آزمائش کی گھڑی _ فلک ناز




ایمان ۔۔۔۔۔ ! جی بابا! بیٹا آسمان کی جانب دیکھو۔ رمضان کا چاند نظر آگیا ؟؟ بابا: نہیں مجھے کہیں بھی دکھاٸی نہیں دے رہا ؟؟
ایمان! آسمان کی جانب دھیان سے دیکھو بیٹا ۔۔۔۔بابا!جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ججججججی مجھے چاند نظر آگیا.. بابا وہ تو بہت چھوٹا سا ہے۔ بادلوں کی اوٹ میں چُھپا ہوا ۔ ایمان: بابا ایک بات پوچھنی ہے؟؟
بابا : جی بولو میری گڑیا۔۔۔
ایمان : بابا رمضان کا چاند نظر آتے ہی ہر جگہ بہت گہما گہمی کا سما ہوتا تھا۔۔۔ مسجدوں سے آوازیں آنے لگتی تھی ۔چار سو رونق ہی رونق نظر آتی تھی۔ہر چہرہ رمضان کی آمد کی خوشی میں کھل اٹھتا تھا ۔سب مل کر خوشیاں مناتے تھے۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔ آج تو جس طرف نگاہ جاۓ ۔ایک خوف ہے سناٹا ہے ایسا کیوں ؟؟
بابا : ایمان ایک وباء پھیلی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس نے تمام ممالک کو اس نے لپیٹ میں کررکھا ہے . حکومت نے لاک ڈاون کردیا ہے ۔ کوئی اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا ۔ مسجدوں میں بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں!!
ایمان : بابا تو پھر ان کا کیا ہوگا جو روز کماتے کھاتے ہیں ؟؟ وہ رکشے والے آنکل جو مجھے روز اسکول چھوڑتے تھے جنہیں آپ کرایہ دیا کرتے ہیں۔۔۔وہ سبزی والے آنکل جن سے آپ روزانہ سبزیاں لیا کرتے تھے ۔۔۔ اب وہ کیسے کمائے گے۔۔ کیا کھائیں گے ؟؟
بابا : ایمان ہماری حکومت بڑی نااہل ہے غریبوں کا سوچ ہی نہیں رہی لیکن اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے اس کا ایک بندہ بھی بھوکا نہیں سوئے گا۔۔
ایمان؛ بابا اس موقع میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے ؟؟
بابا؛ میری پیاری گڑیا اس بابرکت مہینے میں اللہ سے دعا کریں گے اور صبر سے کام لیں گے ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اللَّہ اپنے بندوں سے امتحان بھی لیتا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ قریب ہونا ہے قرآن پاک سے تعلق جوڑنا ہے اپنا ایمان بڑھانا ہے اور صبر و شکر کے ساتھ پاس ہونا ہے !!
ایمان : بابا میں روز اللہ سے دُعا کروں گی جلد از جلد یہ وباء ختم ہوجائے۔۔
بابا : بالکل میری گڑیا اپنی دعاؤں میں سب کو یاد بھی رکھنا ہے آپکو۔۔۔
ایمان سر ہلاتے ہوۓ آسمان کی جانب دیکھنے لگی جیسے اپنے رب سے کہہ رہی ہو کہ آپ راضی ہو جانا ۔۔۔

آزمائش کی گھڑی _ فلک ناز” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں