Home » گزرتی ہوئی زندگی!! – ہادیہ جنید
افسانے

گزرتی ہوئی زندگی!! – ہادیہ جنید

ہمیں ان سے وفا کی ہے امید،
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے!!
“بیٹا اس طرح کے دکھی اشعار پڑھنے سے کیا ہوگا،دنیا وفا پہ ختم تو نہیں ہو گئی،مجھے اور تمہارے ابّا کو وہاں جانے سے پہلے بھی اندازہ تھا کہ تمہارے تایا نہیں مانینگے،ہماری اور ان کی حیثیت میں بہت  فرق ہے” امّا ں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ “کیا انہوں  یہی کہ کر انکار کیا ہے امّاں جی؟”تصوّر نے خلاء میں گھورتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں بیٹا،ہر بات کہنے کی نہیں ہوتی،ہمارا وہاں جانا ہی نری بےوقوفی تھی، نکل آؤ ان چکّروں سے،جب میں تمہیں  اللہ کی رحمت سے ایک نیک اور فرمانبردار لڑکی لاکر دونگی،تب تمہارے ذہن سے پرانی ہر یاد مٹ جائے گی،زندگی کہیں تھم کر رک جانے کا نام نہیں،وقت ہر گھاؤ بھر دیتا ہے” امّاں جی نے مزید وضاحت کی۔ “کیا یہ ضروری ہے  وقت ہر گھاؤ بھر دے؟بعض گھاؤ شاید کبھی نہیں بھرتے” ایک چھوٹا سا آنسو بائیس سالہ تصوّر کی آنکھوں سے گرا تھا۔ “وقت اللہ کے حکم سے ہر گھاؤ بھر دیتا ہے،وقت میں ہی خدا نے بدل جانے کی صلاحیت رکھی ہے،دنیا میں صرف تبدیلی کو ہی ثبات ہے،میں ماں ہوں تصوّر ،میرا یقین کرو” ماں نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔ “مشکل باتیں کر رہیں ہیں امّاں آپ”. تصوّر نے ناسمجھی سے کہا.“وقت  سمجھا دے گا،چلو اب آگے کی سوچو”اور تصوّر کو لگا تھا،دنیا ختم ہو گئی۔مگر گزرتے وقت کے ساتھ ہر زخم گھائل ہو جاتا ہے،اس بات سے بھی تصوّر کو انکار نہ تھا۔امّاں نے سال بھر بعد کہیں اور تصوّر کی بات ڈالی،جب وہاں سے بھی انکار ہوا تو تصوّر کو لگا  کہ وہ شاید کسی کے بھی قابل نہیں ہے،شاید وہ ہمیشہ کنوارہ ہی رہے گا،اور پھر وہ اس معاملے سے خود کو لا تعلّق رکھنے لگا.

جہاں امّاں بات ڈالنے کی بات کرتیں،اس کو لگتا انکار ہی اس پیغام کا مقدّر ہے،اب تو انکار کا سن کر اس کو کچھ خاص افسوس بھی نہ ہوتا،وقت نے ٹھکرائے جانے کا  گھاؤ بھی بھر دیا تھا،ہاں مگر ہر دفعہ بات ڈالتے ہوئے اسے وفا کا خیال ضرور آتا۔ شام کو نوکری کے بعد گھر آیا تو  ٹیلی فون کے نیچے کوئی کاڑڈ رکھا نظر آیا،”ہیں!! وفا کی شادی ہو رہی ہے؟؟” تصوّر نے حیرت سے کہا۔ “ہاں تو کیا بیٹھی رہتی تمہارے انتظار میں؟؟” ابّا کہیں دور کمرے سے بولے۔ “ہاں تو میرا بچّہ کونسا بیٹھا ہوا  ہے کسی کے انتظار میں،کشمالہ نے ایک اور کڑی بتائی ہے بھائی نفیس کی،کل دیکھ کر آؤنگی” امّاں نے ابّا کو جواب دیا۔ “دیکھ آؤ  امّاں یہ شوق بھی پورا کرلو،کونسا میری کہیں ہاں ہونی ہے” حلق میں آنسووں کا گولہ آکر واپس گیا،تصوّر مسکراتا ہوا کمرے میں چلا گیا۔ لوگ صرف لڑکیوں کا احساس کرتے ہیں،معاشرے میں لڑکیوں کو ٹھکرایا جاتا ہے تو ان کا دل بھر آتا ہے،بیوگی کا غم،یہ تکلیف وہ تکلیف،ہر انسان دل رکھتا ہے،وقت ہر کسی کو آزماتا ہے،دکھ کسی نا کسی طور سب ہی کو ملتے ہیں،مگر یہاں مظلوم صرف عورت ذات کو سمجھا جاتا ہے،بحر حال،گزرتا وقت کبھی تجربات سے گزار کر،کبھی دنیا وسیع کرکے،کبھی خدمتوں کا انعام دے کر،کبھی نیتوں کے صلے دے کر، ہر گھاؤ بھر ہی دیتا ہے،الحمدللہ۔

“تایا بس رسماً بلاوہ دے کر گئے ہیں بھائی،مگر امّاں کہتی ہیں،رشتہ نبھانے کو ہم پھر بھی جائینگے” حرا نے تصوّر سے کہا۔۔ تصوّر نے جواب نہ دیا،سنی ان سنی کردی ہو جیسے۔ “بھائی آپ جائینگے؟” حرا نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔ “دولہا کو جانتے ہیں نا آپ؟” تصوّر حیران ہوا۔کارڈ پر نام پڑھا تو یہ تو  تصوّر کا اسکول کا جاننے والا تھا۔ نام،چہرہ نقوش سب تصوّر کی آنکھوں میں گھوم گیا۔ مناسب رنگت،معمولی نقوش!”تایا نے مجھے نہیں،میری معاشی حیثیت کو ٹھکرایا تھا اور یہاں تایا وفا کی شادی شہروز سے نہیں،شہروز کی حیثیت سے کر رہے ہیں” تصوّر نے لفافہ بند کرتے ہوئے کہا۔ “ایسے نہیں سوچتے،جو جس کے نصیب میں ہوتا ہے اسکو وہی ملتا ہے،اور نصیب اللہ بناتا ہے،انسان کے بس میں نہیں ہوتا” امّاں  نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔ خیر سے خدا وہ دن بھی لے آیا جب عابدہ تصوّر کی دلہن بن کر  گھر میں آگئی۔عابدہ کی معصوم صورت اور چنچل مزاج نے،تصوّر کے تصوّر سے بھی وفا کا خیال نکال دیا،مزید عابدہ کی خدمت اور فرمانبرداری نے گھر والوں کے بھی دل موہ لیے۔گھر میں گویا بہو کے آنے سے بہار آگئی،حرا کو بھابی کی صورت میں بہن مل گئی۔اور محبّت کے امڈتے طوفان میں عابدہ نے حرا کو اپنے بھائی کے لیے پسند کر لیا۔

ڈیڑھ دو سال پہلے جو ٹھکرائے جانے کا غم تصوّر اور خاندان والوں کو لگا تھا،وقت نے بتا دیا کہ وہ بہت بڑا مرہم ہے۔۔ شادی کو سال بھر ہوا تو امّاں ابّا کو پوتے کی خواہش ہوئی،جب مزید دو سال بعد حرا بھی اپنے گھر کی ہوئی تو گھر کے سنّاٹے نے مزید بڑھتی اختیار کی۔اور پھر جب حرا کو اللہ نے جڑواں بیٹے دیے تو لوگوں کے سوالوں اور تبصروں نے عابدہ کا سارا چنچل پن ختم کردیا۔ دل ہلکا کرنے کے لیے تصوّر ہی ملتا،مگر تصوّر بھی اب اس خالی پن کو شدّت سے محسوس کرنے لگا۔ وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ گزرتا رہا،آٹھ سال ہو گئے اور عابدہ کی خالی گود ہری نہ ہوسکی۔امّاں ابّا بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے،تصوّر اکثر سوچتا،میں تو ابّا کی خدمت کر لیتا ہوں،مگر میری خدمت کون کرے گا۔۔ اور پھر آٹھ سال بڑھتے بڑھتے بارہ سال ہوگئے،ابّا اللہ کو پیارے  ہو گئے تھے،تصوّر اور عابدہ نے خود کو سمجھا لیا،اسی میں خدا کی مصلحت ہوگی،سارے علاج چھوڑ دیے،سارے ڈاکٹروں نے مایوس کردیا مگر خدا مایوسیوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور جب حرا اپنے بچوں کے ساتھ  شمالی علاقہ جات گئی تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا،گاڑی کاایکسیڈینٹ حرا  کے شوہر کی جان لے گیا۔حرا کے ساس سسر تو تھے نہیں سو حرا اپنے بھائی اور بچّے پھوپّو اور ماموں کے گھر آگئے۔

بوڑھی ماں کو جوان بیٹی کی بیوگی کا غم کھائے جارہا تھا تو چند سالوں میں مناسب رشتہ دیکھ کر حرا کا نکاح ہو گیا،بچّے نانی کے گھر ہی رہینگے،یہ فیصلہ طے پایا. آج تصوّر اپنے دونوں بھانجوں کی دلہنوں کو گھر لے کر آیا. “عابدہ،وقت نے ہر گھاؤ بھر دیا،بے اولادی کا غم،اللہ نے دو جان چھرکنے والے بازو دے دیے،حرا جوانی میں بیوہ ہوئی،آج اپنے گھر میں مطمئین ہے،اللہ کا جتنا شکرادا کریں کم ہے”
“جی تصوّر،زندگی نے سب سے بڑا سبق یہی سکھایا ہے،مسائل جو بھی آئیں،اللہ کی رحمت پر یقین نہیں  چھوڑنا چاہیے،وقت ہر گھاؤ بھر دیتا ہے” عابدہ نےمسکراتے  ہوئے کہا اور چائے کا گھونٹ پینے لگی.

Add Comment

Click here to post a comment