احساس ندامت – بنت شیروانی




حمیرہ اسٹور کی صفائی میں مصروف تھی کہ سردی کے کپڑوں کو اٹیچیوں میں فنائل کی گولیاں ڈال کر رکھ دے……اور ساتھ ہی ان اٹیچیوں میں سے اچھے آنے جانے والے کپڑے بھی نکال لے کہ جنھیں وہ عید کے موقع پر استعمال میں لے آۓ…..
اس کی ان کاموں میں لگنے کی دیر تھی کہ بچوں کو بھی آزادی مل گئی اور بچے دروازہ بند کر کے کھیلنے میں مصروف ہوگۓ. کپڑوں کو رکھنے کے لۓ اسٹور میں داخل ہوئی تھی …….. اس کام سے فارغ ہوئی تو ساتھ ہی اس کی نظر اسٹور میں ہی رکھے لحافوں اور کمبلوں پر بھی پڑی تو اس نے سوچا چلو لگے ہاتھ ان کو بھی بکسے میں رکھ دے ۰فنائل کی گولیاں اس نے اٹھائیں کہ انھیں بکسے میں ڈالے تو اسے یکدم بچوں کا خیال آیا کہ جن کی طرف سے کافی دیر سے خاموشی تھی. اس نے سوچا شاید بچے موبائل دیکھنے میں لگ گۓ ہیں جو اتنی خاموشی ہے…. لیکن پھر بھی اتنی خاموشی؟؟ کوئی بچہ تو آکر شکایت کرتا کہ امی مجھے یہ گیم کھیلنا ہے یا یہ ویڈیو دیکھنی ہے اور یہ کھیلنے یا دیکھنے نہیں دے رہا۰لیکن کسی بچے کے نہ آنے پر وہ ان گولیوں کو بکسے میں ڈال کر بچوں کے پاس گئی تو بچے سہمے ہوۓ تھے۰لگتا تھا کوئی بات ہوئی ہے۰”خوف …… ندامت ….. دہشت” ان کے چہروں سے عیاں تھی۰
اس نے ماحول کا جائزہ لیتے ہوۓ بچوں سے کہا کہ بچوں آؤ اسٹور کی صفائی کرتےہیں۰یہ سُن کر بچوں نے اسٹور کی صفائی کرنے سے منع کیا اور رونے لگ گۓ….اب تو حمیرہ پریشان ہوگئ کہ آخر معاملہ کیا ہے ….. اس نے بچوں سے دریافت کیا تو بچے کہنے لگے کہ امی…..ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے….. یہ سننا تھا کہ حمیرہ نے فکرمند ی سے کہا ارے میرے بچوں کسی کےچوٹ تو نہیں لگی؟؟ نہیں امی کسی کے چوٹ نہیں لگی بس شیشہ ٹوٹا ہے ،چلو شکر ….. بچے سمجھ رہے تھے کہ آج تو “آئی شامت “…..لیکن بچوں کے”ندامت اور شرمندگی ” کے احساس نے حمیرہ کو بچوں کو ڈانٹنے اور مارنے سے روکے رکھا۰اور اس وقت حمیرہ دعا کرنے لگی کہ اللہ تعالی پیارے اللہ تعالی اچھے سے اللہ تعالی آپ تو ہمارے ہیں نا ۰ہم آپ کے بندے ہیں نا آپ ہمیں معاف کر دیں۰اللہ تعالی میرے بچوں نے تو یہ بھی نہیں کہا تھا کہ”سوری”۰لیکن میں نے بچوں کے ” ندامت “کے احساس سے کہ بچوں کو ڈریسنگ ٹیبل کے ٹوٹنے کی ندامت ہے تو میں نے بچوں کو معاف کر دیا۰
پیارے اللہ تعالی……! ہم بھی آپ کے آگے نادم ہیں،ہمیں اپنے گناہوں کا احساس ہے۰اللہ تعالی ہم نے یہ بھی گناہ کۓ اور یہ بھی کۓ ۰پیارے اللہ تعالی ….! پلیز معاف کر دیں ۰اچھے اللہ تعالی…..! آپ حرم کے دروازے ہم مسلمانوں کے لۓ کھول دیں…….یا ربی روضۂ رسول پر جانے کی سعادت سے ہمیں محروم نہ رکھۓ۰ اللہ تعالی میں بچوں کو نہ ڈانٹ سکی کہ آپ نے میرے اندر ممتا کا جذبہ رکھا ہے۰ اللہ تعالی آپ تو دو نہیں تین نہیں ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۰پیارے اللہ تعالی آپ “کُن” کہ دیں اور اس کرونا کو ختم کر دیں۰اللہ تعالی آپ سے نہیں مانگیں گے تو کس سے مانگیں گے۰یا ربی آپ نے ہی تو پیدا کیا ہے ہمیں۰اللہ تعالی آپ ہمارے ہیں۰ہم آپ کے ہیں۰پیارے اللہ تعالی پلیز اچھے اللہ تعالی پلیز ہمارے حالوں پر رحم کر دیں ۰ہمیں تو دعا سکھائ گئ کہ اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنا تجھے پسند ہے ….پس تو ہمیں معاف کردے۰ تو یا ربی ہمیں معاف فرمادے
یا رب بس یہ الفاظ نہیں ہیں ہمارے بلکہ ہمیں ندامت بھی ہے….. یا رب ہمیں آپ معاف کر دیجۓگا۰پیارے اللہ تعالی پلیز ،ہم سے راضی ہو جائیں …..ہم سے خوش ہو جائیں۰حمیرا یہ دعائیں مانگ رہی تھی کہ اس کے بچے کہنے لگے۰امی ہم نے تو آپ سے “سوری” بھی نہیں کہا پھر آپ نے ہمیں کیسے معاف کر دیا؟ بچوں کی یہ بات سُن کر حمیرا کہنے لگی۰ ہاں بیٹا ….! تم لوگوں کے “احساس ندامت” نے۰
اور حمیرا سوچنے لگی یہ ہمارا احساس ندامت سے “رب” سے معافی مانگنا رب کو راضی کرنے کا باعث بنے گا۰

اپنا تبصرہ بھیجیں