یوٹیوب کا استعمال – بنت شیروانی




بیسن بھونتی بریرہ کے ہاتھ تیزی سے بیسن کو آگے پیچھے….. تو کبھی دائیں اور بائیں کرنے میں لگے ہوۓ تھے۰
چولھے کی آنچ بھی بریرہ نے کافی دھیمی کی ہوئی تھی۰کہ مبادا کہیں بیسن جل نہ جاۓ ۰کیونکہ اگر یہ بیسن جل جاتا تو نہ تو جلے بیسن کی بدبو ختم ہونی تھی۰اور بیسن کا ذائقہ بھی الگ خراب ہو جاتا …… ساتھ میں رنگت بھی بیسن کی پیلی سے کالی ہونی ہی تھی۰اسلۓ بیسن کو بھوننے کے لۓ ان ساری احتیاطوں کے ساتھ مہارت بھی ضروری تھی۰کہ نہ تو بیسن جل کر کالا ہو اور نہ ہی اس کے ذائقہ میں فرق آۓ۰بیسن بھوننا اسلۓ ضروری تھا کہ اسے بیسن کے لڈو کھانے تھے اور تمام مٹھائ کی دکانیں بند تھیں۰
بھونتے بیسن کے وقت جب اس سے یہ بے احتیاطی ہوئ کہ ایک سے دو منٹ کے لۓ اس نے اپنے ہاتھ بیسن کو بھوننے سے روک دۓ تو اسے اس وقت لگا کہ جب وہ یو ٹیوب کھولتی ہے تو ایک اور دو منٹ کے لۓ اُن ویڈیوز اور چینلز کو تو نہیں کھول لیتی جنھیں اسے نہیں کھولنا چاھۓ۰وہ صرف ایک کلک تو نہیں کر لیتی کہ کیا ہوا جو دیکھ لی…… اور جنھیں دیکھنا نہ صرف اس کی صحت کے لۓ نقصان دہ ہے بلکہ وہ ایک کلک اور ایک منٹ کے لۓ دیکھنا یا دو منٹ کے لۓ اُن پر نظریں جمانا اس کی تمام کی گئ نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۰اسی طرح جیسے بھونتے بیسن پر ایک منٹ کے لۓ یا دو منٹ کے لۓ ہاتھوں کو روک دینا۰کیونکہ تنہائ میں کے گۓ گناہ تمام نیکیوں کو مٹا دیتے ہیں۰ایک بہت ساری نیکیاں اور اچھاءیاں کر نے والے انسان کی نیکیوں کو صفر کر دیتے ہیں۰
پھر بریرہ نے سوچا تو کیا وہ اس یو ٹیوب کو استعمال کرنا ہی چھوڑ دے کیا ؟ لیکن پھر اس کو لگا کہ نہیں جب ضرورت ہو تو استعمال بھی کرے جیسے بیسن کے بھونتے وقت احتیاط کرتی ہے۰جہاں بیسن بھوننے سے پہلے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتی ہے وہیں وہ ہمیشہ یو ٹیوب استعمال کر نے سے پہلے “اعوذ با للہ من اشیطان الرجیم”پڑھ لیا کرے گی…… چاہے وہ اسے کاغذ پر بڑا بڑا لکھ کر لگا دے کہ یو ٹیوب استعمال کرنے سے پہلے یہ پڑھنا ہے۰
تاکہ بھونتے بیسن میں ذرا سی بے احتیاطی سے بیسن بے کار ہوجاتا ہے اس طرح یو ٹیوب کے استعمال میں غلط چیزوں پر کلک یا یا غلط چیزوں کو دیکھنا اس کی نیکیوں کو ضایع نہ کر دے۰

اپنا تبصرہ بھیجیں