ہم ضمیر کو مرنے نہین دیں گے – بنت شیروانی




چھن کی زور دار آواز سے فرحین کے کمرے کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا اور گیندباہر سے اندر آگئی …… فرحین جو اس وقت کپڑوں کی استری میں مشغول تھی اس آفت سے شدید غصہ میں آئی ……یہ اس مہینے میں دوسرا شیشہ تھا جو اس کے گھر کا انھی گلی میں کھیلنے والے بچوں سے ٹوٹا تھا۰
غصہ میں آگ بگولا فرحین دروازے پر بھاگی…….. لیکن جوانی کی عمر میں قدم رکھتے بچوں کو دیکھ کر ایک دم اس کا غصہ مانند پڑا اور اس نے سوچا کہ صرف ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے کیا فائدہ ؟ بچوں کو ایسا سبق سکھایا جاۓ جو انھیں زندگی بھر یاد رہے۰بچے فرحین کو دیکھ کر بولنے ہی لگے تھے کہ فرحین نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش کرایا اور کہا بچوں مجھے نہیں معلوم کہ شیشہ کس نے توڑا لیکن میں تم سب کو زندگی بھر کرنے والا ایک کام دے رہی ہوں۰بتاؤ کون کون اس کام کو کرنے کے لۓ تیار ہے؟؟؟ بچے جو ڈانٹ کھانے اور مرغا بننے کے منتظر تھے یہ”زندگی بھر کرنے والے جملے “سے حیرت میں آۓ اور ششوپنج کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ……کسی نے سوچا آنٹی زندگی بھر اب ہم سے اپنے گھر کا صحن صاف کرایا کریں گی تو کسی نے سوچا شاید اب آنٹی کے گھر کا روز کا سودا لانا اب ہماری ذمہ داری ہو جاۓ گی……..بچوں نے دل میں سوچا کہ چلو یہ سودا بھی بُرا نہیں ۰جہاں اپنے گھر کے بھی یہ سارے کام کرتے ہیں وہاں یہ آنٹی کا بھی کرلیا کریں گے لیکن گلی میں کھیلنے کی اجازت تو ملی رہے گی۰
بچوں نے کہا جی آنٹی ہم زندگی بھر کرنے کو تیار ہیں……تو پھر فرحین نے کہا کیا کرنے کو تیار ہو؟ بچوں نے کہا آنٹی جو آپ کہیں گی ……اس پر فرحین کہنے لگی بیٹا زندگی میں کبھی بھی اپنے ضمیر(اپنے اندر کی آواز ) کو کبھی مرنے نہ دینا۰جب کبھی کوئی غلط کام کرو اور اندر سے آواز آۓ کہ یہ صحیح نہیں یہ ظلم ہے یا غلط ہے…. تو اسی وقت اس کام سے توبہ کر لینا ،پلٹ آنا۰کیوں کہ اگر ایک دفعہ اپنی ضمیر کو سلا دیا جاۓ تو قوم کی بیٹی بیبیچنے والے جنرل مشرف کو بستر پر اکیلے لیٹے اپنی بیٹی کو واپس لانے کا خیال نہیں آتا ،
اگر یہ ضمیر مردہ ہوجاۓ تو نواز شریف اور زرداری جیسے حکمران اس پھیلی ہوئ وبا کے وقت میں بھی قوم سے لوٹی ہوئ دولت اُسی قوم پر واپس نہیں لگاتے،جب اس ضمیر کو سلاد یا جاۓ تو کسی دوسرے کے خون پسینہ سے کماۓ ہوۓ مال پر قبضہ کرتے ہوۓ کوئ ملامت نہیں ہوتی………تو میرے پیارے بچوں اس جملہ کو ۲۰ دفعہ لکھنا اور ہر دفعہ اپنے آپ سے عہد کرنا کہ،……میں اپنے ضمیر کو کبھی مرنے نہیں دوں گا……..بچے یہ وعدہ کر کے چلے گۓ…..اگلے دن دروازہ پر شیشہ توڑنے والا بچہ موجود تھا اور کہ رہا تھا آنٹی آپ یہ ٹوٹے شیشہ کے ہیسے لے لیں لیکن فرحین نے ان پیسوں کو لینے سے انکار کر دیا
اس امید پرکہ اس کا لکھایا ہوا جملہ اس بچے کو بھی زندگی بھر یاد رہے گا۰

اپنا تبصرہ بھیجیں