اجتماعی عمل – بنت شیروانی




بجتی ہوئی ring tone پر حمیدہ کے برتنوں پر سے دھوتے ہوۓ ہاتھ رکے اور اُس نے بنا نمبر دیکھے فون اٹھا لیا ….ابھی وہ کچھ بول بھی نہ سکی تھی کہ
گھروں میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے مردوں کو دیکھ کر کیا حول نہیں اٹھتا؟ سنسان پارکوں کو سوچ کر کیا دل نہیں کرتا کہ پھر سے یہاں بچے کھیلنے لگیں؟ چار ہانڈیوں کے بجاۓ دو ہانڈیاں پکاتے وقت دل تو کرتا ہوگا نا کہ پھر سے سلاد و میٹھا بھی ساتھ بناؤں؟ کامدانی کا سوٹ پہنے کو دل کر رہا ہے نا جو کہ ابھی تک دکان والے کے پاس ہی ہے اور بند مارکیٹ کی وجہ سے آنہیں سکا۰ اور بھی بہت کچھ
اور ان سب سے بھی بڑھ کر بند مساجد اور خالی حرم …….اور مدینہ کی خالی گلیاں روضۂ رسول کا ہم گنہ گاروں کے لۓ بند ہو جانا……
(یہ کہتے ہوۓ تو فون پر موجود بڑی بھابی کی آواز ہی مدھم ہوگئ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ قطرے اُن کی آنکھوں سے گرے ہیں۰)
حمیدہ کیا تم میری طرف سے کی جانے والی ذاتیوں کو ،ٹیسوں کو بھلانے کی کوشش کر سکتی ہو؟ حمیدہ میں نے تمھیں بہت دکھ دۓ بہت اور بہت زیادہ …….. ہم نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کۓ رکھا حمیدہ …….حمیدہ کہیں یہ ہمارا قطع تعلق کۓ رکھنا ہی تو نہیں تھا جو کہ آج ہمیں روک دیا یا ایک دوسرے کے گلے لگنے سے؟؟ اپنے حبیب کے روضہ پر جانے سے؟؟؟؟ یہ تمام باتیں سُن کر حمیدہ کچھ بول نہ سکی………فون پر بڑی بھابی موجود تھیں اور حمیدہ کا بڑی بھابی سے بہت عرصہ سے جھگڑا تھا ،دونوں کو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنا گوارا نہ تھا…. لیکن آج حرم پاک اور روضہ رسول پر لگنے والی پابندیوں سے دونوں ہی بے حد ڈر گئ تھیں اور عہد کر لیا تھا کہ مہینے میں ایک بار ہی سہی ایک دوسرے سے سلام دعا کر لیا کریں گی
اس اُمید پر کہ اُن کے اس اجتماعی عمل سے یہ وبا ٹل جاۓ۰

اپنا تبصرہ بھیجیں