لاک ڈاؤن والی عید – عائشہ اختر




ہم ہر سال کی طرح اس سال بھی عید والے دن صبح سویرے اٹھے۔ اماں نے ہماری ضد پر ہمیں پیٹی سے کوئی سوٹ نکال کر سلوا دیا تھا۔ لیکن باقی کچھ نہ آیا تھا……. جب ہم نے بہت ضد کی چوڑیاں اور جوتوں کی کہ ہم آن لائن منگوا لیتے ہیں، تو اماں سے ایک ہی چیز ملی۔۔۔ جی جی۔۔ وہی جو آپ سوچ رہے ہیں۔ اماں کی اُڑتی ہوئی چپل۔۔۔
خیر …… ماشاء اللہ سے عزت بھی بہت ہے۔ جی اسی لئے اگلے تین دن تک ہماری عزت افزائی ہوئی۔ چاند رات کو جب مہندی کا دل کیا تو اٹھائی مہندی اور خود ہی ہاتھ پر لگانا شروع کردی ۔ بہت ہی خوبصورتی سے لگا رہے تھے ہم لیکن پتا نہیں وہ کیا بن گیا۔ خیر شوق کے ہاتھوں مر کے اسی پر گزارا کرنے کا سوچا۔ اب ہم ہاتھ سیدھا رکھ کر اُسے اکڑا کر بیٹھ گئے، ساتھ میں کرونا کو بھی برا بھلا کہنا مشغلہ سا بنا لیا۔۔۔ خیر جب تین گھنٹے بعد ہاتھ بھی تھک گیا اور کرونا کو بُرا بھلا کہنے کے لئے الفاظ بھی ختم ہوگئے تو اٹھے اور مہندی دھو لی۔۔۔ لیکن جب دھوئی تو اور بھی بُرا ہوا کیونکہ مہندی کا رنگ ہی نہیں چڑھا تھا۔ ہمیں اپنے پچھلے تین گھنٹے کی محنت کا سوچ کر ہی رونا آرہا تھا۔ روتے روتے ہی ہم پہنچ گئے بھائی کے سر پر کہ کیسی مہندی لائے ہو تو اس کا جواب سن کر ہمارا دماغ گھوم گیا۔۔۔ وہ مہندی ساتھ والی صدا کی کنجوس بشریٰ خالہ کے گھر سے اٹھا لایا تھا، جو شاید انھوں نے پچھلی عید پر خریدی تھی۔
اب ہونا کیا تھا ہمارے ہاتھ میں صوفے کی گدی تھی اور ہم بھائی کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے جبکہ وہ آگے آگے۔ لیکن جب ہمیں دور سے ابا دکھائی دیئے تو ہم نے فوراً گدی رکھی اور آرام سے بیٹھ کے ابا کے جانے کا انتظار کرنے لگے، تاکہ اچھے سے چھترول کر سکیں۔ لیکن شاید ابا بھی ارادہ کر کے آئے تھے کہ یہاں ہی بیٹھنا ہے۔ خیر ہماری دعاؤں سے ابا دس منٹ میں ہی اٹھ کر چلے گئے۔ اور پھر ہم نے دوبارہ گدی اٹھا لی۔ لیکن اس کے بار بار کہنے ہر اس کی بات سننے پر تیار ہوگئے. “کہیں سے نہیں ملی۔ کوئی دکان ہی نہیں کھلی تھی۔ اب کہیں دور جاتا اور پولیس کے ہاتھ آجاتا۔۔۔ نا بابا نا۔۔۔ مجھے اپنے بال بہت پیارے ہیں۔ مجھے ٹنڈ کرانے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔” اس کے کہنے پر ہم نے اسے یاد دلایا کہ گلی کے کونے والی بشیر چاچا کی دوکان کھلی ہے۔ لیکن اس کا کہنا تھا کہ ان سے نہیں ملی اور راستہ میں اسے بشریٰ خالہ مل گئیں تو بس ان سے لے آیا۔۔۔ اب ہم اُٹھے اور کل لایا گیا فیشل کا ساشے اٹھا کر شروع ہوگئے۔
ساتھ ہی ساتھ کرونا کو برا بھلا کہنے کا مشغلہ بھی جاری تھا لیکن اب ساتھ میں بشرا خالہ کی کنجوسی کو رونے کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ خیر فیشل سے ابھی فارغ ہوئے نہیں تھے کہ امی کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔ ”افطاری کے بعد سے سنگھار کرنے بیٹھی ہو، ایک رات میں خوبصورت نہیں ہوجاؤگی۔۔۔ باورچی خانے میں تشریف کا ٹوکرا لے آؤ۔ میں کب سے لگی ہوں۔ کسی کو احساس ہی نہیں ہے۔“ پھر ہم اور ایسے ہی پانچ سے چار منٹ تک لگی رہے۔ پھر اٹھے، منہ دھویا اور باورچی خانے میں تشریف کا ٹوکرا لے گئے۔۔۔ اب اماں نے شامی کباب کو پکنے رکھا ہوا تھا۔ شیر خورما بنا کر وہ فریج میں رکھ چکی تھیں اور باربی۔کیو کے لئے چکن نکال چکی تھیں اور ہمارے زمے کا کام سن کے ہمارا سر ایسا گھوما کہ ہم گرتے گرتے بچے۔ اماں اپنی سنا کر جاچکی تھیں۔ پہلے پانچ منٹ تو ہم سوچتے ہی رہ گئے کہاں سے شروع کریں۔ شامی کباب کی دال اور چکن پکنے والا تھا تو ان کو ملا کر بنانا تھا، دوسری طرف چکن کو مصالحہ لگانا تھا، بس یہی نہیں پورا باورچی خانہ ہی بکھرا پڑا تھا۔
ایک بھی چیز جگہ پر نہیں تھی، اور دھونے والے برتنوں کا اس سے بھی زیادہ ڈھیر لگا ہوا تھا۔ افطار سے اب تک کے سارے برتن پڑے تھے۔ آخر پانچ منٹ بعد ہم نے سوچا پُھڑتی پکڑتے ہیں اور کام شروع کرتے ہیں۔ ہم نے دوپٹہ باندھا اور باربی۔کیو کے لئے چکن کو مصالحہ لگایا۔ اس کے بعد چولہا بند کیا اور برتن دھونے بیٹھنے ہی لگے تھے کہ اماں کی آواز پھر سے آئی۔ ہم بڑے رعب سے گئے، لیکن کمرے میں داخل ہونے سے پہلے بھیگی بلی بن گئے۔ اندر داخل ہوئے تو اماں اے۔سی چلا کر اپنے بستر پر پُرسکون ہو کر بیٹھی تھیں ہم نے بڑی محبت سے کہا۔ “جی اماں؟۔۔۔” اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ لیکن اماں کہاں دیکھ سکتی تھیں ہمیں بیٹھا ہوا۔ انہوں نے تو الٹا کام ہی زیادہ کیا تھا۔
“تمہیں کہا تھا کہ چکن کو مصالحہ لگاؤ فرائی کرنے کے لئے۔۔۔ اور یہاں کہاں بیٹھ رہی ہو جا کر کام کرو۔“ اس وقت ہمیں شدید قسم کا احساس ہوا کہ شاید بھائی صحیح کہتے ہیں کہ امی نے ہمیں کچرے سے اٹھایا تھا۔ خیر کوئی اور چارا نہ تھا۔۔ تو اٹھے اور کچن میں چلے گئے۔۔۔ اور چکن فرج سے نکال کر برتن مانجھنے بیٹھ گئے ساتھ ہی ساتھ کرونا کو برا بھلا کہنا جاری رکھا، اور سوچتے رہے ہر سال کتنا مزا آتا تھا، اور اس سال۔۔۔
خیر کچھ دیر بعد جب برتن دھل گئے تو شامی کباب بنائے اور ساتھ میں چکن کو مصالحہ لگایا۔۔۔ سب کچھ تیار کر کے ہم نے باورچی خانہ صاف کیا اور جا کر لیٹ گئے۔ اب صبح سویرے اٹھ کر نیا جوڑا پہنا، تیار ہوئے، اور اماں ابا کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ ” اماں عیدی؟۔۔۔“ آگے سے اماں کا جواب تو سنیں۔۔۔ ”عیدی چھوڑ، کچن میں جا اور بریانی بنا۔ تیری خالہ آرہیں ہیں“ . یہاں آ کر ہمیں پکا یقین ہوگیا کہ ہم یا تو سوتیلے ہیں یا پکا کچرے سے اُٹھائے گئے ہیں۔۔۔ خیر خالہ کی آمد کا سن کر تھوڑا خوش ہوئے۔ ابھی ہم کچن میں گئے ہی تھے کہ خالہ لوگ آگئے تو بھابی اور خالہ کی بیٹی نگین بھی اندر باورچی خانے میں آگئے۔ بھابی شامی کباب تلنے لگ گئیں، نگین چکن اور ہم بریانی بنانے۔۔۔ جلدی ہی سارا کام ہوگیا۔۔۔ کھانے کے بعد ہم نے خالہ سے لاڈ کرنا شروع کر دیے۔”خالہ یہ بھی کیسی عید جس میں انسان اپنے ہی گھر میں قید ہو جائے؟ ہماری بات پہ خالہ پیار سے بولیں کہ اُن کے ساتھ آجاؤں تو ہم خالہ کے ساتھ ان کی طرف آگئے۔ نگین میں نے اور بھابی نے لُڈو کھیلی پھر بھابی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دوپہر کا وقت تھا، ہم اور نگین بور ہورہے تھے۔ ہم گئے خالہ کے پاس اور پوچھا۔
”خالہ جو بھابی نے کھیر بنائی ہے۔ وہ پڑوس میں دے آئیں؟۔۔۔۔“. ”ہاں! بچو جاؤ دے آؤ۔۔۔“ ہم دونوں نے اپنا بناؤ سنگھار ٹھیک کیا، کھیر کا پیالہ لیا اور نکل پڑے۔ خالہ لوگ کچھ عرصہ پہلے ہی یہاں منتقل ہوئے تھے تو نگین کو بھی یہاں کسی کا خاص پتا نہیں تھا۔ ہم پہلے گھر گئے۔ بیل دی۔ کچھ دیر بعد ایک انکل نے دروازہ کھولا۔ ” ہم ساتھ والے گھر سے آئے ہیں۔ یہ کھیر دینے۔“ ان کے کہنے پہ ہم اندر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ملازمہ آئی اور ہمیں بوتل پیش کی۔ ابھی ہم نے ایک گھونٹ ہی لیا تھا کہ اندر ایک کھانستی، چھینکتی آنٹی داخل ہوئیں۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فوراً کھڑے ہوئے۔ جلدی جلدی معزرت کر کے گھر پہنچے۔ راستے میں ہم دونوں سوچتے رہے اگر انھیں کرونا ہوا تو۔۔۔۔ خیر ہم گھر آتے ہی فوراً نہائے۔ سارا دن ہم دونوں ایک دوسرے کا بخار دیکھتے رہے۔ ہم خالہ کے گھر ہی رات رک گئے۔ اگلے دن صبح تک جب ہم دونوں کو بخار نا چڑھا تو ہم نے یہ بات اپنے زہن نشین کرلی کہ آنٹی کو ویسے ہی کھانسی لگی ہوگی۔ آج پھر دوپہر میں ہم دونوں کھیر لے کر نکلے۔ آج ہم دوسرے گھر گئے، بیل دینے کے بعد ہمیں لگا یہ گھر تو بہت ڈراؤنا ہے۔ ہم نے سوچا نکل لیتے ہیں لیکن ساتھ ہی دروازہ کھل گیا۔ ایک لڑکے نے کھولا، وہ ہمیں عجیب طریقے سے گھور رہا تھا اور اس کی آنکھیں لال انگارے کی طرح لگ رہی تھی۔ ہم نے کھیر کا پیالہ پکڑایا اور بھاگنے کی کی۔
لیکن پیچھے ہوتے ہوئے ہمارا پاؤں کسی نرم چیز پر آیا۔ اور جب ہم نے وہ چیز دیکھی تو ہم نا ادھر کے رہے نا ادھر کے، جی جی یہ وہی چیز تھی، جو آپ سوچ رہے ہیں۔ ایک عدد سویا ہوا بھیڑیا نما کتا۔۔۔۔ اب ہوا کچھ یوں کہ کتا پیچھے پیچھے اور ہم سجی سنوری لڑکیاں آگے آگے۔۔۔ اور یوں گزری کرونا اور لاک ڈاؤن والی ہماری میٹھی عید۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں