جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 01




قسط نمبر ۱

ہیلو۔۔۔۔؟؟؟ ہیلو ہیلو۔۔۔۔۔۔۔
“آپکو بات نہیں کرنی ہوتی تو کا ل کیوں کرتے ہیں۔۔۔اپنا بیلنس ضائع کرنے کا بہت شوق ہے آپکو۔۔۔۔ “جھلّا کر کہتے ہوئے اُس نے موبائل آف کر کے دور اُچھا ل دیا۔اُسکا موڈ بُری طرح خراب ہوا تھا۔

پچھلے ایک ہفتے سے روز رات کو نو بجے اسکا موبائل رنگ کرتا تھا۔وہ کال ریسیو کرتی تو دوسری طرف چھائی خاموشی اس کی پریشانی بڑھا دیتی۔شُروع کے دو تین دن اُس نے اس نمبر کو رانگ نمبر سمجھ کر زیادہ اہمیت نہیں دی تھی لیکن پھر اس نمبر سے روز کال آنے لگی۔مسئلہ رانگ نمبر یا رانگ کال کا نہیں تھاایسے نمبرز سے اسکا واسطہ ہر وقت پڑتا رہتا تھا۔اسکی پریشانی کی اصل وجہ کُچھ اور تھی۔۔۔یہ نمبر روزانہ رات کو ٹھیک نو بجے آتا تھاا ور ریسیو کرنے پر خاموشی چھائی رہتی تھی اور اسکی اُلجھن بڑھ جاتی کیونکہ دوسری طرف سے کسی کی سانس لینے کی مدھم سی آواز تو اُسے محسوس ہوتی تھی جسکا مطلب تھا کہ کوئی فون یا موبائل کان سے لگا کر بیٹھا ہے لیکن کُچھ بول نہیں رہا۔۔۔۔اس بات کا مطلب اُسے سمجھ نہیں آتا۔۔۔

اس نے بہت بار فون کرنے والے کو اُکسایا تھا تا کہ بس وہ ایک بار اُسکی آواز سُن لے اورپھر وہ یہ نمبر شاید انصاری کو دے دیتی۔اسکے ابو کُچھ نا کُچھ تو کر ہی لیتے لیکن کال کرنے والا شاید گہری گہری سانس اسی لیے لیتا تھا تا کہ اجیہ کو پتہ چل جائے کہ فو ن کے دوسرے طرف کوئی موجود ہے۔۔۔روز کے اس چکر سے تنگ آکر کل اُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب یہ کال ریسیو نہیں کرے گی۔۔۔پتہ نہیں اب اُسے یہ کال او ر کال کرنے والا یا والی سے خوف سا محسوس ہونے لگا تھا۔معلوم نہیں کیا چاہتے تھے وہ اس سے،کیا محض اُسکی آواز سُننا ؟؟؟؟؟؟ کل یہ فیصلہ کر لینے کے بعد وہ اس پر قائم رہنے کی پوری کوشش کر چُکی تھی لیکن جیسے جیسے گھڑی کی سوئیاں آٹھ بجانے کے بعداب نو کی طرف بڑھ رہیں تھیں اس کی بے چینی میں بہت اضافہ ہو چُکا تھا۔اس کے لاشعور میں نو بجے کا وقت بار بار بھٹک رہا تھا۔وہ لاشعوری طور پر اس کا ل کی منتظر تھی۔۔۔اس نے اپنے کمرے میں دُنیا جہان کی چیزیں پھیلا رکھی تھیں۔

وہ تمام کام جو اسکے نزدیک فضول تھے یا جنہیں کرنے کا وقت اسکے پاس نہیں ہوتا تھاوہ آج اس طرح کے کام بھی پھیلا کر بیٹھ گئی تھی مگر ذہن مسلسل اس کال کی طرف لگا ہوا تھا۔وہ الجھ سی گئی، بظاہر وہ کاموں میں پوری طرح مصروف تھی لیکن ذہنی طور پر اسکا دھیان صرف اس نمبر کی طرف تھا۔

