فاصلہ ضروری ہے – منیزہ نورالعین صدیقی




یوں تو جان سے پیاری امی سے گھنٹوں فون پر بات کرنا معمول کا حصہ ہے۔ اور گاہے بگاہے امی کے گھر کا چکر لگا لینا عام حالات میں فرض اولین۔ اکیلی ہوتی ہیں دل بستگی اور محبت کی نگاہ کی طلب کھینچ لے جاتی ہے مگر اب پیار میں بھی احتیاط لازم ہے۔جتنی محبت ہو فاصلہ اتنا ہی اچھا،ذمہ داریاں اپنی جگہ۔
مجھے امی کو عموما کچھ سامان دینا اور کچھ لینا ہوتا ہوتا ہے۔ برایڈل شاور تو سنتے ہیں لیکن ڈیٹول شاور کا مفہوم اب سمجھ میں آیا ہے۔ سو بتسمہ کے اس عمل سے گزرتے ہوئے سامان پر دو سے تین تہہ تھیلیوں کی چڑھا کر سینیٹائزر سے سامان کو پاک کیا۔ بیٹے کو نصحیت کی کہ آخری تھیلی کو نانی جان کے حوالے ہرگز نہیں کرنا بلکہ بیرونی دروازے کے ساتھ رکھے ڈس بن میں تلف کردینا”سوشل ڈسٹینسں “کی اصطلاح کو بامعنی بنانے پر زور دیا۔ چھو منتر کے سارے اسٹیپ سمجھانے کے بعد گاڑی میں اطمینان سے بیٹھ گئی اور نگاہیں ٹیریس میں جمع دیں۔ہمیشہ کی طرح میری امی جان ٹیرسں تک آگئیں ،منع بھی کرتی ہوں آپ اپنی جگہ بیٹھ کر دعائیں دے دیا کریں، لیکن پھر بھی خداحافظ کہنے ٹیرس تک آہی جاتی ہیں ۔ پتہ نہیں کیوں دونوں جانب جذبات منتشر ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ فاصلہ اتنا تو نہیں پھر بھی۔سو دل میں اشعار خواہ بے ربط ہی سہی ترجمان بن جاتے ہیں۔
میری امی پیاری پیاری
معصوم سی ہیں اور بھولی بھالی
صبح بھی میری بات ہوئی تھی
کل ہی تو ملاقات ہوئی تھی
دور سے لیکن دیکھا تھا ان کو
آنکھیں ان کی پیار بھریں تھیں
سر پہ ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا
چہرہ آدھا چھپا ہوا تھا
سرخی پھر بھی جھلک رہی تھی
سنہری دھوپ میں چمک رہی تھی
آنکھیں میری چار ہوئیں تھیں
محبت سے ہمکنار ہوئیں تھیں
اظہار تشکر جانتی ہوں میں
بن پوچھے پہچانتی ہوں میں
دور سے مجھ کو پیار کیا جب
دل میں نے اپنا ہار دیا تب
آنکھ میں آنسو لب پہ دعائیں
کیسے وہ جذبات بتائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں