اور بےشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے – اسماء اعجازشاہ




آہ……..! وہ بھی کیادن تھے. کتنا وقت مل جاتا تھا اپنےساتھ بِیتانے کا.کبھی کبھی دل افسردہ تو ہوتا کہ کتنی تنہائی ہےمیرےاندر اور باہر! دن میں حسرت ہوتی کہ کس سےفون پر باتیں کروں پر یہ سوچ کر خود کوروک لیتی کہ ہر کسی کی اپنی روٹین ہے. یہ زیادہ پرانی بات نہیں ، بس چند ماہ پہلےتک کی…….
دن میں عموماً اکیلی ہواکرتی، بیٹی یونیورسٹی ، میاں کاروبار کیلئے دوکان پر، چھوٹا بیٹا سکول اور بڑا بیٹا رات گئے تک سٹیٹ ایجنسی کے امور کم اور سیاسی امور زیادہ نبٹانےکےبعد, رات گئے سوتا اور دن چڑھے کےبعد ہی جاگتا. یوں ناشتے کے بعد میں سکون سے “بور” ہوکر آرام سے سو لیا کرتی. ہاں! شام کوکافی مصروفیت بڑھ جاتی کہ ٹیوشن پڑھنے پڑوس سےتین ننھیاں آجاتیں تو ہوا کےجھونکےکا احساس ہوتا. اوپر تلے کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھیج کر ان کی ماں سکھ کا سانس لیتی اور میں پڑھاتے, سنبھالتے نڈھال ہو ہو جاتی, پر خوشی بھی ہوتی کہ پڑھانے کےبہانے صدقہ جاریہ کے لحاظ سے کچھ اچھا سکھانے کا موقع بھی میسر تھا. (خصوصاً ختمِ نبوت کا عقیدہ انہیں انکی ذہنی سطح کے مطابق باور کروانا.) ورنہ دن میں تو دنیاکی کھڑکی (اینڈرائڈ موبائل) بیٹی کےپاس… نہ صرف گھر والوں سےرابطہ رکھنے ،بلکہ بوقت ضرورت گوگل کےاستعمال اور روزانہ کی بنیاد پر بطور یادگار تصویرکشی کرنےکیلئےموبائل یونیورسٹی میں اہم ترین ضرورت ہے .(گویا بطور”ترین” لےجانا ضروری ہو)
خیر! میں بتارہی تھی کہ یوں میں دنیا سےکٹ جاتی. اب سوچتی ہوں پھر بھی کیا سکون کے دن تھے! لاک ڈاؤن کے دوران ہرکوئی محصوری کا رونا رو رہا ہے جبکہ زندگی کی بہت سی نعمتوں میں سے کئی میسّربھی آئی ہیں. مثلاً کئی گھروں میں ماسیوں کاداخلہ بند ہونے کی بنا پر وقت گزاری کےبہانےہی سہی, گھرکےمختلف امور خصوصاً باوچی خانہ میں جس جس سربراہانِ خانہ نےخود کو مصروف کیا انکا یہ کہنا بند ہی ہوگیا “سارا دن گھر میں کرتی ہی کیا ہو؟؟” مجھےبھی بہت عرصہ بعد اکلوتی بیٹی کےساتھ گپ شپ لگانے اور زبردستی امورِ خانہ داری سکھانے کا نادر موقع میسر آیا. یونہی ایک دن بات سے بات نکلی تو میں نے بیٹی سے کہا کہ صرف ایک تم ہی خود کو محصور محسوس کر رہی ہوگی نا! ابو بھائی تو سودا سلف, قانون کےنفاز کےجائزے یا نماز کےبہانےباہر کے چکر لگاہی رہے ہیں.
پر لاک ڈاؤن کا مجھےکیا فرق پڑناکہ کئی کئی دن ویسےہی کہیں جانانہیں ہوتاتھا.البتہ امی ابو سےملنے کی “ہڑک” ہورہی ہے. ویسےاب اندازہ ہورہا کہ گھر رہنے کی عادت نےہی اِن دِنوں مجھےمطمئن رکھا ہواہے.
ہاں! البتہ اب,کبھی کبھار یوں لگتا ہے کہ تم سب میرے سر پر سوار ہوگئےہو. پاؤں کے فریکچر کےاثرات بھی تقریباً ختم ہونے کو ہیں اسلئےچولہے سے فرقت کی کمی کو کچھ زیادہ ہی چُکانا پڑتاہے. اللہ اللہ! میری تو ساری روٹین ہی خراب ہو گئی……!!

اپنا تبصرہ بھیجیں