پونے نو بجے وہ نیچے نازیہ کے کمرے میں آگئی تھی۔نازیہ اس وقت کوئی کتاب پڑھ رہی تھی دس منٹ تک وہ اس سے ادھر اُدھر کی باتیں کر کے اپنی ذہنی رو کو بھٹکانے کی کوشش کرتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔گھڑی کی سخت جان سوئیاں اپنے معمول کے مطابق نو کے ہندسے کی طرف بڑھ رہی تھیں اور اسکی اضطرابیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھاآخر جب نو بجنے میں پانچ منٹ رہ گئے تو سب کُچھ اسکی برداشت سے باہر ہو گیا ۔ تقریباََ بھاگتے ہوئے نازیہ کے حیران چہر ے کونظر انداز کر کے سیڑھیاں پھیلانگ کر اپنے کمرے میں پہنچی تھی اور موبائل ہاتھ میں لے لیا تھا۔۔۔۔معمول کی طرح نو بجے وہ موبائل کے بجتے ہی نا چاہتے ہوئے بھی کال ریسیو کر رہی تھی پھر اسی خاموشی نے اسکے اعصاب چٹخا دیے تھے۔۔۔جند لمحے موبائل بند کرنے کے بعدوہ سوچتی رہی پھر نمبر بلاک کرنے کی درخواست بھیجنے لگی تھی۔

تھوڑی دیر تک وہ نمبر بلاک ہو چُکا تھااور وہ نسبتاََ سکون محسوس کرتے ہوئے بیڈ پر لیتے خلاؤں میں گھور رہی تھی جب اسے نائلہ کا خیال آیا تھا۔۔۔ ایک ہفتے سے وہ یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی اس لیے نائلہ سے مُلاقات نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔اسکا خیال آتے ہی اجیہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی، ایک لمحے کے لیسے اُس نے سوچا کہ نائلہ کے ہوتے ہوئے مُجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔وہ ہمیشہ کی طرح میرے اس مسئلے کا بھی کوئی نا کوئی حل نکال لے گی۔اسکے لبوں پہ پھیلی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

کل ضرور اُس سے بات کروں گی!! اُ س نے زیرِ لب مُسکراتے ہوئے سوچا اور آنکھیں موند لیں۔

٭٭٭

مو بائل بار بار بج رہا تھا۔ نیم غنودگی کے عالم میں اُس کی آواز گہرے کُنویں سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔کئی بار اُس آواز کو جھٹک کر اُس نے دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن فون کرنے والا بہت ہی ڈھیٹ تھاشاید۔۔۔۔اُسے اٹھنا ہی پڑا۔آنکھوں سے بھری ہوئی نیند سے چھُٹکارا پانے کی کوشش کرتے ہوئے اُس نے موبائل ہاتھ میں لیا۔۔۔وہ ابھی بھی بج رہا تھا۔جلتی بھُجتی اسکرین سے اُسے کوفت محسوس ہو رہی تھی۔بھاری ہوتی آنکھوں کو اُس نے بمشکل کھول کر نمبر دیکھنے کی کوشش کی۔۔۔اور پھر ذہن میں ایک آواز گونجنے لگی۔یکدم وہ پوری طرح بیدار ہو گئی۔۔۔نیند ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔وہ اس وقت کیوں کال کر رہا تھا۔اس کے سمجھ سے باہر تھااور نیند میں تو ویسے ہی ذہن کام نہیں کرتا۔۔۔کال ریسیو کرتے ہوئے اُس نے بے چینی سے وال کلاک پر نظریں دوڑائیں تھیں۔گھڑی صبح کے پانچ بجا رہی تھی۔پریشانی سے ہونٹ سکیڑتے ہوئے اُس نے سبز حصہ چھوا۔

ہیلو۔۔۔؟؟اس نے خمار آلود آواز میں کہا۔
دوسری جانب سے آنے والی آواز سُن کر وہ ساکت ہوئی تھی۔

٭٭٭

بارش ابھی ابھی رُکی تھی۔فضا میں خنکی بہت ذیادہ ہو گئی تھی۔سبز پتے نکھر کر عجب بہار دے رہے تھے۔آسمان دُھل کر سورج کی نرم کرنوں میں چمک رہا تھا۔صبا دروازہ کھول کر لان میں نکل آئی۔اگرچہ ابھی صبح کے چھ بجے تھے۔لیکن موسم بارش کی وجہ سے بہت اچھا ہو رہا تھا۔کمرے میں گھٹن کی وجہ سے اُسکا دل باہرآنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔

