گزر تو یہ رمضان بھی جاۓ گا – بنت شیروانی




“تیل میں ڈوبی چیزوں کے بجاۓ آج ہلکے تیل میں فرائ کٹلس بنا لۓ جائیں….! ”
اس سوچ کا آنا تھا کہ حنا اٹھ کھڑی ہوئ اور آلو کچالوؤں کو اٹھا کر پتیلی میں ڈالنے لگی ۰آلوؤں نے بھی نافرمانی نہیں کی اور پتیلی میں بیٹھنے لگے شاید کہ انھیں اس بات کا احساس تھا کہ حنا کے اچھے کاموں کو کرنے کی خواہش میں باقی افراد اس کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں تو کیا ہوا……ہم آلو کچا لو ہی اس کا ساتھ دیں ،اس کی بات مانیں اور ابلنے لگیں۰اس کے ساتھ ہی حنا نے مرغی نکالی اور اسے بھی ابلنے کے لۓ رکھنے لگی اتنے میں اس نے سوچا “کیا مرغی ڈالنا ضروری ہے؟”کیا مرغی کے بغیر کٹلس نہیں بن سکتے؟؟؟خصوصا دنیا کی بگڑتی معیشت کے پیش نظر ہی اس مرغی کو ڈالنے کے بجاۓ “ہرا دھنیا اور پودینہ “کا استعمال کر لیا جاۓ۰کہ ان دونوں کا ذائقہ بھی مزیدار ہوتا ہے۰اور اس وقت و حالات کے حساب سے نسبتا مرغی سے کم قیمت میں آنے والا ہرا دھنیا ،پودینا بھی کٹلس میں لذت دے سکتا ہے۰
لیکن اس کے گھر والے جو افطاری میں ایک ڈِش کی کمی برداشت نہ کر سکتے تھے اور انھیں مرغی کا ہی ذائقہ عزیز تھا ۰انھیں زبان کا ذائقہ چاھۓ تھا ۰چاہے اس کے لۓ “مرغی کو اپنی جان سے جانا پڑے “یا حنا کو “رمضان کے مہینے میں بھی اپنے فراءض سے غفلت برتنی پڑے “۰ ابلتے آلوؤں نے جب اپنے ابلنے کا اعلان کیا تو حنا نے بھی ان آلوؤں کو چھیلنے کا اعلان کر ڈالا۰اب چھیلے آلوؤں کا کچومر نکالا اور اس میں مصالحہ ڈال دیے ۰اس کے بعد حنا نے ابلی اور ریشہ کی ہوئ مرغی بھی ڈالی۰ اس کے بعد ان آلوؤں کو بیضوی شکل دی ۰اب یہ آلو کچالو “کٹلس” کہلاۓ جانے کے قابل تھے۰ اس کے ساتھ ہی حنا نے ان کٹلس کو فرائ کرنا شروع کیا۰لیکن یہ کیا!!کٹلس تو ٹوٹنے لگے تھے۰اب حنا کو یاد آیا کہ وہ انھیں انڈے میں ڈبونہیں سکی اور نہ ہی ان پر bread crumbs کی کوٹننک کرسکی۰
یہی وجہ تھی کہ کٹلس ٹوٹ رہے تھے۰
اس وقت حنا کو لگا کہ جب حنا کو بھی جب “تم بھی آرام کر لو”،کھانا اچھا بنایا تھا جیسے جملوں میں نہیں ڈبویا جاتا اور اس پر”شاباش “کی کوٹنگ نہیں کی جاتی ….. جب اسے بھی پیار ،محبت کے جملوں میں نہیں ڈبویا جاتا اور “بہت خوب “سے تہہ نہیں لگائ جاتی وہ بھی کٹلس کی طرح ٹوٹنے لگتی ہے۰ کٹلس بھی باریک باریک ذروں میں نئیں ٹوٹا تھا لیکن “شربت میں چینی زیادہ ہونے “یا چھولوں میں چاٹ مصالحہ زیادہ ڈل جانے پر “تمھیں پکانے کا شوق نہیں ،صرف کھانا آتا ہے”یا کچھ کام کرنا ہی سیکھ لو…..
جیسے جملے حنا کو بھی توڑ ڈالتے ہیں۰ اور صحیح اور مکمل کٹلس بنانے کے لۓ انڈے میں ڈبونا اور bread crumbs کی کوٹنگ کرنا ضروری ہے وہیں اسے بھی محبت بھرے جملوں اور اس کی حوصلہ افزائ کی کوٹنگ کی ضرورت ہے۰ اور جس طرح مرغی کے نہ ڈالنے سے کٹلس بن جاتے ہیں اسی طرح افطاری میں ایک یا دو ڈشوں کے کم ہونے سے بھی افطاری ہوجاتی ہے کہ خاتون خانہ بھی کچھ “قرآن پڑھ لے” یا “کوئ اور نفل پڑھ سکے” لیکن اس بات کو سمجھنے کے لۓ اس کی بہن عینی کی جٹھانی بھابی ساجدہ جیسے افراد کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس رمضان کی ساعتوں کی قدروقیمت جانتے ہوں اور اس میں معاون و مددگار ہوں۰
ورنہ گزر تو یہ رمضان بھی جاۓ گا ۰لیکن حنا پر crakes پر جائیں گے ۰کٹلس پر پڑنے والے crakes کی طرح۰

اپنا تبصرہ بھیجیں