بہترین اجر – بنت شیروانی




باورچی خانہ کے سلیپ پر رکھی چیزیں ایک دوسرے کو دھکا دے رہی تھیں اور ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں مصروف عمل تھیں …..
ہر چیز چاہتی تھی کہ اسے زیادہ جگہ ملے اور وہ سکون سے کھلی جگہ پر موجود رہے ورنہ اس سے پہلے تو اُن کی مالکن صاحبہ اس سلیپ پر انھیں موجود ہی نہ رہنے دیتی تھیں۰ اسی طرح گندے برتن بھی ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے کی ہمہ تن جدوجہد کر رہے تھے اور ہر برتن یہ چاہتا تھا کہ وہ اوپر رہے تاکہ مالکن کے ہاتھ اُسے سب سے پہلے چھوءیں اور وہ انھیں دھو ڈالیں۰اور وہ نکھرے نکھرے نظر آئیں۰ تو دوسری طرف پڑے میلے کپڑے تو لگتا تھا کہ اب چیخ پڑیں گے کہ ہم اب اس گندے کپڑوں کی باسکٹ میں پڑے پڑے بور ہوگۓ ہیں ورنہ تو اس سے پہلے ہم “ہمیں کیوں نکالا”ہی کرتے رہ جاتے تھے۰
اور ہماری مالکن ہمیں اس باسکٹ میں مزے کرنے کا کم ہی موقع فراہم کرتی تھیں۰ اور وہ دھبوں والا فرش تو بہانے بہانے سے اپنے اوپر کبھی کسی سے پانی گر والیتا تو کبھی چاۓ کہ اُس کی قسمت جاگ جاۓ اور وہ صاف ستھرا نظر آۓ۰اور تو اور منی اور ببلو نے اپنی امی کو اتنا یاد نہیں کیا جتنا اُن دونوں کے ناخنوں نے اور وہ اپنے اندر میل ڈال کر اپنے کاٹنے کی فریاد کر رہے تھے۰ اور وہ دُھلے کپڑوں کا ڈھیر بھی اپنی اپنی جگہوں پر جانے کے لۓ بے تاب تھے۰اور وہ فریج بھی کبھی کسی چیز کو اپنے اندر سے گرا کر تو کبھی کسی چیز کو باہر انڈیل کر اپنی مالکن کو آوازیں دے رہا تھا اور کہ رہا تھا کہ کہاں ہے وہ شفیق ہستی تو جو مجھے اپنے بچوں کی طرح رگڑا کرتی تھی۰
دراصل بات یہ تھی کہ اُن سب چیزوں کی ایک عدد مالکن آپینڈکس کا آپریشن ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھی۰ آپریشن کرانے کے بعد جب وہ گھر آئ اور آس نے باورچی خانہ کا رُخ کیا تو اُس مالکن کو لگا کہ وہ باورچی خانہ کے برتن اُسے جھک جھک کر سلام کر رہے ہیں …… اور وہ فرش بھی اُس کی یاد میں تڑپ رہا ہے اور سلیپ تو اُس سے ملنے کے لۓ بے تاب ہے اور گندے کپڑوں نے تو باسکٹ سے باہر نکل کر اُس کا استقبال کیا۰ اور وہ مالکن دل میں سوچ رہی تھی کہ اُس نے نہ جانے زندگی میں کتنی بار سُنا تھا کہ “تم دن بھر گھر میں رہ کر کرتی ہی کیا ہو”
لیکن اسے یہ یقین ہو چلا تھا کہ یہ تمام چیزیں اُس کے گزارے چوبیس گھنٹوں کےگواہ ہیں اور اُسے پیدا کرنے والا “رب”یقیناً بہترین اجر سے نوازے گا۰

اپنا تبصرہ بھیجیں