امید کی کرن – بنت شیروانی




سمیرا ابھی کرنے والے کاموں کی لسٹ بنانے ہی بیٹھی تھی اور بس یہ لکھا ہی تھا کہ بڑی ممانی کو اُنکی نواسی کی پیدائش کا فون کرنا ……کہ اتنے میں اس کا بیٹا کہنے لگا…. امی ببلو کا فون آیا تھا بڑا پریشان تھا کہ رہا تھا امی آج کل بڑی خوف زدہ ہیں .آپ ذرا چھوٹی خالہ سے بات کر لیں.
یہ سن کر سمیرا نے قریب رکھا فون اٹھایا اور کال ملاتے ہی بولی کیا بات ہے خیریت تو ہے…؟ راشدہ کیوں اتنی پریشان ہو؟ کیا دولھا بھائی سے کوئی جھگڑا ہوا کہ بچوں نے کچھ کر دیا یہ سننا تھا کہ راشدہ کہنے لگی نہیں بڑی باجی ایسی کوئی بات نہیں بس ایک خوف کھاۓ جا رہا ہے ….سنا ہے قرب قیامت ہے……… یہ virus کا آنا اور یہ کہ دجال بھی آنے والا ہے ۰بس یہ سُن سُن کر حول اٹھنے لگتا ہے کبھی تو لگتا ہے کہ دل بیٹھا جارہا ہے۰ایک دہشت کی فضا سوار ہے یہ سُن کر سمیرا نے کہا یہ بتاؤ گھر میں ٹیپ ہے؟ بڑی باجی میں تم سے کیا بات کر رہی ہوں اور تم پوچھتی ہو گھر میں ٹیپ ہے ؟؟؟؟ ہاں ہاں دیکھو قریب میں کوئی کاغذ قلم بھی رکھا نظر آرہا ہوگا …..اٹھانا اس کاغذ کو اور اس پر لکھنا شروع کرو……ہر نماز کے تشہد میں یا نماز کے بعد دعا مانگنا کہ یا رب دجا ل کے فتنے سے محفوظ رکھنا……..سورہ کھف کی شروع کی دس آیات یاد کرنا…..ہر جمعہ کو سورہ کھف پڑھنا
اب اس کاغذ کو اپنے کمرے کے دروازے پر لگا دو۰اور اس پر عمل کرو۰اور ویسے اس سورت کو سمجھنے کے لۓ ہم جلد ہی online کلاس شروع کر رہے ہیں وہ بھی join کر لینا…..اور جہاں تک بات قیامت کی ہے وہ تو رب ہی جانتا ہے کہ کب آۓ گی لیکن تم نیک لوگوں سے محبت کرنا شروع کر دو کیونکہ آدمی قیامت کے دن اٹھا یا ان لوگوں کے ساتھ جاۓ گا جن سے وہ محبت کرتا ہے۰
یہ سب سن کر راشدہ نے کہا چھوٹی باجی سچ پوچھو تو بو لوں یہ سب سُن کر دل کو قرار آیا ،تسلی ہوئ ورنہ تو اس سے پہلے صرف ڈر ہی میرا پیچھے کۓ ہوۓ تھا لیکن اب ایک امیدکی کرن ٹمٹمائی
یہ سن کر سمیرا مسکراۓ بنا نہ رہ سکی اور کہنے لگی چلو میں بھی اپنے کام نپٹاؤں۰

اپنا تبصرہ بھیجیں