ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 07

قسط نمبر ۰۷

 

قاسم نے موبائل کی تاریک ہوتی اسکرین کو بے چینی سے دیکھا ، نائلہ نے جھلّا کر لائن کاٹ دی تھی اس نے کال بیک کرنے کا ارادہ کیا مگر پھر ارادہ بدل لیا ۔ نائلہ اس وقت غصے میں تھی اور کُچھ بعید بھی نہیں تھا کہ کال ریسیو ہی نہ کرتی،وہ اسے اچھی طرح جانتا تھاغصے میں وہ کسی کی نہیں سُنتی تھی

”نائلہ تو اب اس بارے میں کُچھ بھی نہیں سُنے گی وہ میرے ہی بارے میں اُلٹا غلط سوچے گی،میں اچھی طرح جانتا ہوں اگر میں نے دوبارہ کال کر کے اس سے نمبر مانگ لیا تو میری خیر نہیں۔۔کیا بتاؤں گا اسے کہ میں کتنی بڑی مُشکل میں پھنس گیا ہوں۔۔اگر اجیہ کا نمبر مُجھے نہیں مل سکا تو کتنی بڑی مُصیبت کھڑی ہو جائے گی لیکن نائلہ نہیں سمجھے گی۔اس کے لیے وہ مُشکل ہی نہیں ہے ساری پریشانی میری ہی ہے،بدنامی تو میری ہی ہو گیاگر یہ راز افشاں ہو گیا،کاش۔۔!!وہ میری سیچویشن سمجھ جائے لیکن اسکا کیا جائے گا لیکن نہیں۔۔اگر میں اسے اپنی دوستی کاحوالہ دوں یا اس رشتے کا واسطہ دوں جو میرے اور اسکے درمیان ہے۔۔میرے خدا۔۔کبھی کوئی اس طرح کی بلیک میلنگ کا بھی شکار ہوا ہو گا۔

اگر میں اس سے التجا کروں وہ اتنی پتھر دل تو نہیں ہے مگر میراسطرح ضد کرنا۔۔وہ بھی اس سے اسکی بہترین دوست کا نمبر مانگنے کے لیے۔۔اس طرح کی ضدیں رشتوں کو کمزور کر دیا کرتیں ہیں،اور پھر میرا اور اسکا رشتہ تو ویسے ہی مکڑی کے جالے جتنا نازک ہے اگر یہ ٹوٹ گیا۔۔اگر یہ ٹوٹ گیا۔۔اگر ٹوٹ گیا۔۔تو۔۔” وہ اس سے آگے نہیں سوچ سکا،دل پر بے شمار ضربیں ایک ساتھ لگیں تھیں وہ پریشان تھا،بے حد پریشان۔۔وہ اس دوراہے پر کھڑا تھا جہاں کئی راستوں میں سے ایک کو منتخب کرنا پڑتا ہے چاہے وہ راستہ باغ کی طرف جاتا ہو یا گہری کھائی کی طرف!ابھی کُچھ منٹوں پہلے تک وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کلب کی دُنیا میں پوری طرح ایڈجسٹ ہو چُکا تھا روشنیاں۔۔چھلکتے جام۔۔حسین جسم۔۔رونقیں۔۔۔وہ مست ہو چُکا تھا۔

وہ پہلی بار کلب آیا تھا اپنے آوارہ دوستوں کے بے حد اصرار پر اور یہاں کی دُنیا اسے چونکانے کے لیے کافی تھی،ایسی جگہوں پر انسان اپنا نفس شیطان کے پاس گروی رکھوا کر آتا ہے وہ شیطان ملعون کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتا ہے،اسکی عقل رُخصت ہو جاتی ہے اور جب اُسے ہوش آتا ہے تب تک بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔

قاسم نے بھی اپنی عقل کو رُخصت کر دیا تھا۔

وہ جو فطرت کے استعمال پر یقین کرتا تھا جسے خدا کے حاضر و ناضر ہونے کے بارے میں اتنا ہی یقین تھا جتنا اپنے زندہ ہونے کے بارے میں، لیکن آج وہ حسین جسموں کی قربت میں خدا کو فراموش کر بیٹھا تھا۔اپنے دوستوں کو خوش کرنے کے لیے اس نے خدا کو ناراض کر دیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دوست پُل صراط پر اسکو سہارا نہیں دے سکیں گے۔صرف اللہ ہے جس کی حمایت اس وقت کام آئے گی۔

وہ اس وقت شراب کے نشے میں دھت کسی لڑکی کے بانہوں میں تھا،جب کوئی اسے گھسیٹتے ہوئے لان کے کونے میں لے گیا تھا۔کلب کے باہر بنے اس خوبصورت لان کا یہ کونہ نیم تاریک تھا۔وہ گھسیٹنے والے شخص کو نہیں پہچان سکا بس دماغ کے کسی گوشے میں ایک دوست کا چہرہ اُبھر کر غائب ہوا تھا۔اس شخص نے بینچ پر بٹھا کر اسکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر شراب کا کُچھ اثر کم کرنے کی کوشش کی تھی۔قاسم نے چند لمحے اسکے ہاتھوں میں موجود پیالے کو دیکھتے رہنے کے بعد وہ پیالہ چھین لیا اور اسے منہ سے لگا لیا،غٹاغٹ پانی پی کر اسکو نیچے پھینکنے کے بعد وہ خونخوار نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو گھورنے لگا اگر ابھی اسے کوئی ایسے دیکھ لیتا تو وہ کسی طور یہ ماننے کو تیار نہ ہوتا کہ وہ ”خواجہ عباس لیدر کمپنی“ کا مارکیٹنگ ڈائریکٹر ہے۔

اس شخص نے اپنی پُر اسرار مسکراہٹ گہری کرتے ہوئے قاسم کو کندھوں سے پکڑ کر زبردستی گھاس پر بٹھایا اور خود اسکے سامنے بیٹھ گیا،برقی روشنیاں اس شخص کے چہرے کی خباثت میں اضافہ کر رہی تھیں۔

”تھوڑی دیر سُکون سے ادھر بیٹھو اور میری بات سُنو۔۔مُجھے یقین ہے یہ بات سُن کر تُم بھی پُر سکون ہو جاؤ گے”

اسنے معنی خیز انداز میں کہنا شُروع کیا اس دوران وہ مسلسل اپنی نہ نظر آنے والی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔مُجھے تُم اچھی طرح جانتے ہو اگر نہیں جانتے تو اب ضرور جان جاؤ گے میں تُمہاری فیملی سے اچھی طرح واقف ہوں ایک ایک بات جانتا ہوں میں اُن کے بارے میں۔۔وہ تُمہاری بیوی نائلہ اور اسکی نام نہاد دوست ”انصاری گارمینٹس فیکٹری“کے دو وارسوں میں سے ایک۔۔خاموشی سے میری بات سُنو۔۔،میں تُمہاری اور نائلہ کے نکاح سے پہلے ہونے والے معاشقے سے بھی بہت اچھی طرح باخبر ہوں،میرے پاس تُم دونوں کی نا صرف فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے بلکہ تُم دونوں کا ایک دوسرے کو کیا جانے والا ایک ایک میسج موجود اور محفوظ ہے۔لیکن میرے یارر۔۔اس نے مکروہ مسکراہٹ اچھالی قاسم کے اوپر سے شراب کا نشہ اُتر چُکا تھا۔اور وہ اب پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”تم فکرمت کرو، یہ سب راز ہی رہے گااور یہ تُمہاری مرضی ہو گی کہ تُم اسے راز رہنے دو یا۔۔اپنی بدنامی کے تُم خود ذمہ دار ہوگے،اگر تُم یہ سب کُچھ راز رکھنا چاہتے ہو تومیرے ساتھ تعاون کرو۔بس ایک چھوٹا سا کام ہے۔نائلہ سے کہہ کر اجیہ کا نمبر مجھے دے دووہ اسکی دوست ہے۔دونوں اپنی دوستی کو خاندان والوں سے چھُپاتی ہیں چار سال ہو گئے ہیں انکو دوست بنے ہوئے اور ان چار سالوں میں انکی دوستی ایسی ہو چکی ہے کہ نائلہ کسی بھی صورت تمہیں اسکا نمبر نہیں دے گی،لیکن یہ سوچنا تُمہارا کام ہے کہ یہ کام کیسے کیا جائے اور ہاں اگر تُم یہ سوچ رہے ہو کہ اجیہ کا نمبر کہیں اور سے لے کر دو گے تو وہ تو میں بھی کر سکتا تھا،نائلہ سے ہی اجیہ کا نمبر لینا بہت ضروری ہو گیا ہے میرے لیے “

وہ شخص اپنی بات ختم کر کے اُٹھ رہا تھا آخری بات اس نے بُڑ بڑاتے ہوئے کہی تھی وہ واپس کلب کی روشنیوں میں گُم ہو گیا۔قاسم کتنی ہی دیر بے بسی سے حیران نظروں سے اس دیوار کو تکتا رہا جسکے پیچھے وہ گُم ہوا تھا،سر پر اسکے جُملے ہتھوڑے برسا رہے تھے اسکا ذہن سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس افتاد کے جواب میں وہ کیا کرے۔قریباََایک دو گھنٹے سوچنے کے بعد وہ دھیرے دھیرے چلتا کلب میں داخل ہوا وہاں پر سب ویسا ہی تھا۔بازار گناہ اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔اس نے متلاشی نظروں سے اس شخص کو تلاش کیاجلد ہی وہ اسے نظر آگیا۔تیز قدموں سے چلتے وہ اسکی طرف گیا ور اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ وہ شخص مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکے پاس آیا اور گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا،

”پریشان کیوں ہو پیارے“قاسم نے بغیر کسی تاثر کے اسکا ہاتھ جھٹکا اور بولا،
”مُجھے اپنا موبائل دو،نائلہ سے بات کرنی ہے“
”ہاں ہاں ضرور کیوں نہیں۔۔یہ لو“اس کی عیارانہ مسکراہٹ کے جواب میں وہ صرف خون کے گھونٹ پینے پر اکتفا کر رہا تھا۔

وہ موبائل لے کر واپس لان کے اسی کونے میں آگیا۔کال کرنے سے پہلے اسنے رسٹ واچ پر نظر دوڑائی چار بج رہے تھے۔یہ وقت کسی کو بھی کال کرنے کے لیے انتہائی نا مناسب تھا۔لیکن وہ کیا کرتا۔۔؟؟وہ مجبور تھاایسا مجبور جس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کوئی اس سے چھین کر لے گیا ہو۔پانچویں بار کال کرنے پر نائلہ نے کال ریسیو کی تھی اور شاکڈ رہ گئی تھی وہ وجہ سمجھ سکتا تھا لیکن اس نے نپے تُلے الفاظ میں اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ نائلہ کو اسکا اس وقت کال کرناہی ہضم نہیں ہو گا اور پھر رات کے اس پہر اپنی بیوی کو فون کر کے اسکی دوست کا نمبر مانگنا۔۔کیا زبردست کام تھا جو وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کر رہا تھا،بلکہ کرنے پر مجبور تھا۔اور جو کُچھ نائلہ نے کیا وہ اسکی توقع کے خلاف نہیں تھا اسکے لہجے سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بے خوابی کا شکار ہے اور شاید ابھی ابھی سوئی ہو اور اسنے اسے پھر اٹھا دیا تھا۔

قاسم نے بے اختیار بُری طرح اپنے آپ کو ملامت کی کاش وہ کلب ہی نہ آتا یا پھر وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔اس منہوس دن سے پہلے اسے مر جانا چاہیے تھا۔
”نائلہ سے اب میں کبھی نظریں نہیں ملا سکوں گا “وہ بڑبڑایا۔اس کی پریشانی پہلے سے بڑھ گئی، وہ کسی بھی طرح نائلہ کو یہ سب نہیں بتا سکتا تھا،وہ کیسے بتاتا کہ۔۔

ناصر نے اجیہ کا نمبر مانگا ہے۔

٭٭٭

(جاری ہے….)

Add Comment

Click here to post a comment