روٹین کے کام – بنت شیروانی




مارچ کا مہینہ تھا …… نہ گرمی اپنی آب و تاب کو ظاہر کرتی اور نہ ہی سردی عروج پر تھی . معتدل موسم تھا اور زندگی کے ماہ سال آسانی سے چل رہے تھے.
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے …….. زندگی یونہی تمام ہوتی ہے
کے مصداق وقت گزرے جارہا تھا کہ اسی کے ایک روز زاہدہ نے صبح ہی ہانڈی چڑھا کر شاہدہ کی خیر خیریت دریافت کرنے کے لۓ فون گھما ڈالا……. سلام دعا کے بعد باتوں کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لۓ زاہدہ نے پوچھا اور بھئ کیا چل رہا ہے آج کل؟ اس سوال کا کرنا تھا کہ شاہدہ کو لگا کسی نے اُس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو…… شاہدہ کہنے لگی کیا چلنا ہے!!!!!وہی “روٹین کے کام”…… صبح آنکھ کھلتے ہی باورچی خانہ میں بھاگنا کہ کبھی اوون کو پری ہیٹ کرنا ہے تو کبھی انڈوں کو ابلنے رکھنا ہے۰بچوں کے فرمائشی پروگرام بھی تو پورے کرنے ہوتے ہیں۰لنچ میں انھیں ایک دن فرنچ ٹوسٹ لے کر جانا ہے تو دوسرے دن پزا بنا دیں۰پھر تیسرے دن کے لۓ مائیکرونی کھانی ہے تو چوتھے دن سینڈ وچ بنادیں اور پانچویں دن تو کباب پراٹھا یا میٹھا پراٹھا لے جاتے ہیں .میں تو کہتی ہوں شکر ہے کہ ہفتے میں دو دن چھٹی ہوتی ہے
ورنہ شاید چھٹے دن تو میں خود ہی بچوں کے اسکول چلی جایا کرتی کہ بچوں (آج مجھے ہی کھا لینا۰آج میں کچھ نہ بنا سکی ہوں)۰اور لنچ بنا کر بچوں کو تیار کر کے اسکول بھیجنا…… ابھی بچوں کو اسکول بھیجو تو بچوں کے ابا دفتر جانے کے لۓ تیار۰اُن کے لۓ ناشتہ پانی تو ساتھ میں ساس سسر کو بھی دلیہ یا ساگودانہ دینا. اس کے بعد دو گھڑی آرام کر کے گھر کے کاموں میں جُت جاؤ۰یار یہ بھی کوئ عورت کی زندگی ہے۰میں تو اکتا گئ ہوں اس زندگی سے….. کچھ سنسنی ہونی چاھۓ . اسی لۓ سوچ رہی ہوں کوئی جاب کر لوں….. شاہدہ سانس لینے کے لۓ رُکی تو زاہدہ نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ کہ ویک اینڈ پر کیا کرتی ہو؟ ارے ویک اینڈ تو مت پوچھو وہ تو عام دنوں سے بھی زیادہ مصروف گزرتا ہے۰سب سے پہلے تو سودا سلف لے کر آنا ۰پھر کسی ہفتے بچوں کو پلے لینڈ لے گۓ تو کبھی امی کے گھر چلے گۓ ۰پھر پندرہ دن پر نندیں آتی ہیں تو ساتھ میں کبھی کسی کی شادی بیاہ ،تو بچوں کی پیدائش تو کسی کا میٹرک ،انٹر میں پاس ہونے پر دینا دلا نا۰یہ سب بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے تو ویک اینڈ پر یہ دینے دلانے والی چیز وں کی خریداری کے لۓ بازاروں کے چکر لگانا۰اور پھر دکانداروں سے مغز ماری ۰
نہ پوچھو یار بس وہی ایک سی روٹین ہے۰ اور زاہدہ نے سالن کے جلنے کی بدبو آنے پر فون بند کیا کہ ابھی اس “وہی روٹین کے کام“کے موضوع پر مزید جملے سننے پر مزید کھانا پکانا پڑتا پیر کا دن تھا۰عشرت نے کپڑے دھونے شروع کۓ ابھی مشین کا ایک چکر ہی ہوا تھا کہ بجلی چلی گئ۰عشرت نے سوچا یہ بجلی تو نہ جانے کتنی دیر میں آۓ ۰میں ذرا دیر پڑوسن ناھید سے سلام دعا کر لوں ۰کہ دیوار سے دیور ملی ہے گھر کی لیکن ہفتوں ہوجاتے ہیں ایک دوسرے کی شکل دیکھے۰ابھی ناھید کا دروازہ بجایا ہی تھا کہ لمحہ بھر میں ناھید کے پانچ سالہ بیٹے وقاص نے دروازہ کھول ڈالا ۰جیسے وہ منتظر ہو کہ دروازہ بجے اور وہ باہر نکلے ۰شاید کہ (ہر چھوٹے بچے کو باہر جانے کا اتنا ہی شوق ہوتا ہے)۰دروازہ کھلنے کی دیر تھی کہ وقاص عشرت کے گھر جانے کے لۓ دوڑا۰اتنے میں پیچھے سے ناھید آئی ۰ دروازے پر ہی پوچھ لیا کہ ہاں عشرت سب خیریت ہے کیسے آنا ہوا؟
عشرت سمجھ رہی تھی کہ ناھید اسے اندر بٹھانے کے لۓ کہے گی لیکن ناھید کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ بہت جلدی میں ہے لہاذا عشرت نے بھی بس خیر خیریت پوچھی کہ ہفتوں ہوۓ ہم ملے نہیں تو سوچا کچھ حال چال پوچھے جاءیں ۰عشرت کا اتنا کہنے کی دیر تھی کہ ناھید تو شاید پھٹ پڑی۰بہن کیا حال بتاؤں ۲ دیوروں کی شادی سر پر کھڑی ہے۰بازاروں کے چکر لگا لگا کر پاؤں سوج گۓ ہیں۰پھر امریکہ سے ایک نند آرہی ہے تو کینیڈا سے دوسری۰ان دونوں کی بھی شاپنگ کرنی ہے۰کہ ایک تین سال بعد آرہی ہے تو دوسری کو سات سال ہوگۓ۰ ہماری شادیوں کا تو تمھیں معلوم ہے۰بس اسی شادیوں کی “روٹین “کی تیاری چل رہی ہے۰ عشرت نے شادیوں روٹین کی تیاریوں کی روداد سُن کر دروازے سے ہی خدا حافظ کیا ۰اور اپنے گھر آئی …..نورین اپنی بھابی کے گھر جمعہ کے دن گئ تو بھابی سلام دُعا کے بعد بھائ صاحب کے کلف لگے کپڑوں پر استری کرنے میں جُت گئیں تو ۰نورین نے کہا بھابی کیا بھائ کو کہیں جانا ہے؟؟؟
بھابی نے تیزی سے کپڑوں پر استری پھیرتے ہوۓ کہا۰ہاں جمعہ پڑھنے جاءیں گے میرا تو “روٹین “ہے کہ جمعرات کے دن ہی تمھارے بھائ کے کپڑوں پر کلف لگا دیتی ہوں اور جمعہ کے دن خوب پانی لگا لگا کر استری کرتی ہوں۰۰آخر کو جمعہ پڑھنے جو جانا ہوتا ہے۰
اور آج یہ تمام خواتین پریشان تھیں بچوں کے اسکول نہ جانے پر،شادی سر پر کھڑی ہونے کے باوجود بازاروں کے ہی بند ہونے پر، مردوں کے مساجد میں جمعہ نہ پڑھنے جانے پراور شاہدہ کا تو ان حالات میں خود جاب کرنے کا سوچ کر کہ وہ بچوں کو کہاں چھوڑا کرے گی؟؟؟تو باقی خواتین کا نت نئ کھانوں کی ترکیبوں کو نہ آزمانے پرکہ وہ تو انھیں روٹین کے کام سمجھ بیٹھی تھیں۰جب کہ وہ تو ……رب کی رحمتیں تھیں ان پر۰

اپنا تبصرہ بھیجیں