پچھلے ہفتوں سے درجہ حرارت 42،43 ڈگری سے اُوپر پہنچا ہوا تھا۔روز سورج آگ برسا رہا تھا۔یو اے ای میں یہ روز کا معمول تھا۔۔۔سورج کی حدّت یو اے ای کے شہریوں کے لیے کوئی خاص بات نہ تھی وہ اسکے عادی تھے۔لیکن آج ہونے والی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا تھا۔پتّوں پر پھسلتے ہوئے قطرے قیمتی نگینوں کی مانند جگمگ جگمگ کر رہے تھے۔۔ ۔ وہ صبح چار بجے سے جاگی ہوئی تھی۔بارش کافی دیر تک ہوتی رہی تھی اور وہ اتنی دیر کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر شفاف شیشے کے اُس پار نظر آنے والے چھوٹے بڑے پانی کے قطروں کو گننے کی کوشش کر تی رہی۔۔۔۔۔۔جو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کرتے ہوئے لگ رہے تھے۔گویا ان میں ہر ایک قطرہ سب سے پہلے زمین بوس ہونا چاہتا تھا۔۔۔۔

تا کہ خدا کی زمین کو چوم سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کتنی ہی دیر ان قطروں کو گنتی رہی تھی۔۔۔۔یو اے ای میں کبھی بھار ہی بارشیں ہوتیں تھیں اور اس وقت جب وہاں ابر رحمت برس رہا ہو تا تب وہاں کے ہر باشندے کا دل چاہتا تھا کہ بارشوں کی راحت سے سیراب ہو جائے۔۔۔۔۔۔نماز ادا کرنے کے بعد اُس نے ہمیشہ کی طرح دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے تھے تو سب سے پہلے جو اُس نے دعا مانگی تھی وہ وہی تھی جسکو مانگتے ہوئے اُسے دو سال ہو چُکے تھے لیکن خالق موجودات اُس خواہش کو پورا کرنے سے انکاری تھاجس کے لیے وہ اپنا سب کُچھ قربان کرنے کو تیار تھی۔۔۔۔۔آنکھوں کے بھیگے گوشے صاف کرنے کے بعداُس نے جائے نماز لپیٹ کر رکھی تبھی اُسے کمرے میں بے تحاشا گھُٹن کا احساس ہوا تھا یا شاید اُس کے اپنے ہی اندر گھُٹن زیادہ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

باہر لان میں آکر ٹھنڈ ک کا احساس اُسکے اندر تک اُتر گیا،کا فی دیر تک وہ گھاس پر ہاتھ پھیرتی رہی اس سب کے دوران اُسے اپنا وجود بھی قدرتی خوبصورتی کا حصہ لگ رہا تھا۔۔۔اسکا بے اختیار دل چاہا کہ وہ اسی ماحول میں ڈھل جائے۔۔تنہائی کا عذاب کتنا جان لیوا ہوتا ہے یہ صرف وہی بتا سکتی تھی کہ آجکل وہ اسی عذاب سے دوچار تھی۔ناصر کے بغیر اُسے یہ محل کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔۔۔۔تنہا اتنے بڑے محل میں ملازموں کے ساتھ دن گزارتے ہوئے اسے ہر لمحہ ناصر کی یاد آتی تھی۔۔۔۔لان میں کم از کم پرندے تو موجود تھے،اُن سے وہ اپنا حال دل بیان کر کے تشنگی تو حاصل کر سکتی تھی۔۔۔۔۔گھاس پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے تھک گئی تو سر اُٹھا کر نیلے آسمان پر نظریں دوڑانے لگی۔بارش کے بعد آسمان بھی دھلا دھلا بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ہلکی ہلکی ہوا میں تیرتے بادل ایک دوسرے سے اٹھکلیاں کرتے پھر رہے تھے دور کہیں سورج کے طلوع ہو نے سے آسمان پر ہلکی سی سُرخی بھی تھی۔۔۔

وہ آسمان کو تکنے کا شُغل بھی زیادہ دیر جاری نہ رکھ سکی۔اُسے بیزاریت سی محسوس ہونے لگی۔اس بار اُسکی نگاہوں کا ہدف کیاریوں میں لگے ہوئے رنگ برنگے پھول تھے۔بارش نے جہاں اور چیزوں کو نہلا دیا تھا وہیں مرجھائے ہوئے پھولوں کو بھی گویا نئی زندگی عطا کر دی تھی۔ننھے ننھے شبنم کے نگینوں سے سجے ہوئے وہ پھول مسکراتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے،اُس کی محویت کو ایک نرم آواز نے توڑ دیا تھا

”صبا بیٹی۔۔۔۔۔ ناشتہ لگ گیا ہے۔۔۔۔آجاؤ۔۔۔۔!!!!“
بوڑھی ملازمہ اسکے پیچھے آکر اچانک بولی تھی۔وہ چونکی پھر آہستہ سے قدم اُٹھاتے ہوئے اند ر بڑھ گئی۔

(جاری ہے….)

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 01” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں