گوگل استاد -ماریہ صفیہ




بیٹا کل انشاء اللہ بخار اترجائے گا !…آپ فکرمند نہ ہوں سہیل صاحب نے فکرمند بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
سہیل صاحب اچھے بھلے چنگے تھے ….. بس کچھ دنوں سے کمزوری ، جسم میں درد وغیرہ کی شکایت ہورہی تھی شروع میں عام موسمی بخار سمجھ کر سہیل صاحب نے علاج کو ٹال دیا۔۔۔لیکن اب بخار 102 ، 103 کی حدوں پر جانے لگا تھا۔ ساتھ میں کپکپی بھی تھی۔۔۔سارہ بڑی بیٹی اور کچھ حساس طبیعت ہونے کے باعث کافی پریشان تھی۔۔۔ ابو پھر بھی آخر ایسا کیا ہوگیا ہے کہ آپ کا بخار اتنا تیز ہورہا ہے!؟ آپ نے اپنے دوست داکٹر صاحب سے بھی تو پوچھا تھا ۔۔۔کیا کہرہے تھے وہ؟. سارہ ایک بار پھر گویا ہوئی۔ ابو نے مسکراکر سارہ کو دیکھا اور تسلی بھرے لہجے میں بولے اررے بیٹا کہتے ہیں ملیریا لگ رہا ہے۔۔۔ٹیسٹ کروالو، میں نےڈاکٹر ناصر سے بھی مشورہ کیا ہے ناصر کا بھی یہی خیال ہے اس لئے میں ٹیسٹ نہیں کروارہا میں نے دوا شروع کردی ہے بس اب بخار اتر جائے گا۔۔ اور میں نے ابھی ملیریا کو گوگل پہ پڑھا بھی ہے وہی symptoms ہیں جو مجھے ہیں۔۔۔۔
ابو نے تفضیلات بتائیں….. سارہ نے سکھ کا سانس لیا اور جوس بنانےچل دی ، ابو آپ کو تو ابھی بھی 102 بخار ہ ہے ! آپ تو کہرہے تھے کل تک اتر جائے گا۔۔۔!؟ سارہ نے تشویش سے کہا۔۔۔ اررے کیا ابو کو پریشان کررہی ہو صحیح ہونے میں وقت لگے گا نا کمزوری ہے آخر کو امی نے سارہ کو ڈپٹ کر کہا۔۔ جاؤ تم جاکر تازہ کینو کا جوس نکالو۔ سارہ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی چلی گئ کہ بھلا اچھے بھلے ابو کو کیا ہوگیا۔۔والدین کو کچھ ہو بڑی بیٹی کے لئے بڑی پریشان کن بات ہوتی ہے۔۔ السلام۔ علیکم !! جی بیٹا دوسری جانب سے چاچو کی نیند بھری آواز آئی ۔۔۔چاچو وہ نا ابو کی طبیعت بہت خرآب ہورہی ہے آپ اور دادا فوراً آجائیں!!!!۔۔۔سارہ نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔۔۔
رات کے تقریباً ۲ بجے اچانک امی کی اوآز سے اس کی انکھ کھلی، آج وہ کافی مطمئن سوئی تھی لیکن رات اچانک ابو کو شدید بخار اور کپکپی ہوگئ ۔۔۔دادا اور چاچو نذدیک ہی تھے فوراً آگئے فوری ہسپتال سے ڈرپ لگوائی تو کچھ حالت بحال ہوئی ۔۔۔ لیکن یہ بخار تو معمہ ہی ہوگیا۔۔۔
ہممم ۔۔۔سہیل صاحب آپ بروقت آگئے۔۔۔..ڈاکٹر نے ٹیسٹ کی رپورٹ دیکھ کر بات اگے بڑھائی۔۔۔ آپ نے اتنی ہیوی ملیریا کی دوا لے لی لیکن آپ کو تو ملیریا ہے ہی نہیں ہے ! اور اپنے ٹیسٹ بھی حالت بگڑنے کے بعد کروآیا آخر کیوں۔۔۔! ڈاکٹر صاحب نے پیشہ ورانہ ناراضگی سے کہا۔۔۔ وہ دراصل symptoms تو ملیریا کے ہی تھے بس اسلئے ۔۔ کچھ کوتاہی ہوگئ۔ ڈاکٹر کی بات سے سہیل صاحب حد درجہ پریشان ہوچکے تھے۔۔ جلدی جلدی کہنےلگے۔۔ آپ کو سب سے پہلے ٹیسٹ کروانا چاہئے تھا اور پھر دوا۔۔۔سیلف میدیکیشن اور گوگل اس کا حل نہیں ہیں۔ ہمیشہ صحیح شخص کے پاس جائیں ورنہ آخر میں صرف وقت کی بربادی ہوگی۔۔ علم کی سورس بہت معنی رکھتی ہے گوگل سے علاج نہیں ہوسکتا ، صاحب علم اور صاحب تجربہ شخص ضروری ہے۔۔!!Symptoms کی اہمیت یہاں کم ہے سہیل صاحب! آخر آپ نے ٹیسٹ اتنی دیر سےکیوں کروایا !!۔۔۔۔اگر کبھی گوگل کے بتائے ہوئے (میپ) راستے پہ بھی اپنی عقل استعمال کرکے نا چلیں تو وہ آپ بند گلی میں پہنچاسکتا ہے۔ ایسے میں سہیل صاحب کے ذہن میں پچھلے پورے ہفتے کی تھکن بیماری ،وقت اور تکلیف گھوم گئ اور یہ کہ اگر کوئی یونہی اپنی زندگی غلط راہوں پہ گزار کے واپس چلاجائے اور سمجھتا رہے کہ وہ ہدایت پہ ہے۔ سہیل صاحب نے ایکدم جھرجری لی۔۔
۔۔۔۔۔اور یکدم ۔۔۔رات پڑھی سورۃ کہف کی آیتیں ذہن میں گونج گئیں۔۔
” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہو: کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ جن کی ساری سعی و جدوجہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں.” ہم بھی اسلام کو گوگل سے سمجھتے ہیں ،ہم بھی سنی سنائی باتوں سے سیکھتے ہیں اصل سورس یعنی قرآن ، نبی کے طریقے کو چھوڑ کر بغیر مستند علم کے غالط راہوں پہ دوڑتے ہیں ، ہم بھی بروقت اپنا محاسبہ نہیں کرتے۔۔۔بروقت اپنے آپکو ٹیسٹ نہیں کرتے۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ۔۔۔۔! سوچوں کے تسلسل کو ڈاکٹر صاحب کی آواز نے توڑا۔ شکر ہے آپ بروقت آگئے! اور سہیل صاحب نے دو دفعہ اللہ کا شکر کیا کہ اللہ نے ایک واقعے سے دو سبق دے دئیے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں