Home » صدیق کی بیٹی صدیقہ – مہرالنساء حیدر
افسانے

صدیق کی بیٹی صدیقہ – مہرالنساء حیدر

“امی میں نے نہیں جانا! آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں۔۔؟”اس نے دھڑام سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“مجھے سمجھانے کی ضرورت بھی نہیں۔کیونکہ فیصلہ تمہارے ابّا کا ہے۔”امی نے اطمینان سے جواب دیا۔
“تو آپ ابّا کو سمجھائیں نا۔۔!”وہ کافی پریشان تھی۔

“میں نہیں سمجھا سکتی۔۔!”امی کا اطمینان اب بھی موجود تھا۔
“کیوں۔۔!”اسے حیرت ہوئی۔۔جواب اور اطمینان،دونوں پر۔
“کیونکہ وہ صحیح ہیں۔!”حد درجہ کا اطمینان تھا۔جس نے اس پر بےقراری کا لاوا انڈیل دیا تھا۔
اس نے لمبی سانس اندر کو کھینچ کر چھوڑی ۔جیسے اس لاوے کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
“میری یونیورسٹی کا حرج ہوگا۔”قدرے ضبط سے کہا۔
“پچھلے مہینے بھی دو ہفتے حرج ہوا تھا تمہاری یونیورسٹی کا۔”وہ جتا رہیں تھیں۔کم سے کم اسے ایسا ہی لگا۔
“میں بیمار تھی..!”دل کو دکھ پہنچا۔
“تمہارے چچا بھی بیمار ہیں۔” فوراً جواب آیا۔”بہت بیمار۔۔ان کی عیادت کرنا فرض ہے ہمارا۔”اس نے خاموشی سے اپنی ماں کو دیکھا۔بحث فضول تھی۔وہ تجربہ کار ہیں اس میں۔

وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔کھڑکی کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر وہ کھڑکی کے شیشے کو دیکھنے لگی۔”ہمارے گھروں میں ہمیشہ مردوں کی ہی چلتی ہے۔کبھی ابا کے احکامات ۔۔تو کبھی بھائی کے ارشادات۔۔!”ذہن میں ایک آواز گردش کرنے لگی۔
موبائل کی تھرتھراہٹ نے اس گردش کو توڑا۔
“ہیلو۔۔!”اس نے فون کان سے لگایا۔
“کیا ہوا۔۔؟کیا بات نہیں بنی۔۔؟”,وہی آواز اب کانوں میں گونج رہی تھی۔
“نہیں۔۔!”مایوسی اس کے لہجے میں واضح تھی۔
“کیوں۔۔؟”وہ آواز اختلاف کرتی تھی۔
“بھائی نے آفس سے چھٹی لے لی ہے۔۔وہ بھی چل رہے ہیں۔”مایوسی میں اضافہ ہورہا تھا۔
“میرے گھر پر رکنے کے لیے پوچھا ۔۔؟”وہ آواز مجبور کرتی تھی۔
“ہاں!مگر اس پر بھی دلیل مل گئی کہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ہفتہ دو ہفتہ دوستوں کے گھر نہیں رکا جا سکتا۔”مایوسی اس کے وجود کو اپنے گھیرے میں لے رہی تھی۔

“عجیب ہی لوگ ہیں یار۔۔!” وہ آواز متنفر کرتی تھی۔
“کیا کرسکتے ہیں۔!”مایوسی ہر چیز پر چھاگئی تھی۔
اس نے فون رکھ دیا۔وہ شیشے کے پار آسمان پر پھیلے ہوئے آزاد تاروں کو دیکھنے لگی۔ یہ دوسرا دن تھا گاؤں میں اسے۔جب وہ باورچی خانے میں اپنی چچازاد کے ساتھ بیٹھی تھی۔اس کی چچازاد سالن بنانے میں مصروف تھی۔اور وہ دروازے سے باہر پھیلے بڑے سے آنگن کو دیکھ رہی تھی۔دنیا کی ترقی کے ساتھ گاؤں کی زندگی میں بھی کافی تبدیلیاں آگئی ہیں۔پکے گھر۔فرش پر بچھی ٹائلز۔اٹیچ باتھ رومز اور بہت کچھ۔مگر اب بھی اس وسیع آنگن میں اترتی ہوئی دھوپ کا مقابلہ شہر کے چھوٹے گھر کی کھڑکیاں نہیں کرسکتی ہیں۔وہ آنکھیں چھوٹی کیے اس دھوپ میں دیکھے جا رہی تھی۔اور پھر اس پر سایہ ہوگیا۔کسی نے دھوپ کو اپنی پشت پر روک لیا۔

“اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ..”اس نے آنکھیں مکمل کھول کر دیکھا۔ سلام کرنے والی سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔اس کی مسکراہٹ رحمت کی نوید تھی۔
“وعلیکم اسلام فاطمہ! آؤ بیٹھو۔۔!”اس کی چچازاد نے مسکرا کر جواب دیا۔اور موڑے کی جانب اشارہ کیا۔
“شکریہ مریم۔” وہ موڑے پر بیٹھی۔تو اس کی چچازاد نے تعرف کروانا شروع کیا۔
“حفصہ! یہ فاطمہ ہے۔میری سیکنڈ کزن۔امی کی خالہ زاد بہن کی بیٹی ہے۔اور ہماری استانی صاحبہ۔۔!”
اس نے ہنستے ہوئے آخری جملہ ادا کیا۔تو فاطمہ مسکرا کر رہ گئی۔
“اوہ!اچھا!” وہ بھی مسکرائی تھی۔
“اور فاطمہ!یہ حفصہ ہے۔میرے چچا کی اکلوتی بیٹی۔”
“آپ کا نام بہت پیارا ہے۔” فاطمہ نے مسکرا کر کہا۔

“واقعی!” اسے حیرت ہوئی۔ “کیا اس نے رسماً یہ کہا ہے۔!” دل میں خیال آیا۔
“سچ کہہ رہی ہوں۔بہت ہی اعلیٰ ہے یہ نام۔” فاطمہ نے یقین دلایا۔
“نہیں ۔۔۔مطلب آج تک کسی نے ایسا کہا نہیں۔!” اس کی حیرت میں اضافہ ہوا۔
“وہ دل کی بات بھی سنتی ہے کیا۔۔؟” دل نے سوال کیا تھا۔
“انکو پسند نہیں ہوگا۔۔اس لیے۔!” مریم نے مداخلت کی۔جو اسے کافی بری لگی۔
“کسی مدد کی ضرورت ہے۔” فاطمہ ان دونوں کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“ہاں! روٹیاں بنادو!” مریم نے جلدی سے کہا۔
“ضرور۔!” فاطمہ کی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جدا نہیں ہوتی تھی۔
“پہلے آٹا گوندنا ہوگا۔” مریم نے آنکھیں ٹمکاتے ہوئے اطلاع دی۔

“اچھا! ٹھیک ہے۔” فاطمہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔ مسکراہٹ اب بھی برقرار تھی۔مسکراہٹ۔۔جو ذہن کے چرخے میں الجھ جانے والی دوڑ کو سلجھاتی ہے، جو مایوسی کی اندھیری حویلی پر امید کی روشنی کی دراڑیں ڈال دیتی ہے۔جو دلوں پر لگے تالے بھی توڑ دیتی ہے۔وہ مسکراہٹ فاطمہ کو عطاء ہوئی تھی۔
“تمہیں میرا نام کیوں پسند آیا۔۔؟” اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔آخر ایسی کیا کہانی تھی اس کے نام کے پیچھے۔۔۔؟
“یہ نام ام المؤمنین کا ہے۔!اور مجھے وہ بہت پسند ہیں۔اس لیے۔!” اسی مسکراہٹ سے کہا۔
“اوہ!اچھا۔۔!” اسے شرمندگی سی ہوئی۔اسے یہ نہیں معلوم تھا۔
“وہ تمہیں بہت زیادہ پسند ہیں۔؟” اس نے اپنی کم علمی اور شرمندگی کو چھپانے کے لیے بات جاری رکھی۔
“جی۔! بہت زیادہ۔مجھے ان کا کردار بہت متاثر کرتا ہے۔” فاطمہ جوش سے بتانے لگی۔

“اچھا!لیکن آپ کچھ دن پہلے تو آپ کہہ رہیں تھی کہ آپ کو ام المؤمنین بی بی زینب رض اللّٰہ عنہا کا کردار بہت متاثر کرتا ہے۔۔اور اس سے کچھ دن پہلے بی بی عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے بارے میں بھی یہی رائے تھی۔”مریم نے مداخلت کی۔یہ اس کی عادت تھی شاید۔
“ہاں تو وہ سب ہیں ہی اس قدر متاثر کن کہ ہم کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑ سکتے۔جس کے بارے میں بھی پڑھو تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے آپ۔۔!” فاطمہ ہنسنے لگی۔یہ اس کی عادت تھی شاید۔
“تو تم نے سب کے بارے میں پڑھا ہے۔” اس کی حیرت بڑھ رہی تھی۔
“تقریباً۔۔!کوشش یہی کی ہے۔” وہ بڑی چاہ سے کہہ رہی تھی۔ “میرے بابا مجھے بہت سی کتابیں لاکر دیا کرتے تھے۔مگر میں ان سے سیرتِ صحابیات۔۔امہات المؤمنین اور بناتِ رسول اللّٰہ ﷺ کا تقاضا کیا کرتی۔۔مجھے بہت پسند تھی ان کی سیرت۔۔” وہ بڑی محبت سے بتا رہی تھی۔

“کیوں۔۔؟” وہ بے اختیار سوال کر بیٹھی تھی۔یہ کیسا سوال تھا۔اسے خود بھی شرمندگی ہوئی۔
“کیوں کہ یہی تو ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں نا۔” فاطمہ اطمینان اور خوشی سے کہہ رہی تھی۔ “انہیں سے ہم سیکھتے ہیں۔بحیثیت عورت ہمارا کیا کردار ہونا چاہیے۔” مایوسی کی اندھیری حویلی میں امید کی روشنی کی پہلی دراڑ پڑی۔ “یہ ہمیں بتاتی ہیں۔کہ ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔کیا فرائض ہیں۔” سرکاری اسکول میں پڑھنے اور پڑھانے والی لڑکی کہہ رہی تھی۔
“بس ۔!ہمارا کام ذمہ داریاں نبھانا اور فرائض ادا کرنا ہے۔” یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکی کو برا لگا تھا۔
وہ تیزی سے اٹھ کر باورچی خانے سے باہر نکل گئی۔اندھیرے نے روشنی کی دراڑ کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔
“کہاں ہو حفصہ! گاؤں کیا گئی ہو؟ تمہاری تو کوئی خیر خبر ہی نہیں۔!” کال اٹینڈ کرتے ہی ماوراء نے اس سے گِلے شکوے شروع کردیے۔

“بس یار ایک تو یہاں نیٹ ورک اشو ہے۔پھر ہر روز چچا کی عیادت کے لیے مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔” وہ صحن میں موجود درخت کے پاس کھڑی تھی۔گھر والوں کے بقول یہاں نیٹ ورک اچھا آتا ہے۔
“اب کیسی ہے تمہارے چچا کی طبیعت۔۔؟” ماوراء نے پوچھ لیا۔
“بہتر ہیں۔مگر ابھی بستر پر ہیں۔زیادہ حرکت نہیں کرپاتے۔” اس نے بتایا۔
“تو تمہاری واپسی کا کیا پلان ہے۔؟” ماوراء مدعے پر آئی۔
“ابھی تک تو کچھ نہیں یار۔جب ابا کا حکم ہوگا۔” مایوسی پھر سے جاگ گئی تھی۔
“اچھا! ویسے تمہارے ابا شہر میں رہتے ہوئے بھی ایسے ہیں، تو ان کے بھائی اور رشتے داروں کا کیا حل ہوگا۔وہ تو گاؤں کے رہائشی ہیں۔” ماوراء نے اس کی مایوسی میں اضافہ کیا۔
“صحیح کہہ رہی ہو۔” اس نے سوچ کر کہا۔

“یہی وجہ ہے کہ میری کئی کزنز نے اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کی۔” اس کے حساب سے یہی وجہ تھی۔
“اوہ! پھر تو تم وہاں رہ کر بھی ہمارے لیے کام کرسکتی ہو۔
” ماوراء کا دماغ بہت تیز چلتا تھا۔ “کیسے۔۔؟” اس نے پوچھا۔
“تم ان لڑکیوں سے بات کرو۔ان کے مسائل پوچھو۔کیسے ان کے باپ اور بھائی ان پر سختی کرتے ہیں ،انہیں باہر نہیں نکلنے دیا جاتا،انہیں تعلیم نہیں حاصل کرنے دی جاتی،اور بس گھر کے کام کاج اور خدمتیں کروائی جاتی ہیں ان سے۔تاکہ ہم ان کے مسائل کو بھی سب کے سامنے لا سکیں۔”
وہ مسائل پوچھ رہی تھی یا بتا رہی تھی اندازہ نہ ہو سکا۔
“تم صحیح کہتی ہو۔۔میں ایسا ہی کرتی ہوں۔۔مجھے خوشی ہوگی کہ میں تمہارے کچھ تو کام آئی۔” اس نے تشکر آمیز لہجے میں کہا۔
“بالکل..! تمہاری رپورٹ کا انتظار رہے گا۔” ماوراء مسکرا کر کہہ رہی تھی۔
“اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ۔۔!” کسی نے پیچھے سے آواز دی
۔”وعلیکم اسلام۔۔” اس نے پلٹ کر دیکھا۔
“کیسی ہیں آپ۔؟” یہ فاطمہ تھی۔۔۔مسکراتی ہوئی۔
“ٹھیک ہوں۔” اس نے سنجیدگی سے کہا۔

“پریشان ہیں۔۔؟” وہ چہرے بھی پڑھتی تھی۔
“ہاں!” اس سے بات کرنے کے لیے دل کہتا تھا۔
“اللہ آسانی کرے گا۔” وہ دعائیں دیتی تھی۔
“مجھ سے بانٹیں گی۔ہوسکتا ہے دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔” وہ دل کو ہلکا کرنا جانتی تھی۔
“یونیورسٹی میں 8 مارچ کے حوالے سے پروگرام تھا۔میں نے بھی حصہ لیا تھا بہت سے کاموں میں۔وعدہ کیا تھا مدد کرنے کا۔مگر سب دھرا کا دھرا رہ گیا۔کیوں کہ ہم یہاں آگئے۔” اس نے منہ بنا کر کہا۔
“یہ تو قسمت کی بات ہے نا۔” فاطمہ اسے سمجھانے لگی۔
“نہیں!بہت سے اور آپشنز تھے۔مگر ان پر عمل نہیں کیا گیا۔کیوں کہ حکم صرف ابا کا چلتا ہے۔اور رہی سہی کسر بھائی صاحب پوری کردیتے ہیں۔”

وہ ہاتھ چلا چلا کر کہہ رہی تھی۔ “اس ریاست میں وہی دونوں بادشاہ اور وزیر ہوتے ہیں۔” اس کا دل ٹھنڈا نہیں ہورہا تھا۔
“میں سمجھ سکتی ہوں لیکن۔۔۔” فاطمہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے فوراً کہا۔
“تم نہیں سمجھ سکتی فاطمہ۔نہ تمہارا بھائی ہے اور نہ…” وہ غصے میں کہہے جا رہی تھی کہ اچانک اسے احساس ہوا۔
“اور نا ہی میرے بابا ہیں۔!” فاطمہ کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے بات کو سنبھالے۔
“یہ آپ نے صحیح کہا۔۔میرا کوئی بھائی نہیں ۔اور میرے بابا گزر چکے ہیں۔” فاطمہ نرمی سے کہہ رہی تھی۔
“اسی لیے ان کی اہمیت کا اندازہ مجھے ہے۔” وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے معلوم ہے! کتنا اہم کردار ہیں یہ ہماری زندگی کا۔” فاطمہ کہہ رہی تھی۔

“بابا ایک گھنے درخت کی طرح ہوتے ہیں۔۔حفصہ..! یہ سخت ہوتے ہیں۔ مگر سایہ بھی یہی فراہم کرتے ہیں۔۔۔ یہ کھردرے اور بہت ساری چھبنے والی شاخوں سے لدے ہوتے ہیں۔۔مگر پھل بھی یہی دیتے ہیں۔۔مجھ سے پوچھو تو اس چھاؤں اور پھل کے سامنے یہ سختی اور کھردراپن قبول ہے مجھے۔کیونکہ یہی سختی اور کھردراپن اس پھل اور چھاؤں کی وجہ بنتا ہے۔”

فاطمہ کہہ رہی تھی۔وہ دل پر لگے تالوں پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔” اور بھائی۔۔وہ تو جادو کی چھڑی ہوتے ہیں۔۔دن میں بیسیوں کام کہو۔وہ سب کرلاتے ہیں۔تو کیا وہ نہیں جانتے کہ باہر کا موسم کتنا گرم اور خطرناک ہے۔۔۔وہ ہمیں روکتے نہیں ۔۔بس حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔”فاطمہ کہہ رہی تھی ۔
وہ مایوسی کی اندھیری حویلی پر امید کی روشنی کی دراڑیں ڈالنے لگی تھی۔
“میرے بابا استاد تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ میں بھی پڑھ لکھ کر استانی بنوں۔وہ کہتے تھے۔صدیق کی بیٹی ہی صدیقہ بنتی ہے۔فاروق کی بیٹی حفصہ بنتی ہے۔میں جب سوچتی ہوں۔وہ واقعی صحیح کہتے تھے۔صدیق کی تربیت ہی تو تھی۔جس نے بی بی عائشہ کو صدیقہ بنایا۔اور فاروق اعظم کی تربیت تھی۔جس نے بی بی حفصہ میں ایسے اوصاف پیدا کیے۔کہ اللّٰہ نے ان کو مومنین کی ماؤں کے رتبے کے لیے چنا۔”
وہ کہہ رہی تھی۔ذہن کے چرخے میں الجھی ڈور سلجھ رہی تھی۔

“اور یہ رحمتِ دو عالم ﷺ کی تربیت تھی۔جس نے فاطمہ کو فخرالنساء بنایا۔یہ والد ہی تو ہوتے ہیں جو بیٹیوں کی عظمتوں کی وجہ بنتے ہیں۔مجھے دیکھیں میرے بابا زندہ نہیں مگر یہ ان کی تربیت ہی تھی۔ان کی محنت ہی تھی کہ میں آج خود ایک ٹیچر ہوں۔” وہ کہہ رہی تھی۔ مایوسی کی اندھیری حویلی پر دراڑیں پڑ رہی تھیں۔
“لیکن جانتی ہیں آپ یہی صدیق تھے کہ جب بیٹی پر الزام لگا تو کچھ نہیں بولے یہاں تک کہ صدیقہ کے حق میں آیات نازل ہوئیں۔تو فرمایا کہ میں تب تک کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔جب تک مجھے علم نہ تھا۔..اور یہی فاروق ہیں کہ جب معلوم ہوا کہ ازواجِ مطہرات آپﷺ کو آگے سے جواب دیتی ہیں تو حفصہ کے گھر پہنچ کر انہیں تنبیہ کرتے ہیں۔۔۔اور یہی نبی محترمﷺ ہیں کہ بیٹی ایک کنیز کا مطالبہ کرتی ہے تو انہیں لوٹا دیتے ہیں۔۔۔۔۔تو کیا یہ بیٹیاں متنفر ہوگئیں۔۔؟”
تالے ٹوٹنے لگے تھے۔

“اور بھائی وہ تو حضرت ضرار کی طرح ہوتے ہیں ہیں کتنی محبت دیتے ہیں وہ اپنی بہن کو کہ خولہ دشمنوں کہ گڑھ میں گھس جاتی ہیں انھیں بچانے کے لیے۔۔۔یہ جزبہ ۔۔یہ ہمت ۔۔یہ طاقت۔۔یہ اس بھائی کے ساتھ کی وجہ سے تھی۔”دراڑیں گہری ہونے لگی تھیں۔
“اب آپ بتائیں۔۔کیا آپ کے والد کی تربیت میں کمی ہے۔۔یا بھائی کی محبت میں۔۔۔؟” وہ سوال کر رہی تھی۔وہ تالے پر آخری ضرب لگا رہی تھی۔
“کوئی فرق کیا آپ اور آپ کے بھائیوں میں۔۔۔کبھی بھائیوں نے کام آنے سے انکار کیا۔” وہ آخری دراڑ ڈال رہی تھی۔حفصہ کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔۔آنسو بہنے لگے ۔۔اور بہتے چلے گئے۔ ”
میں تو مسائل حل کرنے نکلی تھی۔اس گاؤں کی لڑکیوں کے۔۔اور پہلی ہی لڑکی نے مجھے لاجواب کردیا۔” تالے ٹوٹ چکے تھے۔حویلی گر چکی تھی۔ساری ڈوریں سلجھ چکی تھیں۔ “ہمیں حقوق چاہیے ہیں۔۔۔ حفصہ۔۔! اور کس طرح کے حقوق حق اور کن لوگوں سے چاہیے یے اس کا صحیح فیصلہ کرنا ہو گا ہمیں۔۔۔!” فاطمہ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولی۔۔
“تم نے صحیح کہا۔۔” وہ دونوں مسکرا رہی تھیں۔۔

“اور ہاں۔۔! ہمارے اسکول میں بھی اس حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔
”ہماری صحابیات ہماری رول ماڈلز”۔۔اسی کی دعوت دینے آئی تھی میں آپ کو۔!” فاطمہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔اس کی وہی مسکراہٹ۔۔۔ ”
میں ضرور آؤں گی۔۔” اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا تھا۔اسے معلوم تھا کہ ابا منع نہیں کریں گے ۔۔کیونکہ دل آزاد ہو چکا تھا اور چرخا اب صحیح سمت گھومنے لگا تھا۔ امید کی روشنی اب چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔

Add Comment

Click here to post a comment