قربانی کا جذبہ اور عید – حمیرا عنایت




ماریہ اور ہانیہ کو ہاتھوں میں شاپنگ بیگ تھامے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوۓ دیکھا تو نذیر صاحب غصے سے لال پیلے ہو گۓ۔ لاک ڈاٶن ختم ہونے کی دیر تھی کہ تم لوگوں نے شاپنگ شروع کر دی۔ ایسی بھی کیا نوبت آن پڑی جو اتنی گرمی میں بھی چل دیں۔ تھوڑا صبر کا مظاہرہ کرنا سیکھو۔ کیا ضروری تھا اس عید پر نۓ کپڑے ہی پہنے جاٸیں۔ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا سیکھو۔ وہ دونوں چُپ سادھے بابا کی باتیں سنتی رہیں۔۔کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی مگر خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔۔۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _
چند روز قبل ماریہ نے کال کر کے اپنی سہیلیوں کو اپنے گھر مدعو کیا تاکہ آگے کا لاٸحہ عمل طے کیا جا سکے ۔ دراصل دونوں بہنوں نے اس بار کورونا اور لاک ڈاٶن کی وجہ سے موجوہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوۓ دوسروں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے اور ان کی مدد کرنے کا سوچا۔ اس نیک کام کا ذکر اپنی سہیلوں سے کیا تو سب متفق ہو گٸیں اور خوشی خوشی مدد کرنے کی ہامی بھر لی۔۔باقاعدہ طور پر کام شروع کرنے کے لۓ سب کی راۓ لی گٸ اور یہ طے پایا کہ سب اپنی جمع پونجی یا خریداری کے لۓ ملنے والے پیسے جمع کرواٸیں تاکہ اُسی کے مطابق کپڑوں اور باقی چیزوں کی لسٹ بناٸی جاۓ۔۔اپنے گھروں میں پہلے سے موجود کپڑے یا جیولری وغیرہ جو اب تک استعمال میں نہیں لاٸی گٸ انہیں بھی جمع کیا جاۓ ۔۔۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _
چلو اب جلدی سے یہ برتن سمیٹ کر نماز پڑھو ۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور کام زیادہ ہے ۔۔ماریہ نے سب کو ہدایت دیتے ہوۓ کہا ۔۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گھروں سے لاۓ گۓ سامان کو دیکھا گیا ۔سب نے اپنی استطاعت کے مطابق پیسے بھی جمع کرواۓ ۔۔۔
یہ تو اچھی خاصی رقم جمع ہو گٸ ۔۔ماریہ نے خوشی سے کہا ۔۔ ہاں۔۔۔۔۔اور ان شاء اللہ ہم ان پیسوں سے مزید کپڑے خرید کر غریب لوگوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔فاریہ کی بات سُن کر چہروں پر مسکان سجاۓ سب نے بیک وقت ان شاء اللہ کہا ۔۔۔ دونوں کمرے میں داخل ہوٸیں ۔شاپنگ بیگ صوفے پر رکھتے ہی گھڑی پر نگاہ پڑی تو یک دم نماز کی اداٸیگی کا خیال آیا ۔۔ بغیر وقت ضاٸع کٸے ،نماز ادا کی گٸ ۔۔ ”ماریہ دعا میں کیا مانگ رہی ہو۔جلدی کرو۔ان چیزں کو پیک بھی کرنا ہے “ ہانیہ یہ سنتے ہی جاۓ نماز سے اٹھی اور فکرمند انداز میں کہا ۔۔۔”آپیہ ۔۔۔میں اپنے رب سے یہ دعا مانگ رہی تھی کہ وہ ہمارے اس کام کو قبول فرماۓ اور ہم سے راضی ہو جاۓ “۔۔ ماریہ نے تسلی دیتے ہوۓ فوراً کہا ۔۔”ان شاء اللہ ….. ! بس اپنی نیتوں کو خالص کر لو کہ اس کام کا مقصد صرف اُسی کی رضا ہے“۔۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
سب کو کال کر دی تھی نا ۔۔۔۔ ہانیہ کی امی نے افطاری بناتے ہوۓ کہا ۔۔۔ جی امی ، سب سہیلیاں وقت پر آ جاٸیں گی ۔۔آپ اتنا تکلف نا کریں۔ بس دعا کریں ہم اس مقصد میں کامیاب ہو جاٸیں۔۔ میری دعاٸیں تمہارے ساتھ ہیں۔۔اب جاٶ ۔۔مجھے اپنا کام کرنے دو ۔۔میں اکیلی سب سنبھال لوں گی ۔۔امی نے ہانیہ کو کام میں ہاتھ بٹاتے دیکھا تو اسے ٹوکا۔ تھوڑی دیر بعد سب نے آتے ہی پیکنگ کا کام شروع کر دیا اور ساتھ میں ان کی لسٹ بھی بناٸی گٸ جن لوگوں تک یہ عید کے تحفے پہنچانے تھے ۔۔ افطاری کرنے کے بعد چاۓ پیتے ہوۓ سب کے چہروں پر خوشی کی ایک نٸ چمک نظر آٸی۔ دوسروں کی مدد کر کے جو خوشی اور قلبی سکون ملتا ہے ۔اس کا اندازہ انہیں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں چمک اور چہرے کے پرُ سکون تاثرات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ آٸندہ بھی اس کام کو جاری رکھتے ہوۓ دوسروں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا عہد کر چکی ہیں ۔۔۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ٹھک ٹھککککککک ……. دروازے پر دستک ہوٸی۔ محمودہ۔۔۔دروازے پر ستک دی جا رہی ہے ۔۔آ کر دیکھ لیجٸیے۔۔۔۔نذیر صاحب نے(قرآن کی تلاوت فرماتے ہوۓ) اپنی بیگم محمودہ کو آواز لگاٸی۔۔۔۔۔وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے اپنے والد محترم پر نگاہ پڑتے ہی وہ دونوں سمجھ گٸیں ڈانٹ پڑنے کا سو فیصد امکان ہے مگر خلافِ توقع وہ تلاوتِ قرآن میں مصروف رہے اور وہ چُپ چاپ کمرے کی جانب بڑھیں۔ شکر الحَمْدُ ِلله۔۔۔ ہمارا مقصد خیر و عافیت کے ساتھ پورا ہو گیا۔ سخت گرمی کے باوجود ہمت و حوصلے پست نہیں ہوۓ اور سارے تحاٸف ضرورت مندوں میں تقسیم بھی کر دیٸے۔ ماریہ(جو تھکن سے چور ہو چکی تھی) امی کی گود میں سر رکھتے ہی آج کی سرگرمی کے حوالے سے بتانے لگی…… یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ جب بندہ اُس کی رضا کے لۓ نکلتا ہے تو ہمت و استقامت عطإ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی محبت اور انعام سے بھی نوازتا ہے ۔ مجھے یقین ہے وہ تحاٸف تقسیم کرتے ہوۓ تم سب کو اپنی قربانی ان کے چہروں پر سجاٸی گٸ مسکان سے کم لگی ہونگی۔۔ ماریہ نے فوراً اِس بات کی تردید میں سر ہلایا۔۔جس کو دیکھ کر اُن کا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔۔تمہاری الماری میں گفٹ رکھے ہیں۔ تمہارے بابا نے تاکید کی ہے کہ اس کو عید والے دن کھولا جاۓ۔۔ یہ کہتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گٸیں۔۔امی کی بات سنتے ہی دونوں نے خوشی و حیرت کے ملے جُلے تاثرات کے ساتھ ایک دوسرے کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں کہ بابا نے اس بار عید کی خوشی دوبالا کر دی۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں