تبسم باجی _ عالیہ زاہد بھٹی




موبائل فون کی بجتی بیل سے بیزار ہو کر نوشی نے فون کاٹ دیا “ارے کیوں کاٹا؟ کس کا فون تھا؟” تہنیت نے پوچھا۔۔ ارے بھئی وہی تھی میری نند” زمانے کی کڑواہٹ لفظوں میں سمو کر آویزش نے جواب دیا۔
“کیا ہوا کیا کہہ رہی ہیں تبسم باجی” “ارے وہی کہنا ہے کہ اس مرتبہ پھر وہ عید کی چھٹیوں میں نازل ہونے لگی ہیں وہ بھی پورے آدھ درجن بچوں کے ساتھ”
اسے بہت غصہ تھا وجہ یہ تھی کہ ہرسال چھ ماہ بعد اس کی نند چار پانچ دن کے لئے آجاتی تھی اس مرتبہ بھی یہی حال تھا اس نے اباجان کو اس مرتبہ بہت کنوینس کیا تھا کہ کورونا کی وبا کا نام لے کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہیں اور اس مرتبہ اپنی لاڈو کو آنے سے منع کردیں مگر ادھر بھی تبسم مصطفی تھی وہ کہاں رکتی اسی سلسلے میں بار بار اس کے فون آرہے تھے کہ ہم آرہے ہیں بس صرف دو دن کے لئے اسے آنے دیا جائے۔
آویزیش کا خون کھول رہا تھا کہ یہ پیچھا نہیں چھوڑ رہیں تھیں اور آنے پر بضد تھی اور ہر مرتبہ کی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی آویزش کو عید کے پہلے دن نند صاحبہ کے اعزاز میں کام کرنے پڑتے ہر چند کہ اس نند اور اس کی بیٹیاں ہاتھ بٹانا جانتی تھی مگر آویزش کو ہمشیہ سے ہی عادت َتھی کہ اپنے گھر میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں تھی بھلے چند دن کے لئے ہی سہی پھر اسے اپنے امی ابا کی طرف بھی جانا ہوتا تھا عید کے دوسرے دن جو تبسم باجی کے آنے سے رکتا تو نہیں تھا مگر ان کی وجہ سے جلدی آنا پڑتا تھا۔
اس کا میکہ شہر میں ہی تھا مگر وہ خود تبسم باجی کا وہ میکہ تھا کہ جو شہر سے کئ سو میل دور تھا اور تبسم باجی ہر ہفتے نہیں مہینوں بعد آتی تھی وہ بھی برداشت نہیں ہوپارہا تھا۔ “جب تمہیں پتہ ہے کہ ناں تو وہ رکیں گی نہ تم روک سکو گی تو بہتر یہی ہے کہ مجبوری کا نام شکریہ ” تہنیت نے سمجھایا تو وہ چپ ہو گئ
اور تبسم باجی اور ان کے بچوں کے استقبال کی تیاریاں کرنے میں لگ گئ
وہ اور فیصل ایر پورٹ آئے ہوئے تھے تبسم باجی کو لینے
وہ کرسی پر بیٹھے اسکرین کو دیکھ رہی تھیں اک منٹ صرف اک منٹ رہتا تھا فلائٹ لینڈ کرنے میں کہ اچانک پلین کے تباہ ہونے کی اطلاعات ملنے لگیں
یکایک ہر طرف آہ و فغاں اور نالوں کا شور ایکسائٹمنٹ دکھ میں اور دکھ درد میں بدل گیا جب معلوم ہوا کہ پلین تباہ ہو گیا اور آبادی پر گرا سو آبادی بھی َزد میں آئ تھی۔ آویزیش کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے مخالفت،دشمنی،ناپسندیدگی،نفرت یہ سب ایک لمحے کی کہانی ہے۔ وہ اک لمحہ جو سب کچھ ہلا گیا سمجھو وہی لمحہ سب کچھ بھلا گیا۔۔!!
ہم زندہ انسانوں کی غلطیوں کو کیوں نہیں بھولتے ہم کیوں کسی کو معاف کرنے کے لئے اس کے برے وقت یا اس کی موت کے خواہاں رہتے ہیں؟ ہمیں کیوں زندہ لوگوں کی برائیاں کرنے میں اور مُردوں کی اچھائیاں کرنےمیں مزہ آتا ہے۔۔۔ آویزیش روتے سوچ رہی تھی کہ تبسم باجی صرف 4دن کے لئے تو آتی تھیں،وہ اور ان کی بچیاں برابر ہرکام میں مدد کرتی تھیں بلکہ جتنے دن رہتی تھیں اس کے بھی بہت سے کام کر جاتیں۔
آج تبسم باجی اور ان کی بیٹیوں کے چہروں کو آخری بارحسرت سے دیکھتے ہوئے اس نے جانا کہ اس کو ام چہروں سے بہت محبت ہےوہ ان کو بہت مس کرے گی وہ ہر چھٹیوں میں ان کا نہ چاہتے ہوئے بھی انتظار کرتی تھی اور ان یہ انتظار اس کی روح کا آذار بن گیا اب آس انتظار کا کوئ حاصل نہیں اس مرتبہ کی فلائٹ ان کو اس سے بہت دور لے گئ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی آپ کی زندگی میں کوئی تبسم باجی ہے تو اس کی قدر کیجئے گا ایسا نہ ہو کہ وہ بھی چلی جائیں۔۔۔کیونکہ وقت تو سب کا مقرر ہے ناں۔؟

اپنا تبصرہ بھیجیں