جیسے تیرا حکم – محمد عاصم




میٹرک کے پیپرز کے بعد رب نواز کا فاطمیہ کے گھر آنا جانا زیادہ ہو گا ۔ وہ کسی نا کسی بھانے سے کبھی کچھ دینے اور کبھی کچھ لینے آ جاتا۔
وہ دل ہی دل میں فاطمیہ سے پیار کرتا۔ اس کے دل میں فاطمیہ کے لئے بہت عزت اور محبت تھی لیکن فاطمیہ کو اس چیز کی خبر نہیں تھی۔ رب نواز اپنی عبادتوں میں اپنی رب سے اسے مانگتا۔ رب نواز کو فاطمیہ کے چہرہ پر ایک نور سا محسوس ہوتا۔ رب نواز نوکری کے لئے شہر سے باہر چلا گیا۔ اس نے اپنا معمول بنا لیا کے ہر دعا میں اس کے لئے ضرور دعا کرتا۔ اس نے اپنے دل میں اس کی محبت پیدا کر لی۔ آج ۱۴ فروری کا دن تھا، ہر طرف محبت اور پیار کی باتیں ہو رہی تھیں، دوکانیں سرخ رنگ کے پھولوں اور غباروں سے سجھی ہوں تھی اس کا دل بھی چاہ رھا تھا کے اس سے بات کرے،
پھر اس نے رات ۸ بجے اسے فون ملایا اس کا دل دھڑک دھڑک کر رھا تھا کچھ دیر خاموشی کے بعد اس نے کہا میں تم سے پیار کرتا ہوں بس وہ اتنا ہی بول پایا اور خاموش ہو گیا۔ فاطمیہ نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا کہ تم پر بھی اس دن کا خمار چھاڑ گیا ہے۔ رب نواز کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار اور تیز ھو گی ہو اس نے فون کاٹ دیا تھا۔ مگر وہ اب بھی اس کی آواز اور غصے کو اپنے پاس محسوس کر رھا تھا۔ اب دونوں طرف خاموش تھی صرف خاموشی، گہری خاموشی، کون بولے اور کیا بولے۔ بابا صلاح الدین ،رب نواز کی سوسائٹی امانی شاہ میں ہی رہتا ہے ہر وقت درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھے رہتا۔ وہ بابا صلاح الدین کے پاس سے گزرا تو انہوں نے دہمے لہجے میں کہا رب نواز محبت میں اعتراضات نہیں ہوتے، ضد نہیں ہوتی۔ رب نواز حیرت زدہ ہر کر انہیں دیکھنے ۔ بابا صلاح الدین نے کہا بیٹا ابھی وقت نہیں آیا۔ بابا صلاح الدین اگر وہ راضی ہو جائے تو میں ۱۰ روزے رکھوں گا۔
بیٹا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھارا رب ان چیزوں کا محتاج ہے یا اس کو ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس پر راضی ہو جاؤ جس پر وہ راضی ہے، جیسے اس کا حکم ہے۔ لیکن بابا صلاح الدین وہ یہ بھی تو کہتا ہے مجھ سے مانگو ، میں تمھاری سنتا ہوں اور تمہیں عطا کرتا ہوں۔ ہاں باکل ایسے ہی ہے مگر اس کی عطا پر راضی ہو گے تو پھر وہ تمھیں وہ عطا کرے گا جو تم چاہتے ہو۔ رب نواز گھر چلا گیا اور سجدہ میں گر کر توبہ کرنے لگا کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما مجھ سے غلطی ہوگئی میں راضی ہوں خوش ہوں جیسے تیرا حکم۔ رب نواز جب صبح جب اٹھا تو اس کی امی نے اس بتایا کہ بیٹا میں نے تمھارے لئے وہ جو ماما فتح محمد ہیں نہ ان کی بیٹی فاطمیہ کا رشتہ مانگا تھا وہ راضی ہو گے ہیں، رب نواز نے زیرے لب کہ رب نواز کو رب نے نواز دیا ہے۔
ماں جی جیسے آپ کا حکم ، جیسے آپ کی مرضی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں