محرم رشتے – بنت شیروانی




گرمیوں کے دنوں میں تو پانی پی ہی لیا جاتا لیکن سردیوں میں پانی پینا یاد ہی نہیں رہتا اس کی ایک وجہ شاید یہی تھی کہ پیاس ہی نہیں لگتی تھی۰
انھی سردیوں کی راتوں میں گردے نے یاد دلایا کہ میں بھی تمھارے جسم کا ایک عضو ہوں جسے تم پانی نہایت ہی کم پی کر بھلابیٹھی ہو …….آؤ میں تمھیں اپنی یاد دلاءوں اور گردے صاحب نے درد کرنا شروع کردیا اور یہ درد تو ایسا کہ بیٹھیں تو بیٹھا نہ جاۓ اور کھڑے ہونے کی تو ہمت ہی نہیں اور گردے کو تو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس وقت رات کے 2 بجے ہیں اورکراہتے ہوۓ پوری رات گزارنے کی تو ہمت ہی نہیں تھی ………..حالت ایسی کہ بس کسی طرح گردہ صاحب کو آرام اۓ اور ہم سکھ کا سانس لیں ……. بحرحال اپنے محرم رشتوں کو سوتے سے جگا کر ہاسپٹل کا رخ کیا…….. اور اس وقت جہاں دل سے یہ دعا نکلی کہ یارب ہمارے تمام محرم رشتوں کو سلامت رکھنا ،انھیں صحت عافیت کے ساتھ لمبی زندگی دینا …!
وہیں لبرل خواتین سے جو 8 مارچ کو اپنا عالمی دن منا کر حقوق مانگتی ہیں ان سے یہ سوال کرنے کا دل چاہا کہ جب تمھارے رات کو 2 بجے یا 3 بجے گردے میں درد اٹھے گا تو تم خود گاڑی drive کر کے جاؤگی؟ (خیال رہے کہ گردے کہ درد میں گاڑی چلانے کی ہمت بھی نہیں ہوتی)Uber یا کریم بک کرا کر کسی اجنبی taxi driver کے ساتھ ہسپتال جاؤگی ؟؟ یا رات کے اس پہر اکیلی ہی ہسپتال جانے کے لۓ نکل جائونگی ؟؟؟
یا پہر رب العالمین کے دیے ہوۓ محرم رشتوں کو سوتے میں سے اٹھا کر ان کے ساتھ گھر سے باہر نکلو گی؟؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں