رمضان اور پرہیزگاری – نرگس زبیر احمد




بیٹا سارہ …..صباحت کو فون کرو ابھی تک آئیں نہیں” صبیحہ بیگم نے جائے نماز رکھتے ہوئے سارہ سے کہا،
“جی امی ابھی کرتی ہوں” سارہ نے فون ملایا تو بیل کی آواز گھر میں ہی گونجی . “اپیا آگئیں” سارہ نے فون بند کرتے ہوئے کہا، “بیٹا تم ہمیشہ دیر سے پہنچتی ہو…… اب دیکھو دوبج چکےصالحہ بہن تین بجے تک پہنچ جائینگی درس کے لئے” صبیحہ بیگم نے کہا”امی گھر میں کچھ کام تھے اور ماسی کو بھی دیر سے بلایا تھا ، وہ گئی میں فوراگئی “. “باجی تو تھیں گھرمیں ماسی کو انکے ذمہ لگادیتیں وہ ہمیشہ دیکھتی تو ہیں” صبیحہ بیگم نے دیر سے آنے پر سرزنش کی. “اوہ امی آئیندہ احتیاط کرونگی ناراض تو مت ہوں کھانا لگوائیں بہت بھوک لگی ہے میں نے ناشتہ ہی نہیں کیا ہے” صباحت نے ماں کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے کہا . “یہ کیوں نہیں کہتیں کہ سونے سے فرصت نہیں ملی……. ایک تم لڑکیاں دن چڑھے تک سوتی ہو پھر کھتی ہوکاروبار ٹھپ ہے . صبح اٹھا کرو نماز کے بعد سویا مت کرواس وقت اللہ کی طرف سےرزق بٹتا ہے وہ وقت ہم سونے میں گنوا دیتے ہیں” صبیحہ بیگم ماں تھیں بیٹی کی رگ رگ سے واقف تھیں۔
“اچھا امی… رمضان کی آمد ہے پھلے جمعہ کو آپ لوگ ہمارے گھر روزہ افطار کرینگے”. “ٹھیک ہے کس کو بلا رہی ہو “صبیحہ بیگم نے پوچھا…..”آپ لوگ وقار بھائی سبین اورافشین کی فیملی تائی امی اور خالہ جان کا سوچا تھا انکو بھی بلاؤں لیکن کیا کروں فیصل نے منع کردیا کھا حالات دیکھو کرونا وائرس کامسلئہ ہے ہوسکتا ہے وہ لوگ نہ آئیں ویسے بھی فیصل کا کاروبار ٹھپ ہے “. صباحت نے تفصیل بتائی” دیکھو بیٹا بہتر یہی ہے کہ تم ابھی سب کو….. افطار پر مت بلائو جب حالات بہتر ہوں تب بلانا عقلمندی یہی ہے. ایک بات اور یاد رکھنا اگر گھر کی خاتون خانہ سلیقے مندی سے کام اور ہر حال میں اللہ کا شکر کرے تو اللہ بہت نوازتا ہے لیکن اگر ہر وقت تنگی کا رونا رویاجائے تو اللہ کو یہ پسند نہیں ہے. دوسری بات یہ کہ جسطرح تم نے پچھلے رمضان کی افطار پارٹی میں بازار سے بے دریغ چیزیں منگا۶یں تھیں اب ایسا مت کرنا زائد چیزوں کو فرج میں رکھو تومزہ بدل جاتا ہے.
پھر پیسے کا بھی ضیاع اپنے شوہر کے حالات اور اپنی چادر دیکھکر پاؤوں پھیلاؤ گی تو کم میں بھی گزارہ ہوجائے گا یہاں تو تم افطار میں سب کچھ بناتی تھیں…… سسرال میں جاکر تم کو کیا ہوگیا اب دیکھو اپنی دیورانی نوین کو اس نے بھی روزہ افطار کر وایا تھا تمام چیزیں گھر میں اور کم تعداد میں بنائیں تھیں کچھ بھی ضائع نھیں ہوئیں” صبیحہ بیگم نے سمجھاتے ہوئے کہا……امی وہ تو کنجوس ہے گن کر چیزیں بناتی ہے میں اس جیسی نہیں ہوں” صباحت نے منہ بنایااس بات پر کہ اسکی ماں اسپردیورانی کو فوقیت دے رہی ہیں. “بیٹا تم غلط سوچ رہی ہو وہ کنجوس نہیں بلکہ سمجھدار اور سگھڑہے بازاری چیزوں کو زیادہ فوکس نھیں کرتی اپنے شوہر کی آمدنی کے حساب سے کام کرتی ہے دکھاوہ اور نمائش سے بہت دور ہے مجھے اس کی یہ بات بیحد پسند ہے” . “امی میں دکھاوہ اور نمائش کرتی ہوں” صباحت نے ناراض لہجے میں کہا……” دیکھو بیٹا اگر آپ کو کو۶ی سچی بات بتا۶ے اور وہ بھی ماں تو سمجھ جا۶و ہم کہیں نہ کہیں غلط ہیں”
تم تو جانتی ہو میں گھر کیسے چلاتی تھی….تین گلک بنائے ہوئے تھے . ایک گلک میں اضافی خرچ دوسرےمیں عید شادی وغیرہ …تیسرے میں ضرورت مندوں اور ماسی وغیرہ کے لئے. تم بھی تو ڈالتی تھیں ان گلک میں عیدی وغیرہ بھول گئیں” . “تمھارے ابو کے د۶ے اور گلک کے پیسوں سے تمام کام آسان ہوجاتے تھے. اللہ کو میانہ روی اور شکر پسند ہے خود سوچو کھانا پکا ہوتا ھے لیکن تم زیادہ تر بازار سے منگواتی ہو”. بلاوجہ اڑانے والے شیطان کے بھا۶ی اوراپنے رب کے ناشکرے ہیں”. “اور بیٹا ترقی کاراز فضول خرچی میں نھیں بلکہ اعتدال پسندی میں ہے”…..اوربردباری اور صبر جیسی صفات ٹھوکریں کھانے اور مشکلات کا سامنا کرنے سے حاصل ہوتی ہیں. خودساختہ اور جھوٹی شان رکھنے والا لوگوں کی نظر میں کبھی مقبول نہیں ہوسکتا…..کوا کبھی مور نہیں بن سکتا. نہ ہی شیر کی کھال میں گیڈر حقیقی شیر بن سکتا ہے- لہذا مسلمان کو چاہیے اللہ تعالی نے جو حیثیت اس کو معاشرہ میں دی ہے اسی پر صابر وشاکر رہتے ہوئے قناعت کی زندگی اختیار کرے- دکھاوے کی شان چند روزہ ہوسکتی ہے ,جو معاشرہ میں بدنامی سبکی ,اور اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے اللہ تعالی ہم سب کے حال پر رحم فرمائے صبیحہ بیگم نے صبا حت کو سمجھایا
“امی اور اپیا آجائیں کھانا کھانے کے لئے تین بجنے والے ہیں صالحہ آنٹی آنے والی ہونگی” سارہ نے بلایا…. صالحہ بیگم کو دیکھ کر سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی…..میں سورہ بقرہ کی آیت 183 پڑھ رہی ہوں جسکا ترجمہ یہ ہے. “اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کردئیےگئے جس طرح تم سے پہلے انبیاءکے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے اس سے توقع ہےکہ تم میں تقوی کی صفت پیدا ہوگی” (البقرہ 183)اب بتائیے روزہ سے ہم کو کیا حاصل ہوا صالحہ باجی نے حاضرین مجلس سے پوچھا ……تقوی یعنی اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا سارہ نے جواب دیا….. رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار ہے, ہر سوچ ہرعمل نیکی کے بیج سے پھوٹ کر پھل پھول لارہا ہوتا ہے ,وہ عمل جس کا بدلہ سات سو تک ہے وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا, غریبوں, مسکینوں یتیموں, کا خیال وہ عمل جسکی کو۶ی حد نہیں رمضان کا روزہ ہے-
پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہوا ہے- جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کئے ہیں- اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں- اور شخص اسکی خیر سے جہنم کے بند کردیےجاتے ہیں-اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں کی رات سے بہتر ہے, جو محروم رہا بس وہ محروم ہی رہ گیا- اسمیں سرکش شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیںنیکیوں کا اجر وثواب بڑھادیا جاتا ہے,
جسکی ہر رات اعلان ہوتاہے اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار پیچھے ہٹ……. محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بندوں کے عمل کے درجے سات درجے پر ہیں- دوعمل تو ایسے ہیں کہ دو چیزوں کو واجب کرتے ہیں…… دوعمل ایسے ہیں کہ ان میں بدلہ عمل کے برابر ملتاہے….. ایک عمل ایساہے جس کے بدلےدس نیکیاں لکھی جاتی ہیں, ایک عمل ایسا ہے جسکے بدلے سات سو نیکیاں لکھی جاتی ھیں, ایک عمل ایسا ہے اس کے ثواب کی حد سوائے اللہ پاک کے کوئی اور نہیں جان سکتا, وہ عمل جس کا بدلہ سات سوتک ہے وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ رنا ہے, اور وہ عمل جس کی کوئی حد نہیں رمضان المبارک کا روزہ ہے…..
رمضان المبارک میں روزے کےساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اسقدر ثواب کا مستحق بنا دیتاہے تو ہمیں اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے. گنجائش نہ ہوتواپنی ذات پرخرچ ہونے والی رقم کو مزید احساس بندگی سے خرچ کریں, اپنی اولاد پر بھی خصوصی نظر کرم ہو, جس طرح اللہ اپنے بندوں پر زیادہ مھربان ہوجاتا ہے نیکی بڑھاتا رہتاہے, نفل کی حوصلہ افزا۶ی فرض کے درجہ میں کی جاتی ہےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلح اللہ علیہ وسلم نے پانچ خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا “میری امت کو رمضان المبارک میں پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو پہلے کسی امت کے حصے میں نہیں آئیں” . روزہ دار کی خوشبو اللہ تعالی کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ محبوب ہے. روزہ دار کے لئے فرشتے انتظار کرتے ہیں حتی کہ وہ روزہ افطار کرے. اللہ تعالی جنت کو مزین کرتےہیں اور فرماتے ہیں میرے نیک بندوں سے عنقریب آزما۶یش ختم ہوگی اور وہ تیرے اندر داخل ہونگے. شیاطین کو بند کردیا جاتاہے وہ عام دنوں کی طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کرسکتے….. رات کے آخری پہرلوگوں کی بخشش کی جاتی ہے (مسند احمد)
احادیث نبوی سے پتہ چلتا ہے جنت کو سال بھر سجایا جاتا ہے, اسلیے ہم کو بھی اسکا استقبال اسکے شایان شان کرنا چائیے – یہ مہینہ زہد وعبادت, اپنی خواہشات پر غلبہ پانے اور نفس کی عنان روکنے, اور اللہ کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں اور خواہشات کو قربان کرنے کامہینہ ہے- تمام اعمال صالحہ میں صرف روزہ ایسا مبارک عمل ہے جس کی جزاء قیامت کے روز اللہ تعالی بنفس نفیس عطا فرمائیں گے-
روزہ گناہوں کی بخشش کازریعہ ہے- تاکہ تم متقی پرہیز گار بن جاؤ- اللہ نے تم کو راہ راست دکھائی ہے اس پر اللہ کی تکبیر وتقدیس کرو-
تاکہ تم اس نزول خیر وبرکت پر اللہ کا شکر ادا کرو- روزہ میں مومن لغور باتوں سے اعراض فحش باتوں سے پرہیز کراتاہے- بھوک وپیاس میں صبر جسمانی وجنسی تقاضوں پر بھی صبر کراتاہے- روزوں کا مقصد تقوی کا حصول ہے ,تقوی دل کاچراغ ہے ,عبادت اس چراغ کا تیل ہے ,تیل ہوگا تو چراغ روشن ہوگا ……اس چراغ کی روشنی باطن کو منور کرتی ہے ,ظاہر کو حسن بخشتی ہے, مضبوط قوت ارادی کے زریعے خواہشات جذبات کو قابو کرلینے کا نام ہی ضبط نفس ہے, اور یہ ضبط نفس ہی اصل میں پرہیز گاری اور تقوی ہے……..
سب لوگ بتایں تقوی کا حصول مشکل تونہیں ہے …..بس یہ کوشش کیجیے گا روزہ میں جھوٹ, غیبت, لڑائی, جھگڑے, گالم گلوچ, بدکلامی چغل خوری, سے پرہیز ضروری ہے….. زبان کی بھی حفاظت کریں گے یہ عزم مصمم کرکے یھاں سے اٹھیں……اللہ ہم سب کو اس رمضان کی خیر وبرکت سمیٹنے والا بنائے, تمام ناگہانی آفات وبلیات سے محفوظ رکھے آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں