سفید جوڑا – عائشہ اختر




انتیسواں روزہ افطار ہوچکا تھا۔ زارا اس وقت چھت پر موجود آسمان کی جانب دیکھ تھی۔ وہ چاند ڈھونڈ رہی تھی۔ جیسے ہی اسے چاند ملا، اس نے دعا مانگی۔۔۔
کل عید تھی اور عید کے دن اس کا نکاح تھا۔ وہ بھاگی بھاگی نیچے آئی۔۔۔۔ ”اماں!۔۔۔ اماں!۔۔۔۔“ وہ زور زور سے چلاتے اپنی ماں کو ڈھونڈنے لگی۔ ”کیا ہوگیا ہے؟۔۔۔ اتنا شور کیوں مچا رکھا ہے؟۔۔۔“….. ”آپ لوگوں کو کچھ احساس ہے۔۔۔ چاند نظر آگیا ہے۔ کل میرا نکاح ہے اور ابھی تک میری چوڑیاں اور پازیب نہیں آئی۔۔“ ”ہائے میرا بچہ تمہیں لا کر تو دی تھی پازیب اور کنگن بھی تو آئے تھے سسرال سے۔۔۔“ یہ دادی بولیں تھیں۔ ”دادی وہ مجھے نہیں پسند۔۔۔ پازیب میں آواز نہیں ہے اور ڈیزائن بھی کوئی خاص میرے دل کو نہیں لگا۔۔۔ اور وہ کنگن۔۔۔ تو میں نے نہیں پہننے کنگن، بھئی عید بھی ہے اور نکاح بھی۔۔۔۔ چوڑیاں تو ہونی چاہیئے ہیں نا۔۔۔ اور میں نے گجرے بھی لینے ہیں۔“ ”اچھا اچھا میں لا دیتی ہوں۔“ آپا بولیں ….. ”آپ کیوں؟۔۔۔ میں خود جاؤں گی لینے۔۔۔“
”لڑکی کل تمہارا نکاح ہے۔“…… ”تو۔۔۔ یہ نیا زمانہ ہے دادی۔“ وہ نئے زمانے پہ زور دیتے بولی۔ اس کے اتنی ضد کرنے پر سب کو اس کی بات ماننا ہی پڑی تھی۔ رات بارہ بجے کے قریب وہ سب کچھ لے کر گھر پہنچی‘ پھر مہندی والی جو کب سے آئی بیٹھی اس ہی کا انتظار کر رہی تھی اس سے مہندی لگوائی۔۔۔ مہندی میں اس نے عمر کا نام لکھوایا تھا۔ مندی لگوانے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے کل کے سوٹ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ ”پتا نہیں عمر کو کیا سوجھی تھی یہ سفید سوٹ لینے کی، اوپر سے جیولری بھی سفید۔۔۔ انہہ!۔۔۔ اچھا ہوا میں نے پہلے ہی ہر چیز پر غور کرلیا۔۔۔ ورنہ تو میں نے بیوہ لگنا تھا۔۔۔ ہننہہ!۔۔۔ کل جب اس کے ساتھ رنگ برنگی جیولری پہنوں گی نہ تو پھر بہت خوبصورت لگوں گی۔“ اُس نے خوبصورت سفید غرارے اور ساتھ میں چھوٹی شرٹ جس پر سفید ہی رنگ کا کام تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے خود کلامی کی۔۔۔
وہ صبح جلدی ہی اٹھ چکی تھی۔ عید کی نماز ادا کی۔ پھر بیوٹیشن آگئی۔ وہ تقریباً تیار تھی۔ آپا اندر آئی تو اس نے بے ساختہ پوچھا۔ ”آپا پھوپھو لوگ آگئے؟۔۔۔“ ”ہاں بس دلہے صاحب رہ گئے ہیں۔ آتے ہونگے وہ بھی۔“ ”ہیں؟۔۔۔ وہ کہاں تھے؟۔۔۔“ ”تم جو اتنا تیار ہورہی ہو تو کیا وہ نہ ہوتے؟۔۔۔“……. ”اوہ!۔۔۔“ وہ جیسے اب سمجھی تھی۔ بیوٹیشن اس کا میک اپ پورا کر چکی تھی۔ ایک گھنٹہ گزر گیا۔ کوئی بھی اندر نہیں آیا تھا۔ ”پتہ نہیں سب کہاں رہ گئے ہیں۔ ایک تو پھوپھو نے بھی پتا نہیں کہاں بھیج دیا ہے اسے۔ یہ ساتھ تو پھوپھو کا اپنا گھر ہے۔ بھلا گھر ہی تیار کروا لیتے۔” بیوٹیشن جا چکی تھی۔ وہ سفید جوڑے میں ملبوس ہاتھوں میں رنگ برنگی چوڑیوں کے ساتھ سفید گجرے جس میں ایک گلاب کا پھول بھی لگا تھا پہنی بیٹھی تھی۔ اس سب کے ساتھ سفید اور گلابی پھولوں کا سیٹ اور ہلکا پھلکا میک اپ کئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ وہ اب ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔ ساتھ ہی دروازہ کھلا آپا اندر آئیں اور اسے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئیں۔
”کیا ہوا ہے آپی؟۔۔۔“ اس کی آواز بمشکل نکلی تھی۔۔
”زارا!۔۔۔ عمر چلا گیا۔ ہم سب کو چھوڑ کر۔“ آپا نے روتے ہوئے بتایا۔ ”آپا آپ پاگل ہوگئی ہیں۔ یہ کیا فضول باتیں کر رہی ہیں۔ عمر اور آپ مل کر تنگ کرتے ہیں ۔ مگر حد کر دی آپ نے۔“ زارا اُن کو خود سے دور کرتے چلائی۔ ”یہ سچ ہے۔ اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ وہ اب نہیں رہا۔“ آپا مسلسل روتے ہوئے بولی۔ وہ باہر کو بھاگی، آپا اس کے پیچھے بھاگیں تھیں۔ وہ باہر باغ میں پہنچی جہاں اِن کے نکاح کا انتظام کیا گیا تھا۔ عمر کے کہنے پر باغ بھی سفید پھولوں سے سجایا گیا تھا مگر زارا نے گلابی پھول بھی لگوائے تھے۔ خوبصورتی سے سجے لان کے درمیان میں عمر کا بے جان وجود پڑا تھا۔ خوبصورت سفید شلوار قمیض خون سے لال ہو چکی تھی۔ زارا اس کی طرف بھاگی، اس کی پائل کی آواز ہر طرف شور مچا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اس کی اماں اور دادی بھی اسے پکڑنے کے لئے آگے کو ہوئے۔”عمر!۔۔۔ عمر!۔۔۔ اٹھو۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو تم ۔ ایسا مزاق کوئی کرتا ہے کیا؟۔۔۔ دیکھو یہ سب کیا کہہ رہیں ہیں۔۔۔ انہیں چُپ کرواؤ۔۔۔ اُٹھو۔۔۔وہ اس کو جواب دیتا نہ دیکھ کر چیخ پڑی تھی۔ اس کی اپنی غرارے کی سفید قمیض بھی لال ہوچکی تھی۔ سب اِسے سنبھال رہے تھے اور اسے یقین دلا رہے تھے کہ وہ اب نہیں رہا۔
جنازہ اٹھایا جا چکا تھا۔ زارا اسی جوڑے میں ایک طرف دیوار سے ٹیک لگائے اُجڑی حالت میں بیٹھی تھی۔ دوپٹہ ایک طرف زمین پہ پڑا تھا۔ آدھی چوڑیاں وہ اتار کر پھینک چکی تھی اور آدھی ٹوٹ چکی تھیں۔ جن کی وجہ سے اس کی نازک کلائیوں سے بھی خون رسنے لگا تھا۔”زارا یار تم سفید رنگ کے جوڑے میں دلہن بنی بہت پیاری لگو گی۔“……”کیا خاک پیاری لگوں گی؟۔۔۔ پوری بیوہ لگوں گی۔ بھلا اپنے نکاح پر سفید جوڑا کون پہنتا ہے؟ ۔۔۔ ”زارا تم میرے لئے اتنا نہیں کر سکتی؟۔۔۔“ وہ منہ دوسرے طرف کرتے بولا۔ ”نہیں نہیں!۔۔۔ میں تو تمہارے لئے اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔ یہ تو پھر جوڑا ہے۔“ زارا چہکی تھی۔ آخر وہ کہاں عمر کا یوں منہ موڑنا سہہ سکتی تھی اور اب تو اس کا عمر ”عُمر“ بھر کے لئے منہ موڑ گیا تھا۔۔۔ کبھی واپس نا آنے کے لئے۔۔۔ ”میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟۔۔۔” ایک شب اُس نے یوں ہی پوچھا تھا۔
”تمہارے لئے تو میں جان بھی دے سکتا ہوں۔“ اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔ آج اُس نے زارا کے لئے جان بھی دے دی تھی۔”مرنے مارنے کی باتیں نہ کیا کرو عمر۔“ وہ اُس کے جواب میں بولی تھی۔۔۔ اور وہ محض مسکرا دیا تھا۔۔۔

2 تبصرے “سفید جوڑا – عائشہ اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں