کرونا کی کہانی بچے کی زبانی – سعدیہ نعمان




پتہ ہے……. ٹیڈی بیئر اچھا لگ رہا ہو گا نا تمہیں بھی ….! یوں صاف ستھرا ہو کے مجھے بھی بہت اچھے لگ رہے ہو تم آج– مما نے کل سب کو واشنگ مشین میں دھویا کمپفو پانڈا نیمو فش ھیلی کاپٹر— سارے سٹفڈ ٹوائز-سب صاف ستھرے ہو گئے ہیں مجھے بھی دن میں بار بار ہاتھ دھونا ہوتے ہیں مما کہتی ہیں یہ کرو نا سے بچنے کے لئے ضروری ہے –
مما کہہ کے گئ ہیں سو جاو……. لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی .بہت دن گزر گئے ہیں اب تو یاد بھی نہیں کتنے ہم گھر سے باہر کہیں نہیں گئے….. گھر کے سامنے والے پارک میں بھی نہیں- کوئی بچہ بھی نہیں آتا جھولے اور سلایئڈز سب خالی رہتی ہیں میں لاونج کی کھڑکی کے شیشے سے سر لگا کے باہر جھانکتا رہتا ہوں کبھی کبھی کوئی گاڑی گزرتی ہے یا پھر گارڈ انکل ماسک لگائے گھومتے رہتے ہیں شام کو کچھ لوگ جوگنگ کے لئے نکلتے ہیں کل مالی بابا اور تین انکل اور بھی تھے میں نے کھڑکی سے دیکھا تو بہت دیر تک گھاس کاٹنے کے بعد وہ گراونڈ میں بیٹھے چائے پی رہی تھے انہوں نے ماسک اور گلوز بھی نہیں پہنے تھے شائد انہیں کرو نا سے ڈر نہیں لگتا- اب تو عبدالرافع بھی نہیں آتا حالانکہ نیچے والے فلور پہ ہی رہتا ہے پہلے کچھ دن ہم نے ویڈیو کال کی تھی اور مل کے ڈرائنگ بنائ تھی اب وہ کال بھی نہین کرتا میرا خیال ہے …..
وہ اپنی نانی امی کے پاس چلا گیا ہے. پتہ ہے ٹیڈی میں 8 سال کا ہو گیا ہوں اور اب مجھے 3 کلاس میں جانا تھا لیکن پھر نئ کلاس سے پہلے ہی سکول بند ہو گئے اب میں اپنے دوستوں کو اپنے سکول کو یاد کرنے لگا ہوں سپوڑٹس پیریڈ میں بہت مزا آتا تھا ہاں بس اردو کا پیریڈ نہیں ہونا چاہیئے نا مجھے اردو کی ٹیچر سے ڈر لگتا ہے —-میں پورا دن گھر میں بہت بور ہوتا ہوں جب بابا کے پاس تھا تو بابا روز شام کو مجھے پارک لے جاتے اورواپسی پہ ہم آئس کریم کھاتے تھے اب ہم پاکستان ہیں اور بابا ہمارے ساتھ نہیں ہیں مما کہتی ہیں وہ جاب کی وجہ سے نہیں آسکتے بابا کے پاس بھی کرو نا کی وجہ سے پورا دن کرفیو ہے ہم سب ان کے لئے پریشاں ہو تے ہیں وہ وہاں اکیلے ہیں ابھی آ نہیں سکتے کیونکہ فلائٹس بھی بند ہو گئ ہیں — پتہ ہے میں نے بہت پیاری ڈرائنگ بنائ تھی گھر کی — پارک بھی اس میں پھول تتلیاں پرندے سب بنائے اس میں رنگ بھی بھرے —دادا جان کو دکھایا وہ بہت خوش ہوئے انہوں نے مجھے انعام بھی دیا میں نے لیگو سے بھی بہت سی چیزیں بنائ ہیں — دادا ابو اور نانا ابو دونوں مجھے اداس لگتے ہیں نانا ابو کل مما سے فون پہ کہہ رہے تھے کہ وہ اب مسجد نہیں جا سکتے گھر پہ ہی نماز پڑھ لیتے ہیں — ٹیرس پہ روز ایک چڑیا آتی ہے میں اسے کھانا بھی دیتا ہوں سامنے والے پارک میں بہت سارے پھول کھل گئے ہیں–
تمہیں پتہ ہے ٹیڈی کرو نا تو بہت چھوٹا ہے اتنا چھوٹا کہ نظر بھی نہیں آتا لیکن سب کہہ رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے کل بھیا ایک ویڈیو دیکھ رہے تھے جس میں ایک انکل تھے جو کرو نا کی وجہ سے ہاسپٹل میں تھے…….. پتہ ہے انہیں سانس بھی لینا مشکل ہو رہا تھا مجھے بہت ڈر لگتا ہے ہاسپٹل جانے سے ………جب مما کو ایک دفعہ ہاسپٹل رہنا پڑا تھا تو میں سب سے چھپ کے رویا تھا اور میں نے اللہ تعالی سے کہا تھا کہ میری مما کو جلدی سے واپس لے آیئں پتہ ہے اللہ تعالی تو بہت اچھے ہوتے ہیں مما کہتی ہیں کہ بچوں کے تو سب سے اچھے دوست ہوتے ہیں میں اللہ تعالی سے کہتا ہوں کہ بس آپ سب کچھ اچھا سا کر دیں اس کرو نا کے بچے کو تو بالکل ختم کر دیں پھر میں دوستوں کے ساتھ کھیلنے جا سکوں گا میرے بابا ہم سب کے پاس آ سکیں گے ……..مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئ کہ نیویارک اٹلی فرانس یہ تو سپر پاورز ہیں ساری دنیا کی سب سے اچھی ٹیکنالوجی ان کے پاس تھی پھر کرونا سے یہ سب کیوں نہیں بچ سکے ورلڈ کو بھی نہین بچا سکے جیسے میں نے ایک مووی میں دیکھا تھا میں نے مما سے بھی پوچھا تھا تو مما کہنے لگیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اس کی طاقت سب سے زیادہ ہے ان سب سپر پاورز سے زیادہ-
اللہ سپریم پاور ہے —یہ دنیا بھی اللہ کی ہے — زمین آسمان چاند ستارے گیلیکسیز سب اللہ کی ہیں — تو بس اب پیارے اللہ میاں آپ جلدی سے اس کرو نا کو مار دیں آپ تو سب کر سکتے ہیں نا— اوہ مجھے لگتا ہے مما آ رہی ہیں چلو اب جلدی سے آنکھیں بند کرو سو جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں