ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 02

قسط نمبر ۰۲

اجیہ۔۔۔؟؟؟
چندا۔۔۔۔۔؟؟؟

نازیہ دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو اجیہ نے کروٹ بدل کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا،شاید وہ اپنی سُرخ آنکھوں کو چُھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

”ارے ۔۔۔۔؟؟آج اُٹھنے کا موڈ نہیں ہے،شاید؟“نازیہ نے پھر کہا۔ اس نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا،دھندلی ہوتی آنکھوں کو جھپک کر منظر صاف کیا۔بس آپی اُٹھ رہی ہوں۔۔۔۔کیا دیر ہو گئی ہے۔۔؟؟؟؟اس کی آواز بھی بھاری ہو رہی تھی۔’’نہیں اتنی دیر نہیں ہوئی،ساڑھے چھ ہوئے ہیں!“
”اوکے بس اُٹھ گئی میں۔۔۔۔“نازیہ مطمئن سی اثبات میں سر ہلا کر واپس پلٹ گئی۔

دروازہ بند ہوا تو اُسے محسوس ہوا کہ اُسکی آنکھیں بھاری ہو رہی ہیں۔پلکیں جھپکنے میں غیر محسوس سی تکلیف محسوس ہو رہی تھی،بے اختیار وہ انگلیوں کی پوروں سے آنکھوں کو مسلنے لگی۔اسکے ذہن میں رات کے وہ واقعات تازہ ہو گئے تھے۔پیشانی پہ سلوٹیں ابھریں، پوری رات وہ شدید بے چینی کی وجہ سے سو نہیں پائی تھی۔فجر کی اذان کے وقت بھی وہ جاگ رہی تھی،آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی،لیکن دماغ اسکے اثر کو قبول کرنے سے انکاری تھا،اسے جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔وہ نمبر میرے حواسوں پر اتنا چھا گیا ہے۔۔؟؟؟اُف آخر اب تو بلاک کر دیا ہے نائلہ سے بھی بات کر لوں گی پھر کیوں؟؟؟”کیا ایسا کُچھ خاص ہے اس نمبر میں جس کی وجہ سے میں اتنی بے چین ہوں۔۔۔!“سوچتے ہوئے اُسکے اعصاب پر نیند طاری ہونے لگی تھی اور پھر چند لمحوں کے بعد وہ پوری طرح نیند کی آغوش میں پہنچ چُکی تھی۔

اُسے سوئے ہوئے بمشکل ایک گھنٹہ ہوا تھا کہ نازیہ کی دستک سے اُسکی آنکھ کھُل گئی تھی۔وہ اُٹھ گئی،اب پورا دن اسکے پاس سونے کا وقت نہیں تھاآنکھوں کو مسلتے ہوئے اس نے سلیپر کی تلاش میں نیچے جھانکا،سائڈ ٹیبل کے برابر لیمپ کی روشنی میں وہ اُسے نظر آ گئے تھے،بیڈ سے ٹانگیں لٹکا کے انہیں پہنتے ہوئے وہ متلاشی نظروں سے موبائل تلاش کرنے لگی۔انباکس چیک کر کے وہ کھڑکی کی جانب بڑھ گئی تھی اور۔۔۔ہاتھ پھیلا کر پردے ہٹا دئیے تھے۔سورج کی روشنی کے اچانک اندر آنے سے اس کی آنکھیں لمحہ بھر کو چندھیائی تھیں۔پورا کمرہ روشن ہو گیا تھا۔۔۔۔اُس نے بڑھ کر ٹیبل لیمپ آف کر دیا،دیوار سے ٹیک لگا کر ایک ہاتھ سے کھڑکی کا سہارا لیتے ہوئے اس نے بال سمیٹے تھے پھر دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی جو دودھیائی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔۔۔۔انٹر کام کی بیل پر وہ چونکی اور ریسیور کان سے لگایا۔

جی۔۔۔۔؟؟
چندا۔۔۔ ناشتہ لگ گیا ہے انتظار کر رہی ہوں تُمھارا۔۔۔جلدی آجاؤ۔۔۔۔!!
وہ بے اختیار مُسکرائی،کبھی بھی اُن دونو ں نے ایک دوسرے کے بغیر ناشتہ نہیں کیا تھا۔

“بس آپی۔۔۔دو منٹ!!!“
کہہ کر ریسیور رکھ دیا اور تیزی سے واش روم کی جانب بڑھ گئی۔

٭٭٭

شام کے سُرمئی سائے گہرے ہو چلے تھے۔سورج دور اُفق پر اپنی روشنیاں سمیٹ کر دنیا کو اندھیر نگری بنانے کی تیاری کر رہا تھاہلکی ہلکی سُرخی آسمان پر پھیل کر خوابناک سا تاثر پیدا کر رہی تھی،مغرب کی اذان ہونے میں چند منٹ باقی تھے۔پرندے اپنے اپنے آشانوں کی طرف تیزی سے گامزن تھے۔

کراچی کے پوش علاقے کے ایک خوبصورت اور شاندار بنگلے کی چھت پر ایک باوقار اوروجیہہ شخص ادھر سے اُدھر چکر لگا رہا تھا،ڈارک بلیو جینز اور ٹی پنک شرٹ پہنے وہ کہیں جانے کے لیے بالکل تیار تھا۔جاذب نظراور پُرکشش چہرے پر ڈھیروں پریشانی لیے وہ بار بار کلائی کے گرد بندھی رسٹ واچ دیکھ رہا تھا اس کے انداز سے لگتاتھا کہ اسے کسی کا انتظار ہے،ٹہلتے ٹہلتے ہی وہ رُک کر موبائل چیک کرنے لگا پھر مایوسی سے اس کی پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہوئیں۔سر جھٹک کر وہ نمبر ڈائل کرنے لگا تھا کہ اذان کی آواز سُن کر چونکا،مؤذن دن میں چوتھی بار بندگان ِ خدا کو کامیابی کی طرف بُلانے لگا تھا۔

اللہ اکبر۔۔اللہ اکبر۔۔!!“کی آواز ہوا کے دو ش پر سُریلے نغمے کی مانند پھیلتی جا رہی تھی۔یکدم ہی جیسے اُسے شدید غصہ آیا۔
”کیا مسئلہ ہے۔۔؟؟ وقت کی کوئی حیثیت ہی نہیں ان لوگوں کے نزدیک۔۔کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔جب ایک بات ڈیسائڈ کر لی تھی تو کم از کم وقت پر ہی آجاتے۔۔۔کتنے مشکلوں سے دونوں میٹنگ کینسل کر کے ان کے ساتھ پرو گرام بنایا تھااور اب یہ لوگ صرف وقت ضائع کر رہے ہیں۔۔۔۔سوچا تھا کہ نئے نئے دوست بنے ہیں تو کہیں منع کرنے سے ان کی دل شکنی نہ ہو جائے۔۔۔۔اور یہ۔۔۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔۔۔بہت فارغ ہوں نا میں۔۔۔۔ “

زور زور سے بولتے اُس نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر خود پر قابو پانا چاہا تبھی موبائل رنگ کرنے لگا،قدرے غصے سے اُ س نے اسکرین ٹچ کی،روشن ہوا نمبر اسکا جانا پہچانا تھا۔تبھی سانسوں کو ہموا ر کرتے ہوئے اُس نے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا،
”السلام و علیکم، قاسم عباس اسپیکنگ۔۔!!“اُس نے غصے کو آواز نرم کرتے ہوئے چھُپانے کی کوشش کی،”سلام۔۔کیا حال ہیں قاسم تیرے۔۔؟؟؟ دوسری طرف سے اُبھرتی آواز سُن کر اُس کے چہرے پر دوبارہ ناگواری چھا گئی۔
”میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔تُم لو گ کب پہنچو گے؟؟“
”کدھر پہنچنا ہے بھئی۔۔؟؟ “دوسری طرف کا لہجہ اُسکے غصے بھرے تاثرات میں اضافہ کررہا تھا۔
”آج کہیں جانے کا پروگرام بنایا تھا ہم نے؟تُم لوگوں نے میرے گھر آنا تھا اور اب میں کب سے انتظار کر رہا ہوں تُم سب کا۔۔۔۔کہاں ہو۔۔۔؟؟؟“ وہ بچپن سے تحمل مزاج تھاسو اب بھی غصہ ظاہر نہیں کیا۔

”ہم لوگ تو کب کے پہنچ بھی گئے۔۔۔تیرا انتظار کر رہے ہیں قاسم۔۔۔میں تو تُجھ ہی سے پوچھنے والا تھا کہ تو۔۔۔۔۔؟؟؟؟اُس کی بات ادھوری رہ گئی، پوری قوت سے وہ کال کاٹ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا۔نیچے پہنچ کر اُسنے پورچ کا رُخ کیاتب بھی وہ غصے سے کھول رہا تھا۔بار بار مُٹھیاں بھینچ کر غصہ کو ضبط کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور کار اسٹارٹ کی،چند لمحوں بعد اسکا تنفص بحال ہو گیاتھااور کار سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔

٭٭٭

”السلام و علیکم۔۔۔!!“
”جی وعلیکم السلام۔۔۔۔کہیے؟؟“
میں ناصر بول رہا ہوں!
اچھا!!!
آپ کے کزن کا دوست ہوں۔
تو میں کیا کروں؟؟
پچھلے ہفتے ہی ہماری دوستی ہوئی ہے!!
اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟

(جاری ہے….)

 

پہلی قسط ملاحظہ کیجیے :

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies. Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

Add Comment

Click here to post a comment