اَنا کی ہار – ایمان زاہد بھٹی




آنکھوں کے سامنے مناظر آتے جا رہے تھے سڑک کی طرف درخت پیچھے کو بھاگ رہے تھے اکمسے ایسا لگا کہ جیسے درخت تیزی سے ایک طرف کو جا رہے ہیں وہ بھی شاید نئے سماجی دائرے سے اسی طرح بھاگ رہی تھی مسلسل کھڑکی سے باہر ڈھلتے شام کا سورج اور پرندوں کا واپسی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونا بڑی ہی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی .
اسے ایسا لگ رہا تھا اس شام کی طرح اس کے دل کے موسموں میں بھی شام آ چکی ہے وہ بہت ہی اداس سی غمگین سا دل لیے باہر کے مناظر سے اپنا آپ اپنا دل بہلانے کی کوشش کر رہی تھی “عائشہ تمہیں آج بھی اپنی کلاس کا سیکشن نہیں معلوم ہوا۔” بسمہ نے گویا طنزیہ انداز میں کہا عائشہ نے جیسے سرسری سی نظر بسمہ پر ڈالی اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے واپس کھڑکی کی جانب چہرہ موڑ لیا ……”لگتا نہیں کہ تم اسی دنیا اور اسی کالج کا حصہ ہو پتہ نہیں کون سی دنیا میں رہتی ہو کالج میں آۓ ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے مگر حیرت ہے تمہیں اپنی کلاس کا سیکشن نہیں معلوم کلاس کے اوپر ہی تو ٹیگ لگا ہوتا ہے “…… اس بات پر تو جیسے عائشہ آگ بگولہ ہو گئی “میں نے تم سے پوچھا کہ میں اس دنیا میں ہوں یا نہیں۔ so please mind your own business “. یہ کہہ کر عائشہ نے بسمہ کے تاثرات دیکھے بنا ہی دوبارہ اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا توبہ ہے لڑکی عائشہ نے اہستگی سے بسمہ کو کہتے سنا تھا عائشہ کو کالج آۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا مگر کالج کے اندر کے تمام راستے درست طریقے سے معلوم نہیں ہو پا رہے تھے اسے اپنا اسکول شدت سے یاد آتا تھا
ایک جھٹکے سے گاڑی اس کی گلی کے سامنے رکی وہ ایک دم سے ہڑبڑا گئ ……. فوراً بیگ کاندھوں پر ڈالا اور وین سے نیچے اتری نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے 9 سالہ بھائی اس کا گلی کے کونے پر انتظار کر رہا تھا اس کے چہرے پر فوراً سے مسکرہٹ عیاں ہوئی اس کے اندر ایک دم سے فخر آیا . وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی گھر تک پہنچی سب کو ایک ساتھ سلام کر کے اس نےاپنے کمرے میں بیگ ایک طرف رکھ دیا کپڑے بدل کر منہ ہاتھ دھو کر بستر پر جیسے اداس سی بیٹھ گئی بستر پر بیٹھے گھٹنوں پر سر دیۓ اسکول یعنی ماضی کے دریچوں میں کھونے لگی تھی کہ فوراً کسی آواز نے اسے چونکا دیا، ” عائشہ بیٹا کھانا گرم ہو گیا ہے آ کر کھا”، لو وہ جو ماضی کی یادوں میں کھونا چاہتی تھی فوراً ماں کے حکم کی۔تکمیل کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور سست روی سے کھانے کی میز پر جاکر بیٹھی جہاں سب رات کے کھانے کے لئے موجود تھے …..” کالج جاتے ہوئے ہفتہ ہو گیا کالج کیسا جا رہا ہے بیٹی کو کوئی دوست بنی ؟” ڈیڈی نے عائشہ کو پریشان دیکھ کر پوچھنا چاہا
“جی الحمداللہ اچھا جا رہا ہے اور دوست وہ تو میں کالج میں بالکل نہیں بناؤں گی ہاں درمیانی بات چیت تو سب سے ہے میں اجکل جس لڑکی کے ساتھ بیٹھتی ہوں اس کا نام نور السناء ہے وہ بھی کوئی اتنی خاص نہیں ……. عائشہ اپنی بات کہہ کر کھانا پلیٹ میں نکال چکی تھی عائشہ کی بات مکمل ہوتے ہی ماں نے فوراً سے پوچھا ” ، بیٹا آج پریشان لگ رہی ہو کچھ مسئلہ تو نہیں”…… ماں نے گویا سولیہ انداز میں پوچھا ہو ماں کے۔پوچھنے کی دیر تھی کہ عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں “کالج سے اچھا تو میرا اسکول تھا لڑکیاں کم از کم طریقے کی تو تھیں”اور ساتھ ہی آنسوؤں سے رخسار بھر گیا ہوا کیا ہے عائشہ ماں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا “مما جس کے ساتھ میں بیٹھتی ہوں ناں نور وہ آج مجھے کہتی ہے کہ تم بہت proudy ہو”……. اور دوبارہ رونے لگی ، “ارے بٹیا چھوٹی چھوٹی باتوں پر رویا نہیں جاتا یہ تو کچھ بھی نہیں دنیا تو اور بھی بہت کچھ کہتی ہے چلو شاباش کھانا کھاؤ “عائشہ نے مشکل سے۔دو لقمے لئے اور فوراً واپس اپنے کمرے۔میں چلی گئی بستر پر بیٹھ کر کتابیں کھول لیں ویسے میں ک}تنی احمق لڑکی ہوں میں کسی کے کہنے پر اپنا آپ کیوں ہلکان کر رہی ہوں وہ مجھے جو سمجھتی ہے سمجھے مجھے اس کی پروا نہیں
نور اتنی بھی بری نہ تھی لیکن بس اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں عائشہ کو آگ بگولہ کر جاتیں مگر عائشہ جانتی تھی کہ مشکل کے وقت نور ہی کام آتی ہے اس کی اچھی عادت معلوم ہونے کے باوجود بھی وہ اس سے دوستی توڑنے کے بہانے ڈھونتی رہتی ……ایک دن ایسا آ ہی گیا پھر دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں گزرتے گۓ اور عائشہ اسکول کی طرح کالج میں بھی تقاریروں میں نمایاں ہو گئی اور نور ہمشیہ اس کی کامیابی پر مبارکباد ضرور دیتی مگر عائشہ اسے۔ نظر انداز کر جاتی شاید انا زیادہ حاوی تھی چاہ کر بھی دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھا پا رہی تھی جبکہ بات چیت ختم ہوۓ تقریباً دو سے زیادہ ماہ ہو چکے تھے ۔اب عائشہ کو نور بہت سوں سے سلجھی ہوئی لگنے لگی تھی بلکہ اوروں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ واقعی وہ ایک سلجھے ہوئے گھارانے کی لڑکی تھی …… یہ اسے اب اندازہ ہو رہا تھا ضمیر کہتا کہ تم نے غلط کیا مگر انا بیچ میں حائل ہو جاتی ضمیر اور انا کی جنگ میں شاید انا جیت جاتی ……سنو نور سے تمہاری بات چیت کب سے بند ہے ؟ کلثوم نے گویا سوالیہ انداز میں پوچھا تمہیں مسئلہ کیا ہے میری بات چیت ہو یا نا ہو یہاں بھی شاید انا جیت گئ تھی” ارے ویسے ہی پوچھ رہی تھی نور بتا رہی تھی کہ تین ماہ ہو گئے”ہاں تو عائشہ جو رول سے لطف اندوز ہو رہی تھی سردمہری سے بولی
عائشہ خدا کا خوف کرو اتنی بھی ناراضگی اچھی نہیں ۔کلثوم بس تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے …..بس پھر وہی دن تھا کہ شاید اس نے بھی دوستی کروانے کی ٹھان لی تھی اور کروا بھی دی مگر، پھر بھی عائشہ نور کے ساتھ پہلے جیسا اچھا رویہ نہیں رکھ رہی تھی جیسا وہ دوستی کے دنوں میں رکھا کرتی تھی …….فریحہ مجھ سے یہ سوال حل نہیں ہو رہا اگر تمہیں آ رہا ہے تو حل کر دوعائشہ نے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا ساتھ ہی دو تین اور لڑکیوں کو بھی سینڈ کر دیا کہ جو پہلے دیکھ لے گا اس کا رپلاے آ جائے گا مگر ان میں سے جو رپلاے آۓ وہ یہی تھے کہ تھوڑی دیر تک سینڈ کر دیں گے مگر وہ تھوڑی دیر کسی کی نہ آئی عائشہ کے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عائشہ کو فوراً نور کا خیال آیا مگر انا بیچ میں آ گئ آخر کار انا کو پیچھے کر کے وہی میسج کر دیا جو فریحہ کو کیا تھا اور تھوڑی ہی دیر بعد حل ہوا سوال اس کے سامنے تھا اور ساتھ میں ایک وائس میسج بھی تھا جس میں اس نے کہا تھا آئندہ کے بعد جو بھی پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لینا یہ سنتے ہی اس کے چہرے پر شرمندگی کا سایہ لہرا گیا
عائشہ یہ وہی لڑکی تھی جس سے تم چڑتی تھی ضمیر نےجیسے نے اسے جھنجوڑ ڈالا …….. مشکل کے وقت مدد کرنے والی نور نے اس کے دل میں وہ مقام حاصل کر لیا تھا جو شاید دوستی ٹوٹنے سے پہلے بھی نہ تھا …،بے ساختہ اس کی انگلیاں موبائل پر میسج ٹائپ کرنے لگی اور اس میسج میں عائشہ اپنے برے رویے کی معافی چاہ رہی تھی ، میسج کرتے ہی وہ سوچنے لگی کے یہ تو ایک دوستی کی بات تھی ……. دوستی کے علاوہ اور بہت سارے رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں لوگ انا کی خاطر ترک کر دیتے ہیں اور بہت سی جگہوں پر انا حاوی ہو جاتی ہے اور رشتوں کا گلہ دبا دیتی ہے ……اسی لئے انا کو حاوی ہی نہ ہونے دیا جائے …..حاوی ہونے سے پہلے ہی انا کا گلہ دبایا جائے تو رشتے بچ سکتے ہیں….!

اپنا تبصرہ بھیجیں