خرچی – شمائلہ عبد الباسط




یہ جون کی تپتی ہوئ دوپہر تھی .عالیہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں آئی تو دیکھا بچے سو رہے ہیں ۔تو اس نے سوچا میں بھی تھوڑی دیر کہ لئےآرام کرلوں وہ ابھی لیٹی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔اس نے گھڑی کی طرف دیکھا گھڑی کی سوئیاں تین بجنے کا اعلان کر رہی تھی وہ سوچنے لگی کہ اس وقت کون آسکتا ہے۔
دروازہ کھولا تو ایک بزرگ خاتون پسینے میں شرابور پریشان حال کھڑی تھی عالیہ کو وہ اپنے محلے کی نہیں لگی تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک نو مسلم خاتون ہے۔۔اور یہاں کچھ عرصہ پہلے ہی شفٹ ہوئیں ہیں ……. عالیہ نے گھر کے اندر بلاکر بٹھایا اور ڈھنڈا پانی لاکر اس خاتون کو دیا اسے ……. وہ نہایت ہی باوقار لگ رہی تھی ۔۔ عالیہ ابھی اپنے گھر آنے کا سبب پوچھ ہی رہی تھی کہ خاتون رندھی ہوئی آواز میں اپنے آنے کا سبب بتانے لگی بیٹا میری بیٹی کو تیسرا بچہ ہونے والا ہے ۔اس کے پہلے دو بچے گھر میں ہی پیدا ہوئے ہیں مگر اس بار بہت تکلیف ہے .. دائی کہتی ہے کہ اب اس کو شہر کے کسی بڑےہسپتال میں لے جاؤ۔۔۔ بیٹی میری مدد کرو ورنہ میری بیٹی مر جائے گی.. عالیہ نے جب اسے روتے ہوئے دیکھا تو اسے وہ عورت انتہائی دکھی لگی .. عالیہ نے سوچا کے شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال میں جانے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ رقم کی تو ضرورت ہوگی ……عالیہ نے اس سے ے پوچھا اماں تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں خاتون نے بتایا …
ہاں بیٹی تمہارے پاس آنے سے پہلے میں گاؤں کے چا رپانچ گھروں میں گئی تھی. وہاں سے مجھے صرف سو دو سو روپے ہی مل سکے، یہ کہتے اس کی آنکھیں پھر بھیگ گئی۔۔۔ اس نے دوپٹے سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا بیٹا اب تو ہمارے کنبے والے بھی مدد نہیں کرتے ہم نے دین جو بدل لیا۔ ۔۔۔ عالیہ سے رہا نہ گیا وہ اٹھی اور کمرے آکر الماری سے بیگ نکالا 500 کا نوٹ جو اس نے بچا کر رکھے تھے کل کے لیے ابھی سلے کپڑے لوگوں کے بھجوانے تھے جن سے اس کو پیسے ملنے تھے بابا جان جو اس کو ہر ماہ خرچی دیتے تھے اس کو بھی ابھی دیر تھی شوہر کے انتقال کے بعد عالیہ نے اپنے بچوں کو اپنی محنت سے پالا وہ پلاسٹک کے برتن بیچ کر اور سلائی کرکے بچوں کا پیٹ پالتی تھی۔۔اس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور ان کو عالیہ کی طرح مزدوری نہ کرنی پڑے۔۔۔ عالیہ اپنے ان خیالات میں محو تھی کہ اگر وہ یہ پیسے دے دیتی ہے تو اس کے کل کے لئے کیا بچے گا۔۔۔۔کل کی کل دیکھی جائے گی ۔ اس نے سر جھٹکا اور الله پر توکل کر کے وہ رقم اماں کو دے دی . اور کہا اماں اس کے علاوه میر ےپا س کچھ نہیں ……. بیٹی اللہ تمہا رے .رزق میں برکت عطا کرے اللہ ان ہی پیسوں سے میرا کام آسان کردے آمیں .
آماں دعائیں دیتی ہوئی تیز تیز قدموں کے ساتھ باہر نکل گئی.. اور عالیہ نے دروازہ بند کرتے ہوئے دعا کی اس کی بیٹی کا کام آسان ہوجائے اس کو اپنا آپ بہت ہلکا محسوس ہورہا تھا کا۔۔۔ دروازے پر دوبارہ دستک پر وہ چونک گئی اب کون آگیا اس نے دروازہ کھولا تو .. اس کا بھتیجا مسکراتا ہوا اندراس آگیا …….سلام پھپھو..! داداجان (عالیہ کے والد)نے آپ کے لے یہ رقم بھیجی ہے آپ کی خرچی.. دادا جان کو فصل کی کٹائی میں بہت منافع اس لیے ڈبل خرچی بھیجی ہے .. اس نے لفافے سے جب رقم نکال کر گنی تو وہ پورے پانچ سو دس ہزار تھے….. عالیہ نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا !
اے اللہ پاک میں نے تو صرف پانچ سو روپے دیے اور آپ نے تو… دس گنا بڑھا کر بھیج دیے…. یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے…. اور وہ بڑھا چڑھا کر واپس کرتا ہے۔۔۔.

خرچی – شمائلہ عبد الباسط” ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ
    بہت ہی عمدہ تحریر ہے
    بیشک اللہ پاک سچےدل اور خلوص نیت سے کی ہوٸ مددکو بڑھا کر دیتا ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں