جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – بابِ اوّل – قسط نمبر 12




قسط نمبر ۱۲
بابِ اوّل کی آخری قسط

وہ سر جھُکائے تیز تیز لکھے جا رہی تھی ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا دماغ کی اسکرین پر سوالات کے جوابات تیز رفتاری سے آجا رہے تھے،کسی مشین کی مانند چلتا اسکا ہاتھ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی درمیان میں پکڑے قلم سے انہیں ٹیسٹ پیپر پر لکھتا جا رہا تھا کوئسچن پیپر اچھا خاصا لمبا تھا اور ایک گھنٹے سے مسلسل برق رفتاری سے لکھتے لکھتے اسکا ہاتھ درد کرنے لگا تھا۔

صبح ٹیسٹ کے چکر میں وہ ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کر پائی تھی لیکن ذہن سے ہر چیز کو جھٹک کر اندھا دھن سوالات حل کرتے کرتے اسے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہو پایا،جلدی جلدی پیپر کر کے اس نے سر اُٹھاکر ٹیچر کو دیکھا۔
”ایکسیوز می؟؟“اپنا بائیاں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے اسنے انہیں پکارا۔
”جی؟؟“ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلسل کلاس کا راؤنڈ لیتی ٹیچر نے رُک کر اسے دیکھا اور مسکرائیں،
”واٹ ٹائم ازاٹ؟؟“ایک لمحے کو اسے تھکن کا احساس ہوا۔
’’ون اینڈ ہاف آور از لیفٹ“(one and half hour is left)انہوں نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”اوہ۔“اسنے ٹھنڈی سانس لی اور اپنا ہاتھ دبانے لگی۔

”ہاؤ مچ لیفٹ اجیہ؟؟“(کتنا باقی ہے اجیہ(ٹیچر نے سرسسری سا اُسے دیکھا۔
”آئی ہیو ڈن میم۔۔۔‘(I have done)اسکے برابر میں بیٹھی نائلہ نے چونک کر سر اُٹھایاپھر مسکرا کر سر جھُکا کر اور تیزی سے لکھنے لگی۔
”اوہ ،ویل ڈن۔۔“آئی ہوپ سو!!!“(مُجھے اُمید تھی،I hope so)وہ مسکرا کر کہتی پلٹ گئیں۔تین گھنتے کا ٹیسٹ وہ ڈیڑھ گھنٹے میں کر چُکی تھی۔چند لمحے ہاتھ دبا کر اسنے کلائی سے لے کر انگلیوں کی پوروں تک اُٹھنے والی درد کی ٹیسوں کو کم کرنے کی کوشش کی۔ٹیچر اب دوبارہ راؤنڈ لینا شُروع ہو گئی تھیں اس نے ایک نظر سر اُٹھا کر کلاس کا جائزہ لینا چاہا،سب اسٹوڈنٹس سر جھُکائے گہری سوچوں میں گُم تیز تیز لکھنے میں مصروف تھے۔گردن گھُما کر اسنے نائلہ کو دیکھا وہ کوئی ہیڈنگ ڈال رہی تھی اسکے دیکھنے پر اسنے سر اُٹھا کر دیکھا،

”چیک کر لو نا۔۔“ چار لفظ بول کر وہ پھر ٹیسٹ پیپر پر جھک گئی۔
اجیہ نے کوفت سے نیلی روشنائی سے بھرے درجن بھر صفحوں کو دیکھا پھر بلیک مارکر اُٹھا کر ہیڈنگز کے نیچے لکیریں ڈالنے لگی،پندرہ منٹ تک وہ قدرے بیزاریت سے یہ کام کرتی رہی پھر صفحوں کو اوپر تلے ترتیب سے رکھ کر اسٹیپل کرنے کے بعد اسنے انہیں الٹ کر کونے میں رکھ دیا اور انکے اوپر اپنا پاؤچ رکھ دیا۔تھکن اس پر حاوی ہونے لگی تھی۔دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے سامنے ڈیسک پر رکھا یوں کہ ہاتھوں کا پیالہ سا بن گیا۔اس نے ان کے درمیان اپنا سر رکھ لیا۔ سر جھکانے سے بالوں کی چند لٹیں اسکارف سے باہر نکل کر چہرے پر پھسل گئیں۔مگر اسنے انہیں واپس اندر نہیں کیا وہ آنکھیں بند کر کے ہر سوچھا جانے والی تاریکی میں کپچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

آج دوماہی ٹیسٹ(ہر دو ماہ بعد ہونے والے ٹیسٹ (bimonthlyکا آخری پرچہ تھاوہ رات جاگ کر تیاری کرتی رہی تھی اور پھر صبح دس بار دہرا کربغیر ناشتہ کیے وہ اسکول چلی آئی گزشتہ ایک ہفتے سے جب سے یہ ٹیسٹ شُروع ہوئے تھے اسکا یہی معمول تھا،پڑھنی کی رسیا وہ لڑکی پیپر کے دنوں میں اپنی صحت کا خیال بھی نہیں رکھتی تھی۔ماما اسکے پیپرز شُروع ہوتے ہی بُری طرح پریشان ہو جاتیں تھیں بہت مشکلوں سے وہ اسے رات کو ایک گلاس دودھ جیسے تیسے کر کے پلاتیں لیکن اجیہ،اجیہ تھی۔۔پڑھتے وقت وہ نیند کو خاطر میں نہیں لاتی اور پیپرز ختم ہونے کے بعد کم از کم چوبیس گھنٹے مزے سے سوتی رہتی بغیر کھائے پیئے،ایک انتہا پھر دوسری انتہا۔۔۔وہ آر یا پار پر یقین رکھتی تھی۔

اگر پاس ہونا ہے تو فرسٹ پوزیشن لے کر پاس ہو ورنہ معمولی گریڈ لے کر پاس ہونے سے بہتر ہے فیل ہو جاؤ۔وہ بند آنکھوں کے ساتھ ہی زیر لب مسکرائی پھر نائلہ کی آواز پر ذرا سا چونک کر کسلمندی سے آنکھیں کھولیں۔وہ ٹیچر کو کُچھ بتا رہی تھی،شاید اسکا ٹیسٹ ہو گیا تھا۔نائلہ پر ایک نظر ڈال کر اسنے پھر آنکھیں بند کر لیں،وہ خود کبھی فرسٹ پوزیشن سے کم پر پاس نہیں ہوئی تھی،اور اسکول تبدیل ہونے کے بعد یہاں بھی اس نے تمام ہفتہ وار ہونے والے ٹیسٹ فل نمبرز کے ساتھ پاس کیے تھے ، دو مہینوں میں وہ اسکول میں بہت نمایا ں ہو چُکی تھی۔ لیکن ہر چیز میں آگے ہونے والی اجیہ دوستی کے معاملے میں اپنی تنگ نظری نہیں بدل سکی تھی۔ اس کی واحد دوستوں والی بے تکلفی نائلہ سے ہو پائی تھی جسے پہلے دن ہی اسنے اپنا سیل نمبر دے دیا تھا۔مگر ابھی اسنے دل سے نائلہ کو دوست تسلیم نہیں کیا تھا۔

”اجیہ۔۔اجیہ۔۔“نائلہ چہرہ قریب کیے آہستہ سے اسکا شانہ ہلاتے ہوئے سرگوشی میں پکار رہی تھی۔اجیہ نے پلکیں اٹھائیں تو لمحہ بھر کو سامنے کا منظر دھندلا گیا پھر پوری آنکھیں کھول کر خود پر جھکی نائلہ کو دیکھا۔
”بولو۔۔“ وہ بُری طرح بیزار تھی۔
”تمہاری طبیعت کو کیا ہوا ہے؟؟“نائلہ نے ویسے ہی سرگوشی میں کہا۔
”ٹھیک ہے،بھئی سب۔۔۔۔“سر کے نیچے سے ہاتھ نکالتی ہوئی وہ سیدھی ہو گئی۔
”نہیں۔۔تُمہارہ چہرہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟“
”مرنے کی تیاری کررہی ہوں اس لیے۔“اجیہ کوفت سے بولی۔نائلہ ایک لمحے کو ششدر رہ گئی پھر قدرے غصے سے بولی،
”بہت اچھی بات ہے،گُڈ۔۔ایک تو پہلے فکر کرو پھر اوپر سے نخرے بھی سہو۔۔۔“

”تو نہ کرو فکر۔۔کس نے کہا ہے!“اجیہ حسب توقع بھڑک گئی۔نائلہ نے اسے چند لمحے دیکھا پھر مصالحت والی انداز میں آگے ہوئی اور اسکے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھ کر بولی،
”نہیں نا اجیہ،کیوں فکر نا کروں۔۔سوری بتاؤ پلیز کیا ہوا ہے؟؟میں کُچھ کر سکوں شاید؟؟“
”تھکن ہو رہی ہے بہت اور اگر تُم کُچھ کرنا چاہتی ہو تو اپنا منہ بند کر لو۔۔“اس نے تلخ الفاظ نرمی سے ادا کیے،
”اچھا۔۔ ٹھیک ہے“
’’تم ہیڈ ڈاون کرلو کچھ دیر“ وہ نرمی سے بولی تھی۔اجیہ نے اثبات میں سر ہلا کر واپس ہاتھوں کے پیالے میں سر رکھ دیا۔

چند منٹ بعد اس نے سر جھکا کر اجیہ کا چہرہ دیکھنا چاہا وہ پُرسکون انداز میں آنکھیں بند کیے ہوئے سر رکھے ہوئے تھی۔یقینا اسے آرام محسوس ہو ررہا تھا چند لمحے گُزرے،پھر تین چار منٹ گذرے،کُچھ دیر بعد آدھا گھنٹہ گُذر گیا تو ا سنے ہاتھ اٹھا کر اجیہ کا شانہ ہلایا۔وہ ہلی تک نہیں۔۔اس نے پھرزور زور سے بازو ہلایا تب بھی اجیہ نے جُنبش نہ کی ذرا حیران ہو کر جُھک کراس نے اجیہ کے گال تھپتھپائے اب کی بار اجیہ نے اپنے گال سے اسکے ہاتھ ہٹائے اور ویسے ہی آنکھیں بند کیے بڑبڑائی۔۔

”سونے دیں نا آپی پلیز۔!
”ارے۔۔“لبوں پر مسکراہٹ روک کر وہ سیدھی ہو گئی،پندرہ منٹ مزید گُزرے تو ٹیسٹ کا وقت ختم ہونے کی بیل بج گئی ٹیچر باری باری سب سے پیپر لینے لگیں،اجیہ اور نائلہ کے ڈیسک پر آئیں تو نائلہ نے ہی اجیہ کا پیپر اُٹھا کر دے دیا پھر اپنا دیا اور ایک مسکراتی نظر اجیہ پر ڈالی،
”سوتے ہوئے کتنی معصوم لگتی ہے یہ۔۔“اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکارف سے نکلتے اسکے بال اندر کرنا چاہے لیکن وہ پھر باہر آگئے دوسری بار اندر کرتے ہوئے اسکے ہاتھ کا لمس ذرا سا سخت ہوا اور اجیہ نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔

چند لمحے ایک ہی پوزیشن پر رہی پھر چونک کر سیدھی ہو گئی آنکھیں رگڑیں اور نائلہ کی طرٖف رُخ کر کے خالی نظروں سے کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی۔۔پھر ذہن میں سب واپس آنے لگا۔۔میں سو گئی تھی۔۔ہید ڈاؤن تھی۔۔۔۔۔ٹیسٹ کر رہی تھی۔۔
”اور ٹیسٹ!۔۔میرا ٹیسٹ پیپر کہاں گیا؟؟“وہ قدرے بدحواسی سے ادھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوئے نائلہ کو دیکھ کر بولی۔
”ڈونٹ وری۔۔میں نے ٹیچر کو دے دیا ہے“نائلہ کی آنکھوں میں گہری مسکراہٹ تھی۔
”فائن۔۔“اسے جیسے ڈھیروں اطمینان ہوا۔چہرے کا رُخ موڑ کر اس نے کلاس کا جائزہ لیا لڑکے لڑکیاں لنچ کرنے کے لیے باہر جا رہے تھے۔پھر کُچھ یاد آنے پر اسنے نائلہ کو دیکھا،وہ اب اپنا پاؤچ پیک کر رہی تھی۔

”نائلہ۔۔۔۔“دھیما سا اُسے پکارا۔
”ہوں؟؟“مصروف جواب آیا۔
”لنچ کرنے چلیں؟؟“
”ہاں۔۔بس یہ پیک کر لوں“
اس نے آخری چند چیزیں اُٹھا کر بیگ میں ڈالیں،اور زپ بند کرتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔
”چلیں ؟ “اجیہ کو دیکھ کر اسنے کہا۔وہ دونوں کلاس سے ایک ساتھ باہر آئیں،پھر گول سیڑھیاں عبور کر کے لاؤنج کراس کیا،ذرا سا گھوم کر وہ گراؤنڈ میں داخل ہوئیں جس کے کونے میں کینٹین تھی۔آہستہ آہستہ چلتے وہ دونوں اس تک آئیں پھر رش جمع دیکھ کر وہاں سے پلٹیں اور کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھ گئیں۔
”نیند پوری ہو گئی؟؟“چند لمحے کی خاموشی کے بعد نائلہ نے مسکرا کر پوچھا۔

”نیند۔۔اجیہ کے چہرے پر اُلجھن تھی
”ہاں نا نیند۔۔کلاس میں سونے کو بھی نیند ہی کہیں گے نا؟“
”نہیں بیٹا اسکو آنکھ جھپکنا کہتے ہیں۔۔“نائلہ کی شرارت کو محسوس کر کے وہ اپنی ماما کی طرح بولی۔۔
”واؤ۔۔بیٹا؟؟؟ تمہیں مذاق کرنا بھی آتا ہے۔؟“
”تو تمہیں میں چڑیل لگتی ہوں۔۔؟“مصنوعی خفگی سے وہ تیوری چڑھا کر بولی۔
”ارے،بالکل نہیں۔۔تُم جیسی حور پری کو میں چُڑیل کیوں سمجھنے لگی۔۔؟“نائلہ کی سنجیدگی بھی مصنوعی تھی۔
”نائلہ۔۔“اسنے تادیبی نظروں سے اسے گھورا۔

’‘اچھا اچھا۔۔آل رائٹ!“نائلہ نے جلدی سے دونوں ہاتھ اُٹھا دیئے۔وہ ہنس پڑی۔آس پاس کی کرسیوں پر ہنستی مسکراتی لڑکیوں کے گروپس بیٹھ رہے تھے۔گراؤنڈ کے واحد درخت کے نیچے دو کرسیاں خالی پڑی تھیں۔درخت کی شاخیں دور دور تک پھیلی تھیں۔
’’اجیہ۔۔؟؟“
”ہوں!“اجیہ نے اسے دیکھے بغیر کہا وہ آسمان پر بہت دور اُڑتے عقاب کو دیکھ رہی تھی۔
”تمھاری تھکن ختم ہوگئی اب؟“
”ہاں۔۔“

عقاب کسی چھوٹے پرندے کے پیچھے تھا،وہ پرندہ اپنی جان بچانے کے لیے شاید زندگی میں پہلی بار اتنی تیز رفتاری سے اُڑ رہا تھا بہت تیزی سے۔۔بار بار نڈھال ہوتے وجود کو سنبھالتے،پروں کو پھڑ پھڑاتے وہ جان بچانے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی تمام تر تیز رفتاری بھی عقاب کی معمولی رفتار کے مقابلے میں کُچھ نہ تھی کیونکہ وہ عقاب کا شکار تھا،اگر اسکے پاس بھی عقاب کی سی رفتار ہوتی تو وہ عقاب نہ بن جاتا۔!!۱لیکن وہ پرندہ اپنے آپ کو آزما رہا تھا شاید۔۔اسکی موت پیچھے پیچھے تھی اور وہ بُری طرح موت سے بھاگ رہا تھا۔۔لیکن کب تک۔۔چند لمحوں بعد وہ نڈھا ل ہو گیااپنے آپ کو سنبھالتے سنبھالتے تھک گیا تو بس ذرا سی دیر کے لیے رُکنا چاہا محض ایک پل کے لیے ہمت ہارنی چاہی اور وہ ایک لمحہ اسکی زندگی کے خاتمے کا سبب بن گیا۔بس ایک ساعت کی غفلت نے اس کو موت کے دامن میں پہنچا دیا۔۔صرف رُک جانے کی خواہش نے اسکی محنت پر پانی پھیر دیا۔۔بس اتنی سی آرزو نے۔۔!!

”اجیہ ۔۔“نائلہ نے ہولے سے اسکا گھُٹنہ ہلایا۔
”ہاں۔۔ “”تُم بڑے ہو کر کیا بنو گی۔۔؟؟“


(جاری ہے ۔۔۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں