دورہ قرآن اور ہم (آخری حصہ) – فرحت طاہر




2000 ء اور 2001ء میں ابا کے ساتھ شیخ زید سنٹر میں تراویح یا پهر کبهی کبهی بڑے بهائی کی فیملی کے ساتھ فاران کلب میں تنظیم اسلامی کے دورہ قرآن میں شرکت رہی ……اگرچہ باقاعدگی نہ سہی مگر پهر بهی کچھ نہ کچھ تسکین ہوتی رہی . 2002 ء کے رمضان ابا جان بیمار تهے .زیادہ تر وقت ہسپتالوں کے چکر میں گزرا لہذا قرآن سے سیرابی ممکن نہ ہوسکی.
2003 ء میں سٹی گورمنٹ کے تحت عائشہ منزل پر اسلامک سنٹر کا افتتاح ہوتے ہی دورہ قرآن کا آغاز ہوگیا ……. یہاں بهی مولانا عطا الرحمان صاحب تفسیر قرآن کروارہے تهے. حالانکہ وہاں پہنچنا کار دراز تها مگر پهر بهی نیت کی بدولت اللہ نے مدد فراہم کردی کہ نعمت اللہ خان کے دور میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہت بہتر تها. ایک بس کے ذریعے بآسانی پہنچ جاتی .اپنے دور معلمی میں اس علاقے سے واقفیت نے کوئی مشکل نہ ہونے دی..واپسی البتہ دو بسوں سے ہوتی مگر اس میں بهی یہ فائدہ ہوتا کہ بازار کے سامنے سے بس ملتی اور یوں عید کی خریداری بهی آسان ہوگئی. چونکہ سٹی سنڑ کا افتتاح آمد رمضان کے باعث بہت جلدی میں ہوا تها لہذا آڈیٹوریم میں کرسیاں تک نہ لگی تهیں . ہم سیڑهیوں پر بچهی دریوں پر بہت آرام سے دورہ قرآن سے مستفید ہوتے. یہاں اپنے بہت سے سابقہ کولیگز اور شاگردوں سے ملاقات بهی خوشی کا باعث بنی.
اگلے سال یعنی 2004 ء میں بهی یہ ہی پریکٹس رہی مگر افسوس 2005 ء میں ایم کیو ایم کی حکومت ہونے کے باعث یہ سعادت ختم کر کے اس سنٹر کی نوعیت بدل دی گئی .(بد بختی کا ایک اور ٹیکا ان کے ماتهے پر لگ گیا ) اس کے علاوہ نئی قیادت نے شہر میں کهدائی کا ایسا طوفان مچایا کہ سفر کرنا مشکل ترین ہوگیا . اور یوں 2005 ء اور 2006ء الہدی کے تحت گلشن اقبال میں ہونے والے دورہ قرآن میں شرکت کر کے پیاس بجهائی. 2007 ء میں ہمارا علاقہ خاصہ آباد ہوگیا تها جماعت کی خواتین اور حلقہ سے رابطہ ہونے کے باعث دورہ قرآن اور تراویح کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا . یہاں محض سامع نہیں بلکہ اس میں حصہ لینا پڑتا تها.یوں دلچسپی برقرار رہتی .نیز سماجی ضروریات بهی مقامی سطح پر پوری ہونے لگیں .یہ سلسلہ یوں ہی چل پڑا تها. 2013 ء میں عام انتخابات کے دوران بہت سی نوجوان خواتین سے رابطہ ہوا جس کے بعدفورا ہی رمضان شروع ہوگئے .تو انہیں دورہ قرآن کروانے کے لیے ہم سے اصرار ہوا .ہم نے قبول کر لی اگرچہ وہ ہمارے گهر سے ذرا فاصلے پر تها .بہت محنت سے تیاری کرتے ہوئے دورہ قرآن کروایا.سب نے بہت پسند کیا .اس کے بعد ان ہی خواتین کے لیے الگ سے پروگرامز کروائے اور انہیں نظم کا حصہ بنانے کی کوشش کی.
2015 ء کے رمضان ہیٹ اسٹروک کا سامنا! ایک نوجوان خاتون نے قرآن انسٹی ٹیوٹ سے دورہ قرآن کرنے کا ارادہ کیا اور ہمیں اپنے ساتھ چلنے کی آفرکی جو ہمیں بہت اچهی لگی …… دو دن ہی گزرے تهے کہ حلقہ کی ناظمہ نے ایک نئے گروپ کو دورہ قرآن کروانے کی درخواست کی جو ہم نے قبول کر لی .یہ ہمارے گهر سے قریب بالکل نئے افراد تهے .ایک دفعہ پهر نئی امنگ کے ساتھ قرآن سے جوڑنے کی کوشش کی الحمدللہ بہت ہی اچها تعلق بن گیا جو ابهی تک قائم ہے حالانکہ اکثر شادی کے بعد یا پهر ویسے ہی محلہ چهوڑ کر جاچکے ہیں
.نئے افراد کے ساتھ کروانے کا فائدہ ہمیں اس وقت بہت اچها محسوس ہوا جب ان میں سے کئی نے خانگی معاملات سے آگہی کے بعد درستگی کی .مثلا نکاح میں مہر کو عورت کا حق جاننا. وغیرہ . 2016 ء ہم نے گهر اور قریبی افراد کے ساتھ اجتماعی قرآن پڑها. 2017 سے 2019 ء تک انتظامی ذمہ داریوں کے باعث کسی ایک جگہ دورہ قرآن کروانا ہمارے لیے ممکن نہ تها مگر پهر بهی 2018ء میں ایک پوائنٹ بہت اچها ملا جو بعد ازاں نئے حلقے میں تبدیل ہوگیا ماشاء اللہ!
اب 2020 ء میں دورہ قرآن کی منصوبہ بندی سے پہلے ہی لاک ڈاون شروع ہوگیا تها. تو آن لائن دورہ قرآن کے شئڈول سامنے آگئے. الحمداللہ ہمارا نظم شروع سے ہی اس پر کام کر رہا ہے . میڈیا سے دابستہ ہونے کے باعث ابتدا سے ہی اس کا حصہ رہی تهی جب 10 / 12 سال پہلے آن لائن دورہ قرآن کا ٹرائل ورژن شروع ہوا جب ریکارڈنگ دو دن بعد اپ لوڈ ہوتی تهی اس لیے آن لائن لینا ضروری تها! صبح اس سے مستفید ہوتے اور پهر اپنے مقامی دورہ قرآن میں اس کی دہرائی کروالیتے. سب سے پہلے ڈاکٹر کوثر فردوس پهر ڈاکٹر رخسانہ جبین …. اور یہ مستقل سلسلہ سال بہ سال بہتر سے بہتر ہوتا گیا . واٹس گروپ عام ہونے کی وجہ سے رسائی بهی آسان ہوگئی .
اس لاک ڈاون میں سب کی توجہ اس طرف ہوئی توخوب پذیرائ مل گئی. دورہ تفسیر، خلاصہ قرآن ، منتخب سورتیں اور نوجوانوں کے لیے علیحدہ پروگرامز! سب کچه موبائل کی ایک کلک پر موجود ہے …

اپنا تبصرہ بھیجیں