گناہوں کا کفارہ – بنت شیروانی




صبح اٹھنے پر جب بچوں کو پتہ چلا کہ اسکول کی تو چھٹی ہے ……. بچوں نے yahoooo کے نعرے لگانے شروع کر دیے …
ہم نے بچوں سے کہا کہ بچوں ، کچھ پتہ بھی ہے کہ کیوں اسکول والوں نے چھٹی دی ہے؟ جس پر بچے کہنے لگے امی کرونا وائرس کی وجہ سے …… ہم نے کہا تو اس پر خوشیاں منانے کی کیا ضرورت ہے اس وقت تو استغفار کرنا چاہیے . کچھ اندازہ بھی ہے کہ اسکول کی چھٹی ہونے سے کیا ہوتا ہے اس پر بچے کہنے لگے ہمیں کچھ نہیں اندازہ ہمیں تو صرف چھٹی کرنا ہے . اس پر بڑی بیٹی کہنے لگی امی سٹڈیز کا حرج ہوتا ہے …….اسکول بند ہونے پر جس پر ہم نے بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا بیٹا اس کے ساتھ ساتھ سٹیشنڑی والوں کا نقصان کہ ہر ( دوسرے دن کی بنیاد پر بچے کوئی نہ کوئی قلم ،کاپی ،ربر وغیرہ خریدتے ہیں ) …….
اس کے ساتھ ہی پیٹرول والوں کا نقصان کہ آج پوری مملکت سے اسکول کالج جانے والی گاڑیاں نہیں چلیں ….. پھر اس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بچے جو اسکول لنچ خریدتے ہیں یا والدین ان کا لنچ بنانے کے لۓ سامان خریدتے ہیں انُ سب کا نقصان اور اس کے علاوہ بھی بہت سے نقصانات ………. جس پر ہمارے صاحبزادے جو کہ ہر وقت ماسک پہنے سے کوفت کا شکار ہو چکے ہیں اور بٹیا رانی جنھیں اسکول نہ جانے کی وجہ سے اسکول لنچ کے نہ ملنے کا بہت ہی دکھ تھا تو اس ہر دعا مانگنے لگیں کہ …..اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف کردے
اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف کردے۰

اپنا تبصرہ بھیجیں