے گفٹ کون دے گا ؟” وہ ایک نئی ہی سوچ میں پڑ گئی،


“میم آج کل تو ہر روز ایک نیا ایشو سامنے آجا تا ہے۔ کالج کی میٹنگ جاری تھی ، اور کئی ٹیچرز پرنسپل آفس میں جمع تھیں،
“کیوں اب کیا ہو گیا ہے ….. ” ، مس عفت نے فائنل پر نظر ڈالتے ہوئے کہا،
” اب یہ 14 فروری کو دیکھ لیں . کیسے زہر کی طرح ہمارے خون میں سرایت کر رہا ہے. ہماری نوجوان نسل تو دیوانی ہے اس دن کی۔” مس طاہرہ نے کہا۔
“میرا اپنا بیٹا اس دن کے حوالے سے اپنے کسی دوست سے بات کر رہا تھا مجھے بہت دکھ ہوا کہ ہم کچھ سمجھاتے تھے ہیں اور ان پر الٹا اثر ہوا ہے…… پتہ نہیں اپنی اولاد ہی ہاتھوں سے نکلتی جاتی ہے …..” ، مس طاھرہ شاید بیٹے کے رویے سے بہت آزردہ تھیں۔
“مس ہر جگہ یہی حال ہے……. یہاں کالج میں ہاٹ ایشو یہی ہے ،5 فروری کے پروگرام میں آیا کوئی نہیں اور۔ 14فروری ہر کوئی منانے کو بےتاب ہے “،مس سلینہ جنکی کشمیر کے حوالے سے بریفننگ پر ڈیوٹی تھی، نے ناراض انداز میں کہا۔
“ھہماری نوجوان نسل پتہ نہیں کس طرف جارہی ہے ، “مس فاریہ نے کہا۔
“غیر ذمہ داری،زندگی کو ہنسی مزاق سمجھنا،بے کار وقت برباد کرنا،توبہ بحث بھی بہت کرتے ہیں آج کل کے نوجوان …..”
مس سلینہ نے پھر رائے دی۔

“بھئی تربیت بھی تو آپ لوگوں نے ہی کی ھے ان نوجوانوں کی۔اس کا کریڈٹ تو پھر آپ کو جاتا ھے نا۔ “مس عفت نے سارا ملبہ ہی ان پر ڈال دیا تھا۔
“میم اب ایسے تو نہ کہیں نا۔ان کے گھروں کا ماحول،اور سب سے بڑھ کر یہ میڈیا اسی نے اتنا بگاڑ پیدا کیا ھے۔” مس طاھرہ نے کہا۔
“اچھا اب اس بگاڑ کو یا ان مسائل کو ہی ڈسکس کرتے رہیں گے یا کوئی حل بھی نکالیں گے ان مسائل کا؟؟”، مس فاریہ نے بور کرتے ہوئے کہا،
“حل کیا ھونا ہے کالج میں پابندی لگا دیتے ہیں …… ویلنٹائن ڈے کے منانے پر۔” مس سلینہ نے کہا۔
“ہاں یہ تو کرنا پڑے گا۔ ساتھ میں طالبات کو آ گہی بھی دیتے ھیں “، مس عفت نے کہا۔
“آپ سب اچھی تیاری کے ساتھ کلاسز لیں گی 10 فروری کو کالج میں …..” ،

……………………………….

میم عفت نے تمام طالبات کو آ ڈیٹوریم میں بلایا تھا۔
“آج کیوں بلایا ہے میم نے؟ ”
تمام طالبات میں چہ میگوئیاں جاری تھیں ……. شاید امتحانات کے بارے میں کوئی اہم بات ھے یا کوئی نیا نوٹیفیکیشن آیا ہے ….. تمام طالبات فکر مندی سے آڈیٹوریم کیطرف رواں دواں تھیں ۔ تمام طالبات آڈیٹوریم میں پہنچ چکی تھیں جب مس عفت کی آمد ھوئی.
سلام کے بعد میم نے تمام طالبات کو حیرت میں ڈال دیا ، جب انہیں اسلامی تہوار کے حوالے سے ایک ایک کتاب لانے کوکہا میم نے اتنی کتابیں کیا کرنی ہیں بہت ساری طالبات یہ گتھی سلجھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
“بک اسٹال لگانا ھو گا ۔” فاطمہ نے رائے دی۔
“ھم سے کتابیں منگوا کے؟” طیبہ نے حیرانی سے کہا

۔گھر پہنچ کر ھر ایک کو کتاب کی فکر تھی۔ بکس سٹور پر اسلامی تہوار کے حوالے سے تمام کتابیں بک گئیں ۔بک ڈپو والے حیران کہ اتنی کتابیں ایک دن میں کیسے سیل ھوگئیں۔ اگلے دن بہت سی طالبات کی درخواستیں موصول ہوئیں کہ شہر میں اس موضوع کی کتابیں نہیں مل رھیں ۔ ٹیچرز کے لیے بھی یہ ایک نئی سرگرمی تھی ۔ اگلے دن تک طالبات کتابیں ڈھونڈتی تھیں ……
13 فروری کو میم نے تمام طالبات کو آڈیٹوریم میں اکٹھا ہونے کو کہا۔ سلام کے بعد میم نے پوچھا آپ میں سے مسلمان کون کون ہے ؟ ایک دو عیسائی طالبات کے علاؤہ تمام طالبات کے ہاتھ کھڑے تھے ۔ میم نے سب کو اپنی کتابوں کی فہرست نکالنے کو کہا کسی کتاب میں ویلنٹائن ڈے کے نام سے کوئی تحریر ؟ چند کتابوں میں غیر اسلامی تہواروں کی وضاحت موجود تھی۔ میم نے ایک طالبہ سے کہا کہ وہ آ کر اس موضوع کو پڑھے۔ جب اس نے پڑھا تو ویلنٹائن ڈے کے گن گانے والیوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ میم نے ایک کتاب سے نہیں کئی کتابوں سے اس موضوع کو پڑھایا ۔
‘اس کے بعد کون کون اس دن کو منانا چاہے گا۔ ”

ہر ایک کا سر نفی میں ہل رھا تھا۔
“کل آپ سب ویلنٹائن ڈے پر اسائنمنٹ جمع کروائیں گی۔ اور ساتھ میں اپنی راۓ بھی دیں گی ….”، میم نے انہیں ذمہ دار بناتے ھوئے کہا۔
“میم آپ نے تو بہت اچھی ترکیب سوچی ….!!” ،تمام ٹیچرز نے میم کی حوصلہ افزائی کی۔
“دیکھیں مسائل ہمیں ہوں گے لیکن ان کا حل بھی ہمیں ہی سوچنا ہے۔ اب کل تک ان کے دماغ اسی اسائنمنٹ میں الجھے رہیں گے اور ایک دن تو اس پڑھے ہوئے کا اثر رہے گا اور اس دن کے گزر جانے سے یہ غبار خود ہی بیٹھ جائے گا ……”، مس عفت نے فاتحانہ مسکراہٹ سے کہا ،

………………………………

“میم نے تو ویلنٹائن کا سارا مزہ ہی کرکرا کر دیا ہے “، رامین نے جھنجھلا کر کہا۔
“تم بتاؤ تمہارے بھائی منائے گا ویلنٹائن ڈے۔ ”
“نہیں کیوں کے اسے تو میں ہی انسپائر کر رہی تھی ….. اب جب مجھے اس دن کی اصلیت کا علم ہو گیا ہے تو میں کیوں کسی کو برائی کی دعوت دوں گی؟ ”
اس نے مسکراتے ہوئے رامین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ کیونکہ صحبت کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے وہ جان گئی تھی!

Add Comment

Click here to post a comment