Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر38
ناول

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب چہارم – قسط نمبر38

اور تب الیاس کی مکروہ مسکراہٹ سے وہ ڈر گئی تھی،

اس کے بعد سے الیاس ذیادہ تر گھر سے باہر رہنے لگا تھا ایسا لگتا تھا وہ کسی چکر میں ہے اور پھر ایک رات جب یو اے ای کے گر م موسم کی گرم حدت اپنے عروج پر تھی تب وہ اپنے سامان پیک کرکے صبا کے پاس آیا تھا اور اسکی باتوں نے اسکا وجود شل کر دیا تھا،

”صبا مجھے معاف کرنا میں کینیڈا جا رہا ہوں تم نے جو پیسے مجھے دئیے تھے انہوں نے میرا کام بہت آسان کر دیا ہے اسکے لیے تمھارا شکریہ،اصل میں میں نے وکٹوریا سے شادی کر لی ہے اور اسکے ساتھ کینیڈا جا رہا ہوں تم اپنی زندگی خود گزار لو۔۔ بائے“ اور و ہ رات کس قدر ٖڈراؤنی تھی جب اسنے اپنے بیڈ پر خود میں سمٹ کر خوف سے کانپتے ہوئے وقت گُزارا تھا اور اس رات وہ کتنا روئی تھی۔۔۔۔ وقت کی ستم ظریفی پر۔۔۔۔بھائی کی خود غرضی پر۔۔۔۔۔قدرت کی سنگ دلی پر۔۔۔یا شاید۔۔۔اپنی بے وقوفی پر۔۔۔۔۔، لیکن پھر اس رات نے اسے بہت بہادر بھی بنا دیا تھا، یا شاید اس حقیقت کے انکشاف نے۔۔۔۔کہ بیس سا ل کی اس کمزور لڑکی کو اب اپنی زندگی خود ہی گزارنی ہے۔۔۔

اور پھر۔۔۔ جاب ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ گزر بسر کے لیے گھر کا ساما ن فروخت کرتی رہی تھی، اور یوں ہی گزرتے دنوں کی سختی نے اسے بہت خود دار بنا دیا تھا۔۔۔، انہی دنوں کی بات ہے جب سُپر اسٹور پر گھر کے لیے گروسر ی خریدتے ہوئے اسکی ملاقات اس اسمارٹ سے لڑکے سے ہوئی تھی جس نے اپنا نام ناصر بتایا تھا۔۔ اس غیر انسان سے اسے عجب قسم کے تحفظ کا احساس ہوتا تھا، لیکن اسکے باوجود و ہ بہت محتاط انداز میں اس سے باتیں کرتی تھی اور کم کم ملا کرتی تھی، کیونکہ وقت کے حوادث نے اسکے لاشعور میں نا محسوس سا خوف بٹھا دیا تھا۔۔۔۔ خود میں ہی گم رہنے والی وہ لڑکی اس سب کے باوجود ناصر سے کبھی کبھار ملنے جایا کرتی تھی۔۔۔ کیونکہ اسکی آنکھوں میں اسے اپنے لیے و ہ شدتیں نظر آتیں تھیں جن کے لیے وہ تڑپ گئی تھی، او ر پھر وہ دن۔۔۔۔ جب ناصر نے اسے پرپوز کیا تھا،

”صبا،کیا تم مجھ سے شادی کرو گی۔۔۔۔۔؟“

اس دن وہ گھر آ کر کتنا روئی تھی، زندگی میں اتنے حادثات اور دکھوں کے بعد اسنے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ وہ کبھی شادی بھی کرے گی،
اور پھر اگلے دن جب وہ جھکی جھکی نگاہوں سے اس نے ناصر کو ہاں میں جواب دیا تھا تب ناصر کے چہرے پر رقصاں الوہی خوشی نے اسے اپنے فیصلے پر گہرا اطمینان عطا کیا تھا۔۔۔ شادی کے بعد ناصر نے اسکا گھر اسکی رضا مندی سے بیچ کر پیسے اسکے اکاؤنٹ میں ڈلوا دئیے۔۔۔
اور جب ناصر اسے پری کہا کرتا تھا تب اسے وہ سب جو گُزر گیا تھا،ایک بھیانک خواب کی طرح بھول جانے کو دل چاہتا تھا۔۔ لیکن سب کُچھ بھلانا تو آسان نہیں ہوتا نا۔۔! اور پھر ایک دن اسے نا معلوم فیکس ملا تھا جس میں لکھے گئے الفاظ نے اسے ایک بار پھر بہت پہلے اس رات کی تاریکی میں پہنچا دیا تھا، جب الیاس اسے۔۔ اپنی بہن کو تنہا چھوڑ کر چلا گیا تھا، وہ فیکس۔۔!

”الیاس انصاری منشیات فروخت کرتے تھے،انکی قریبی عزیز وکٹوریا عرف وکی اس گروپ کی ہیڈ تھی جس میں الیاس کو جھانسے سے لایا گیا تھا ان دونوں سے کسی کی دُشمنی پیدا ہونے کی وجہ سے انکی مخبری ہو گئی اور پولیس کے چھاپہ مارنے سے پہلے وہ دونوں خود کشی کر چکے تھے۔“
تب ناصر سے لپٹ کر وہ بہت روئی تھی، بہر حال اس وقت محبت کرنے والا شوہر تو اسکے ساتھ تھا نا۔۔ تو یہ تھا اسکے عزیز ترین بھائی کا انجام۔۔بلکہ نہیں۔۔۔۔ یہ تو اس شخص کا انجام تھا جو اپنی بہن کو ماں باپ کے مرنے کے بعد اکیلا چھو ڑکر کینیڈا چلا گیا تھا۔۔۔ کب اسنے سوچا تھا کہ وہ بھائی۔۔ جو بچپن میں اسکے لیے کھلونے لایا کرتا تھا،اپنے حصے کی آئس کریم اسے دے دیا کرتا تھا، وہ ایک دن اپنی بہن کو تنہا کر دے گا اس وقت جب ایک بہن کو اپنے بھائی کی اشد ضرورت ہوا کرتی ہے۔۔ اور یہ بھی تو کیسی بات تھی۔۔۔ کہ اسے چاہنے والے بھائی۔۔۔خود غرض بھائی کا انجام خود کشی تھا۔۔۔! اس وقت ان دنوں بھی ناصر اسکا اللہ تعالیٰ کے بعد دوسرا بڑا سہارا ہوتا تھا۔۔۔۔،

اور وہ وقت جب۔۔۔اسے پتہ چلا تھا کہ وہ ماں نہیں بن سکے گی۔۔۔تب کس قدر تڑپ کرتکیے میں منہ چھپا کر وہ ہر وقت روتی رہتی تھی۔۔۔۔ وہ احساس کہ زندگی مجھے دکھ دینا کبھی ختم نہیں کرے گی۔۔۔ یہ احساس اسکے لیے سوہان روح ہوا کرتا تھا۔۔۔۔ تب بھی ناصر کی محبت کے اعتماد نے نے ہی اسے زندگی کی طرف واپس بلایا تھا۔۔۔۔۔ ایک ایک قدم پر ہاتھ تھام کر مسافتیں طے کرنے والا شوہر اسکے لیے بہت قیمتی بن گیا تھا، کتنی پریشانی سے بوکھلائے بوکھلائے سے انداز میں ناصر اسے تسلی دینے کی پوری کوشش کیا کرتا تھا،

”صبا،رو مت،یہ سب تو قدرت کے کھیل ہوتے ہیں،خدا کی مرضی ہوتی ہے۔۔ہم تو کُچھ نہیں کر سکتے نا۔۔۔خود کو اتنا ہلکان مت کرو۔۔دیکھو میں تمھارا علاج کرواؤں گا۔۔۔فکر نہ کرو۔۔۔پھربھی نہ کُچھ ہوا تو یہ مت سمجھنا کہ تمھاری اہمیت میری زندگی میں ختم ہو جائے گی۔۔میں نے تم سے اولاد کے لیے شادی تھوڑی نہ کی تھی جو یوں روتی رہتی ہو۔۔اس میں تمھارا کیا قصور ہے جو مجھ سے اتنی شرمندہ رہتی ہو۔۔۔“

اور تب اسے احساس ہوتا کہ ناصر اسے واقعی بہت ذیادہ جانتا ہے۔۔ہر ہر کیفیت کو آنکھوں میں پڑھ لیتا ہے۔۔اسے اتنی تسلیاں دینے کے بعد بھی جب وہ ہچکیاں لینا بند نہیں کرتی تھی تب وہ غصے سے کشن اس پر پھینک کر چلاتا،
”صبا اب اگر تم نے رونا بند نہیں کیا نا تو میں کھانا نہیں کھاؤں گا“ اور وہ بے اختیار اسکے انداز پر مسکرا کر ہنسنے لگتی تھی۔ ناصر کے ساتھ گزارے ہوئے پانچ سال بہت نایاب تھے اسکی زندگی میں۔۔!

٭٭٭

کھڑکی سے ہوا کا ٹھنڈا خوشگوار جھونکا اسکے چہرے کو چھو کر گزر گیا اسنے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھولیں، اب اسے پاکستان جانے کی تیاریاں کرنی تھیں ایک لمحے کے لیے اسنے سوچا کہ پاکستان میں نازیہ کو اطلاع کر دے،لیکن اتنے سال بعد پتہ نہیں اسے یاد بھی ہو یا نہیں۔۔۔۔،

ان تمام حالات کا تو ان لوگوں کو نہیں معلوم ہو گا نا۔۔۔۔۔ آج بہت عرصے بعد اسکا دل چاہ رہا تھا کہ نازیہ سے بات کرے۔ وہ کہنی کے سہارے اُٹھی اور دوپٹہ گلے میں ڈال کر اپنا لیپ ٹاپ لے کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی، چند لمحے لگے تھے اسے،اسکرین روشن ہونے کا انتظار کرنے میں۔۔۔ اسنے بیڈ کی پشت سے سر ٹیک دیا، گھر کے ایک ایک در و دیوار سے یادوں کا سیلاب نکلتا محسوس ہوتا تھا، بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے لیپ ٹاپ اپنے زانوں پر رکھے وہ لا شعوری طور پر ایک بار پھر پیچھے چلی گئی۔۔۔ ایک منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اسکے حواسوں پر چھاتا گیا۔۔۔، اس صبح سور ج آسمان پر بار بار بادلوں کی اوٹ میں چھپ رہا تھا موسم خوش گوار سا ہو گیا تھا، ناصر بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے بہت توجہ سے کام کر رہا تھا، اسکی متحرک انگلیاں بہت تیزی سے مطلوبہ لیٹر ٹائپ کرنے میں مصروف تھیں،پیشانی پر شکنیں پڑی ہوئیں تھیں اور پوری توجہ اسکرین پر تھی، سوچ سوچ کر کام کرنے میں وہ اس درجہ غرق ہو گیا تھا کہ صبا کے آنے کا بھی اسے پتہ نہ چلا،

ان دونوں کی شادی ہوے ابھی تین مہینے ہی ہوئے تھے،صبا اسے مصروف دیکھ کر آہستگی سے چلتی ہوئی اسکے قریب برابر میں آ کھڑی ہوئی،
ناصر کو پہلی بار وہ کسی کام کے لیے کہنے آئی تھی لیکن اسے مصروف دیکھ کر بے نام سی جھجھک محسوس ہو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے وہ اپنی با ت کہے، ناصر نے بھی کوئی توجہ نہیں دی تھی یا پھر اسے صبا کے آنے کا پتہ ہی نہ چلا تھا۔بہت عرصے بعد صبا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ڈھیر ساری شاپنگ کرے بہت پہلے پاپا نے اسے اپنے انتقال کے پہلے شاپنگ کروائی تھی اور پھر اسکے بعد سے اسکا دل ہی ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا،اور اب اسکا دل کر رہا تھا تو ناصر مصروف تھا وہ بس اس سے پیسے لینا چاہتی تھی،جب بہت دیر تک اسے ناصر نے توجہ نہیں دی تو خود ہی آہستگی سے اسکے قریب بیٹھ گئی،لیکن ناصر نا جانے کیا کام کر رہا تھا اس پر بھی اسے نظر اُٹھا کر نہیں دیکھا۔۔

”ناصر۔۔۔۔َ؟؟“ بالآخر اسنے پکارا، ناصر نے سر اوپر اُٹھایا تھا۔۔پیشانی کی شکنیں پل بھر میں غائب ہوئیں تھیں،لبوں پر مسکراہٹ ابھری تھی لیکن اسکی آنکھیں تھکی تھکی سی تھیں،
”ارے۔۔۔صبا۔۔!کب آئیں۔۔؟“ کب سے آئی ہوں میں۔۔۔تمھیں اپنے کام سے فرصت ہو تب میرے آنے کا پتہ چلے گا نا۔۔۔!“ وہ خفا خفا سے انداز میں بولی، ناصر اسکی توقع کے مطابق لیپ ٹاپ بند کر رہا تھا،اسے بیڈ پر رکھ کر وہ آگے آیا،
”کیسی با ت کر رہی ہو۔۔۔بس ذرا یہ ضروری لیٹر تھا“
”نہیں،مجھے بس تھوڑا سا کام ہے،تم کر لو اپنا کام!“وہ دھیما سا مسکرائی،
”اچھا کیا کام ہے؟؟“
”مجھے شاپنگ کرنی ہے۔۔۔!!“

”شاپنگ۔۔۔!“ وہ بے اختیار وہ ہنسا،
”ہاں،شاپنگ کرنی ہے،لیکن تم تو مصروف۔۔۔۔!“
”تو اس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔چلو چلتے ہیں۔۔۔!!“ اب وہ اسکے ہاتھوں کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ رہا تھا،
”نہیں تم اپنا کام کر لو۔۔میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔۔!“
”سچ میں چلی جاؤ گی؟مشکل تو نہیں ہو گی؟“
”نہیں ناصر مجھے اسکی عادت ہے۔۔!“ ایک لمحہ کے لیے اسکا لہجہ اداس ہو گیا،
”نہیں صبا میں خود لے کر چلوں گا،وہ وقت گزر گیا جب تم اکیلے سارے کام کر لیا کرتی تھی چلو ریڈی ہو جاو۔۔۔ابھی چلتے ہیں۔۔“ صبا نے تشکر سے اسے دیکھا،بعض انسان بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔۔! وہ مسکرادی،

”تھینک یو ناصر۔۔۔!“ وہ بھی مسکرا دیا،
”اچھا چلو اب تیار ہو جاؤ۔۔۔!!“ اور پھر اس دن اسنے جی بھر کر ڈھیروں شاپنگ کی تھی، ناصر نے اسے کسی چیز کے لیے نہیں روکا تھا اور آخر میں انہوں نے رسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا۔۔!
گہری سانسیں لے کر اسنے آنکھیں کھول دیں، افسردگی سے کشن اُٹھا کر اپنے سامنے رکھا اور لیپ ٹاپ کشن پر رکھ کر وہ سوشل میڈیا کھولنے لگی، نازیہ کا کوئی نمبر اس کے پاس نہیں تھا۔ میسنجر پر نازیہ کو کچھ پیغامات بھیج کر اس نے اپنی کتاب کھول لی۔ کھڑکی کے دوسری طرف سورج کی حدت بڑھ گئی تھی، لان میں مالی گرمی سے جھلستے پودوں کو پانی دے رہا تھا۔۔ در و دیوار یوں ہی ادا س تھے،گھر پر ہمیشہ کی طرح سناٹا چھایا ہوا تھا بوڑھی ملازمہ کچن میں کھانے کی تیاری کر رہی تھی ایک فرد کا کھانا پکاتے ہوئے وقت ہی کتنا لگتا ہے۔۔ کچھ دیر کتاب پڑھ کر اس کی سوچوں کا دھارا دوبارہ ناصر کی جانب مڑ چکا تھا۔

”آخر کب تک انتظار کروں اسے رابطہ تو کرنا چاہیے تھا مجھ سے۔۔تم بہت برے ہو ناصر۔۔مجھے کیوں بھول گئے ہو۔۔میں آ رہی ہوں اور تمھیں ڈھونڈ لوں گی۔۔پھر کبھی تمھیں کہیں جانے نہیں دوں گی“ اداسی سے سوچتے ہوئے اس نے لیپ ٹاپ بند کیا۔ دوپٹہ اُٹھا کر گلے میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکل گئی،

کھانا کھانے کے لیے۔۔۔۔
اب بھوک لگ رہی تھی۔۔۔

٭٭٭

(جاری ہے ….)